بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پاک افغان زمینی سروے

پاک افغان زمینی سروے


پاکستان اور افغانستان کے درمیان ارضیاتی سروے پر اتفاق کے بعد خبر رساں ایجنسی کے مطابق دونوں ملکوں کی جیولوجیکل ٹیموں نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا‘ سروے کا فیصلہ گزشتہ روز ہونے والی فلیگ میٹنگ میں ہوا جس میں دونوں جانب سے سروے ماہرین نے بھی شرکت کی‘ پاک فوج کے کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرزمین اور علاقے کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ کمانڈر سدرن کمانڈ کا کہنا ہے کہ نادان رویہ افغانستان کے حق میں نہیں پاکستان آنے کی کوشش پر ہمیں افغانستان کی چار سے پانچ پوسٹیں تباہ کرنا پڑیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افغان فورسز کو اپنی نادانی پر شرمندگی ہونی چاہئے۔ دوسری جانب دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کے قیام کیلئے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم کوشش کریں گے کہ جنگجو دھڑے مذاکرات کی میز پر آجائیں اس مقصد کیلئے افغان حکومت کو بھی مذاکرات کا ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ اس سب کے ساتھ پاکستان نے واضح کردیا ہے کہ جب بھی سرحدی خلاف ورزی ہوگی تو ہمارا ردعمل کیا ہوگا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان بارڈر مینجمنٹ کو ناگزیر قرار دیا جاتا ہے اس مینجمنٹ کے دو پہلو بتائے جاتے ہیں ایک تو یہ کہ افغانستان اپنی جانب کام کرے اور پاکستان اپنی جانب وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کی افغانستان کے حنیف اتمر کے ساتھ بات چیت میں دونوں ملکوں نے بارڈر مینجمنٹ پر اتفاق کیا تھا ‘جہاں تک چمن کے واقعہ کا تعلق ہے تو پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے اس کی سرحدوں کی خلاف ورزی پر جو اقدامات اٹھانے تھے وہ اٹھائے گئے اس کے ساتھ یہ بھی باور کرا دیا گیا ہے کہ جب بھی ایسی خلاف ورزی ہوگی اس پر ہمارا کیا جواب ہوگا جہاں تک پاکستان کی پالیسی کا تعلق ہے تو اس میں پرامن ہمسائیگی کا وژن شامل ہے اور پاکستان اپنی یہی پالیسی لے کر چلنا چاہتا ہے افغان حکمرانوں کو خود صورتحال کا ادراک کرنا چاہئے۔

اعداد و شمار اور حقائق

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایشیائی بینک کے اجلاس اور جاپان کے ڈپٹی وزیراعظم کے ساتھ بات چیت میں وطن عزیز کی معیشت کا جو خاکہ پیش کیا ہے اس کے ثمرات عوام تک پہنچنا سوالیہ نشان ہے وزیرخزانہ کا کہنا ہے کہ ٹیکس کی وصولی بڑھ گئی ہے ‘ افراط زر کم ترین سطح پر ہے جس کیساتھ ہی مہنگائی کا گراف بھی نیچے ہی گیا‘ وزیر خزانہ ایک عالمی رپورٹ کی روشنی میں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان 2030ء میں جی 20ممالک میں شامل ہو گا جاپان میں منعقدہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے 50 ویں سالانہ اجلاس کو تو یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان میں میکرو اکنامک کے حوالے سے استحکام آیا ہے۔

یہ سب اعداد وشمار مہیا دستاویزات کی روشنی میں بالکل درست اور قابل اطمینان ہیں ‘ دوسری جانب وطن عزیز میں مہنگائی کے طوفان نے غریب اور متوسط شہریوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ‘ بے روزگاری عام مسئلہ بن چکی ہے ‘ بنیادی شہری سہولیات کا فقدان ہے لوڈشیڈنگ اذیت ناک صورت اختیا رکر چکی ہے حکومت کے ذمہ داروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اعداد و شمار میں کامیابیوں کے ثمرات بھی شہریوں تک پہنچانے کا انتظام کریں بصورت دیگر سب صرف سرکاری فائلوں ہی میں رہے گا اور سیاسی قیادت کے پاس انتخابی مہم میں پیش کرنے کو کچھ نہیں ہو گا۔