بریکنگ نیوز
Home / کالم / جوہری ارتقاء اور خطرات!

جوہری ارتقاء اور خطرات!


کیا آنے والے دور میں کوئی بھی جنگ ’جوہری ہتھیاروں‘ سے ہوگی؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو نہ صرف جوہری بم استعمال کرنے والا ملک بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی اِس کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ آج کی دنیا میں کسی ملک کے پاس ’جوہری بم‘ ہونا زیادہ بڑی بات نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ملک ہونے کا ثبوت دینا زیادہ اہم بات ہے۔ ’’امریکہ کے بعد بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جس نے ری ایکٹر گریڈ پلوٹونیم سے بنے جوہری ہتھیار کا تجربہ کیا ہے۔‘‘ یہ بات تحقیقی مقالے میں کہی گئی ہے جس میں بھارت کی غیر محفوظ سویلین جوہری تنصیبات کو دیگر ممالک کے لئے تشویش کا باعث بھی قرار دیا گیا ہے۔ انڈیاز نیوکلیئر ایکسیپشنلزم کے نام سے شائع ہونے والے اس مقالے کو امریکہ کے ہارورڈ کینیڈی سکول کے بیلفر سینٹر برائے سائنس اینڈ انٹرنیشنل افیئرز کی جانب سے جاری کیا گیا۔اس پیپر میں نشاندہی کی گئی سال دوہزار آٹھ میں بھارت نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی(آئی اے ای اے)کو جمع کرائی جانے والی رپورٹ میں اپنے جوہری پروگرام کے انوکھے ہونے کا اعتراف کیا تھا اور بتایا تھا بھارت میں تین طرح کی جوہری تنصیبات ہیں۔

سویلین سیف گارڈ‘ سویلین ان سیف گارڈڈ اور ملٹری۔ بھارت کے جوہری ذخائر میں پانچ اعشاریہ ایک ٹن علیحدہ سے رکھے ہوئے ری ایکٹر گریڈ پلوٹونیم بھی شامل ہیں جنہیں بھارت سٹرٹیجک ریزرو قرار دیتا ہے۔اس کے علاوہ آٹھ مقامی پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹرر(پی ایچ ڈبلیو آرز)‘ انڈیاز فاسٹ بریڈر ٹیسٹ ری ایکٹر(ایف ٹی بی آر) اور پروٹو ٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹرز (پی ایف بی آر) شامل ہیں۔اس کے علاوہ بھارت کی دیگر جوہری تنصیبات میں یورینیم کو افزودہ کرنے والی تنصیبات‘ استعمال شدہ ایندھن کو ری سائیکل کرنے کے پلانٹ‘ ایک سو میگاواٹ کا دھروا ون پروڈکشن ری ایکٹر‘ ایڈوانسڈ ہیوی واٹر ری ایکٹر‘ تین ہیوی واٹر پروڈکشن پلانٹس اور متعدد فوج سے وابستہ پلانٹس شامل ہیں۔ مقالے میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ انیس سو باسٹھ میں امریکہ نے ایک جوہری ہتھیار کا کامیاب تجربہ کیا تھا جس میں ویپن گریڈ پلوٹونیم کی جگہ فیول گریڈ پلوٹونیم استعمال کیا گیا تھا اور اس سے بیس کلو ٹن سے کم توانائی کا اخراج ہوا تھا۔ امریکہ کے بعد ری ایکٹر گریڈ پلوٹونیم کو استعمال کرتے ہوئے جوہری ہتھیار بنانے کا تجربہ دنیا میں صرف ایک ملک نے کیا ہے اور وہ بھارت ہے۔ پیپر کے مصنف منصور احمد لکھتے ہیں کہ بھارت دو محاذوں پر پاکستان اور چین سے جنگ کے تناظر میں اپنی روایتی اور سٹریٹجک جوہری قوت کو جدید کرنے کے لئے مستقل طور پر کام کررہا ہے۔ بات روایتی اسلحہ کی ہو یا نیوکلیئر پروگرام جیسے غیر روایتی اسلحہ کی‘ اس سمیت کسی بھی شعبے میں ارتقاء کو روکنا ممکن نہیں۔ امریکہ نے دوسری جنگ عظیم میں ایٹم بم بنایا اس کا تجربہ کیا اور اسے آزما بھی لیا۔

امریکہ نے اسی پر بس نہیں کیا‘ اپنے ایٹمی پروگرام میں نئی سے نئی جدت لائی گئی اور اُنیس سو باسٹھ میں ویپن گریڈ پلوٹونیم کی جگہ فیول گریڈ پلوٹونیم استعمال کیا گیا۔ امریکی نیوکلیئر پروگرام میں مزید جدتیں بھی پیدا کی گئیں‘ اس نے اپنی ایٹمی پروگرام کی استعداد اور ہتھیاروں کی مقدار اور تعداد میں بھی اضافہ کیا۔ ارتقاء اسی کا نام ہے۔ بھارت کے مقابلے ’پاکستان ایک پرامن ملک ہے۔‘ اس کے کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں لیکن یہ بات دنیا کو باور کرانے کے لئے پاکستان کو سفارتکاری پر زور دینا ہوگا۔ دنیا کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ بھارت پاکستان دشمنی میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ حالیہ مہینوں پاکستان اور بھارت کے مابین ایک دوسرے کے ملک کی نیوکلیئر انسٹالیشن اور ایٹمی تنصیبات پر حملہ نہ کرنے کے حوالے سے اُنیس سو اٹھانوے میں طے پا جانے والے باہمی معاہدے کے تحت جب پاکستان اور بھارت نے ایک دوسرے کی نیوکلیئر انسٹالیشن کی فہرستوں کا تبادلہ کیا تو بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک کے علاقے چلاگیرے میں قائم خفیہ نیوکلیئر انسٹالیشن بھارتی فہرست میں شامل نہیں کی گئی جس پر پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارت میں خفیہ نیوکلیئر سٹی کی موجودگی اور وہاں ہائیڈروجن بم اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی تیاری کا انکشاف کرتے ہوئے بھارتی اقدام پر تشویش کا اظہار کیا اور اسے نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لئے بھی خطرہ قرار دیا۔اس سے قبل امریکی جریدے نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ بھارت کرناٹک کے علاقے چلاگیرے میں ایک نیوکلیئر سٹی تعمیر کررہا ہے جو برصغیر میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا جوہری شہر ہوگا۔ یہ منصوبہ دوہزار سترہ کے اختتام تک پایۂ تکمیل تک پہنچ جائے گا جہاں قائم ایٹمی ریسرچ لیبارٹریوں میں یورینیم کی افزودگی کرکے جوہری ہتھیاروں میں خاطر خواہ اضافہ اور ہائیڈروجن بم جیسے ایٹمی ہتھیار بنائے جائیں گے۔

اتنا اہم انکشاف منظر عام پر آنے کے باوجود اقوام متحدہ‘ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے بھارت کے خلاف کوئی بات نہیں کی جبکہ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے کے لئے پاکستان پر مسلسل دباؤ ڈالتی رہیں اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ’’اسلامی بم‘‘ کا نام دے کر پوری دنیا میں منفی پروپیگنڈہ کیا گیا امریکہ بھارت کا حمایتی ہے جو اِسے سلامتی کونسل کا رکن بنانے کے لئے حد سے زیادہ ’بے چین‘ دکھائی دیتا ہے اور وہ بھارت کو ’نیوکلیئر سپلائر گروپ کا رکن بنانے کی حمایت کر رہا ہے۔ بھارت کے بڑھتے ہوئے جنگی جنون‘ ایٹمی ہتھیاروں اور بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی تیاریوں سے خطے میں طاقت کا مزید توازن بگڑنے کا اندیشہ ہے جس سے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ اگر اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں نے بھارتی جنگی جنون کو کنٹرول نہ کیا تو اس کا خمیازہ مستقبل میں اُنہیں بھی بھگتنا پڑے گا۔(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: اکبر ایس خان۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)