بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / وقت کا صحیح استعمال

وقت کا صحیح استعمال


والوو (Volvo) سویڈن کی بنی ہوئی گاڑیاں ہیں۔ کسی زمانے میں اسکی بسیں کراچی کی سڑکوں پر رواں دواں ہوتی تھیں۔ والوو گاڑیاں محفوظ سفر کیلئے مشہور ہیں خواہ وہ موٹر کاریں ہوں یا بسیں اور ٹرک‘ ولیم نے چند سال قبل اس کمپنی میں ملازمت شروع کی۔ ان کے ایک دوست ہر صبح ولیم کو ان کی رہائش سے گاڑی میں لیتے اور فیکٹری پہنچ جاتے۔ تاہم ولیم نے دیکھا کہ اسکا میزبان ہمیشہ گاڑی فیکٹری کے مین گیٹ سے کافی دور پارک کرتے اور اُسے لے کر پیدل چلتے ہوئے فیکٹری میں پہنچتے۔ چند دن تک تو ولیم نے برداشت کیا لیکن آخر کار پوچھ ہی بیٹھا کہ وہ کیوں گاڑی گیٹ کے پاس نہیں پارک کرتا۔ میزبان نے مسکرا کر کہا کہ اس فیکٹری میں دو ہزار ملازمین اپنی گاڑیوں میں آتے ہیں۔ ہم چونکہ وقت سے پہلے آتے ہیں اس لئے ہمارے پاس وقت ہوتا ہے کہ چہل قدمی بھی کرلیتے ہیں اور گیٹ کے قریب پارکنگ ان ورکرز کیلئے چھوڑ دیتے ہیں جو ذرا لیٹ آتے ہیں تاکہ وہ جلدی کام کی جگہ پہنچ جائیں۔ یہ سویڈن کی زندگی کا ایک رخ ہے۔ یورپ اور امریکہ کی تیز زندگی اور گلوبلائزیشن کی وبا نے پوری دنیا کو گھن چکر بنا دیا ہے۔ اسکے مقابلے میں سویڈن کا کارپوریٹ کلچر بھی سست رفتاری کو فروغ دیتا ہے۔ ولیم کو اسکے میزبان نے بتایا کہ ان کی کمپنی کسی بھی نئے آئیڈیا کو فوری طور پر قبول نہیں کرتی بلکہ کم از کم دو سال تک اسکا جائزہ لیا جاتا ہے۔ میٹنگ پر میٹنگ ہوتی رہتی ہے اور جب تک منصوبے کے پورے نوک پلک درست نہ ہوں، اس پر عمل درآمد شروع نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ میں روزگار کا معمول کم از کم ہفتے کے چالیس گھنٹے کام کا ہے۔ تاہم اکثر بزنسیں اس سے بدرجہا زیادہ گھنٹوں کا تقاضا کرتی ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں کچھ عرصے کیلئے ایک ہسپتال کے ساتھ منسلک تھا تو وہاں ہم صبح پونے سات بجے کام شروع کرتے اور رات کے گیارہ بجے تک مصروف ہوتے۔ اسکے مقابلے میں فرانس میں کام کا دورانیہ ہفتے میں پینتیس گھنٹے ہے لیکن ان کی کارکردگی اور نتیجہ امریکی ورکرز سے کہیں زیادہ ہے۔ اور اب سویڈن میں ہفتہ وار محض اٹھائیس گھنٹے کا دورانیہ نافذکیا جارہا ہے۔ ان کے مطابق کام کا پریشر کم ہونے سے کارکردگی بڑھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سویڈن میں کوالٹی آف لائف دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

وہاں کی اوسط عمر بھی اس فہرست کے ٹاپ درجوں میں آتا ہے۔اس ملک میں عوام کی آمدن کا تفاوت بھی پوری دنیا کی نسبت بہت کم ہے۔ پورے سویڈن کی آبادی محض پچانوے لاکھ ہے لیکن اس نے دنیا کو نوکیا، والوواور آئیکیا جیسی پراڈکٹس دی ہیں۔ سویڈش عوام کا عقیدہ ہے کہ صبر اور اطمینان ہر کام کیلئے ضروری ہے۔ اسی لئے وہ کھانے میں بھی پورا اہتمام کرتے ہیں۔ فاسٹ فوڈ کی نسبت کھانا پکانے میں زیادہ وقت لگاتے ہیں اور تناول بھی اسی لحاظ سے اطمینان کے ساتھ کرتے ہیں۔ سویڈن کی اس طرز زندگی سے بہت سے لوگ متاثر ہوئے ہیں اور اب دنیا بھر میں آہستہ روی کی زندگی کے تجربات ہورہے ہیں ۔ نیویارک جیسے تیز ترین شہر میں بھی ایسے لوگ ہیں جنہوں نے تیز زندگی سے تنگ آکر اپنی رفتار ہر لحاظ سے کم کردی ہے۔ ہمارے دیہات میں اب بھی تمام کام اطمینان کے ساتھ ہوتاہے اور ہر کوئی ایک دوسرے کو وقت دیتا ہے۔ تاہم ہمارے شہروں میں جلدی اور ہر کام تیزی سے کرنے کا رجحان بے صبری کی حد تک بڑھتا جارہا ہے۔ ہر شخص ایک جلدی میں ہے کہ پتہ نہیں اسے کہاں پہنچنا ہے۔ سڑک پر ایک اژدہام ہوتا ہے جو ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔ کوئی گاڑی تھوڑی دیر کیلئے آہستہ ہوئی اور پیچھے سے ہارن پر ہارن شروع ہوگئے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ مغربی دنیا میں اگر لوگ جلدی میں ہیں تو ان کے اپنے ٹارگٹ اور ٹائم ٹیبل ہیں جن کو وقت پر ادا کرنا ہوتا ہے۔ یہاں جو گاڑی پیچھے سے مسلسل ہارن بجارہی ہے، تھوڑی دور آگے جاکر گنڈیری کی ریڑھی کے پاس رک کر خریداری کررہے ہونگے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں وقت کا استعمال صحیح نہیں ہوتا اور زیادہ تر وقت فضول مشاغل میں گزرجاتا ہے اور جب کام کا وقت ہوتا ہے تو ہمارے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ وقت ضائع کرنے والا کام ہے وہ ٹی وی کاوقت ہے۔ اسی ٹی وی کی وجہ سے لوگ رات کو دیر سے سوتے ہیں اور صبح وقت پر نہیں اُٹھ سکتے۔ ٹی وی کے علاوہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بھی بہت وقت ضائع کیا جاتا ہے‘ یہ دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ سونے سے قبل اپنے موبائل پر سوشل میڈیا پر وقت گزارتے ہیں ، ان کی نیند گہری نہیں ہوتی اور وہ صبح تازہ دم نہیں اٹھ سکتے۔

اسی کسل مندی سے انکے پورے دن کی کارکردگی کم ہوجاتی ہے۔ سڑک اور بازار میں ہم جتنی جلدی دکھاتے ہیں ، سرکاری دفاتر میں اتنی ہی سستی سے کام ہوتا ہے۔ وہی لوگ جو بے صبری سے ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہیں، سرکاری دفتر جاکر یوں ٹھنڈے ٹھار بیٹھ جاتے ہیں گویا ان کو کوئی کام ہی نہ ہو۔ سائلین بار بار دفتر کا چکر لگاتے ہیں تو انکا جواب ہوتا ہے، ’ہوجائیگا نا، جلدی کاہے کو‘۔یہی وجہ ہے کہ جو کام پرائیویٹ ادارے دو دن میں کرسکتے ہیں ، سرکاری دفاتر میں وہی کام برسوں لے لیتے ہیں۔ اس سے وقت کا ضیاع تو ہوتا ہی ہے، اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، مزدوری کا اضافہ ہوجاتا ہے اور انفرا سٹرکچر کا بیڑا غرق ہوجاتا ہے۔اسکے علاوہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ سرکاری افسران اپنے دفتر میں پورا کام نہیں کرپاتے تو چھٹی کے وقت فائل گھر لے کر چلے جاتے ہیں اور یوں اپنے خاندان کے ساتھ بھی کوالٹی ٹائم نہیں گزار سکتے۔ سحر خیز لوگ ہمیشہ زیادہ کام کرسکتے ہیں ۔ سحر خیزی کیلئے ضروری ہے کہ رات کو دیر سے جاگنے کی عادت ختم کی جائے۔ پنجاب میں تو شادی ہالوں پر وقت کی پابندی کی وجہ سے وہ فضول وقت بچ گیا ہے۔ ہمارے صوبے میں بھی اسکی سخت ضرورت ہے کہ نہ صرف شادی ہالوں پر وقت کی پابندی عائد کی جائے بلکہ گھروں اور محلّوں میں جو تقریبات منعقد ہوتی ہیں، بمع بلندآواز موسیقی کے، ان پر بھی وقت کا قدغن لگایا جائے۔