بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سرکاری اداروں میں اصلاحات؟

سرکاری اداروں میں اصلاحات؟

وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی میونسپل سروسز کی فراہمی سے متعلق ہدایات اس بات کی عکاس ہیں کہ صوبے کی حکومت عوامی مسائل کا احساس وادراک رکھنے کے ساتھ ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہونیوالی اہم معاملات کی نشاندہی کا نوٹس بھی لیتی ہے وزیراعلیٰ کی تازہ ترین ہدایات بنیادی مسائل کے حل کیلئے معاون ضرور ہیں تاہم ان کا ثمر آور ہونا عمل درآمد کیلئے موثر اور ٹھوس انتظامات سے مشروط ہے وزیراعلیٰ پولی تھین بیگز پر پابندی سے متعلق اپنے فیصلے پر اٹل رہتے ہوئے ٹائم فریم کی پابندی کا عزم ظاہر کررہے ہیں صفائی اور آبنوشی سمیت تمام میونسپل سروسز کو آؤٹ سورس کرنے اور خدمات کی فراہمی کیلئے فول پروف پلان تیار کرنیکی ہدایت بھی کرتے ہیں وہ پینے کے پانی کے زنگ آلود پائپ تبدیل کرنے کا کام سو فیصد مکمل کرنے کیساتھ سرکاری اداروں میں سیاسی مداخلت اور دباؤ کی نشاندہی کرتے ہوئے اس حقیقت کا اعتراف بھی کررہے ہیں کہ اداروں میں بگاڑ پیدا ہوا ہے صوبائی دارالحکومت اور صوبے کے دوسرے علاقوں میں میونسپل سروسز اور پانی کے زنگ آلود پائپوں کی تبدیلی کیساتھ پلاسٹک شاپنگ بیگز کے نقصانات سے متعلق نشاندہی پر وزیراعلیٰ کا نوٹس قابل اطمینان ہے ۔

اس نوٹس پر کاروائی کیلئے ٹائم فریم کا تعین اس بات کا یقین بھی دلاتا ہے کہ ساری کاروائی بروقت مکمل کرلی جائیگی اور حکومت کوئی پریشر تسلیم نہیں کریگی‘ جہاں تک اداروں میں اصلاحات اور بہتری کا تعلق ہے تو اس حقیقت سے صرف نظر ممکن نہیں کہ سرکاری دفاتر کی کارکردگی مسلسل روبہ زوال رہی ہے پیچیدہ دفتری نظام فرائض کی ادائیگی میں غفلت کے رجحان خلاف میرٹ بھرتیوں اور سب سے بڑھ کر چیک اینڈ بیلنس کے عملی نظام کے فقدان نے صورتحال کو اس حد تک بگاڑ دیا کہ حکومت کی جانب سے بہتری کیلئے اٹھائے جانیوالے بے شمار اقدامات عملی صورت سے محروم ہیں میونسپل سروسز کا سسٹم آؤٹ سروس کرنے کا عزم اپنی جگہ پشاور کی حدتک ڈبلیو ایس ایس پی کے نام سے کام کرنے والی کمپنی کی مالی مشکلات اس مقصد کے حصول میں ممکنہ رکاوٹوں کی نشاندہی کرتی ہیں حکومت تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست قرار دیتی ہے۔

اس مقصد کیلئے فنڈز کے اجراء میں بھی دریغ نہیں کیاگیا تاہم اس حقیقت سے اب بھی صرف نظر ممکن نہیں کہ سرکاری شفاخانوں میں تبدیلی کا کوئی نشان نظر نہیں آتا مریض اسی طرح اپنے ٹیکس سے چلنے والے اداروں میں برآمدوں میں ایڑھیاں رگڑتے نظر آتے ہیں نجی شعبے میں عطائی انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں جبکہ جعلی لیبارٹریاں کھلے عام کام کررہی ہیں معمولی استطاعت رکھنے والے شہری علاج کیلئے پرائیویٹ کلینک جاتے ہیں جبکہ بچوں کو نجی سکول میں داخلہ دلوانے کو ترجیح دی جاتی ہے حکومت کا احساس وادراک اپنی جگہ بہتر ی کا عزم قابل تعریف سہی تاہم جب تک کمروں سے باہر آکر احکامات وہدایات پر عمل درآمد کی نگرانی کا انتظام نہیں ہوتاشہری تبدیلی کا کوئی احساس نہیں پائیں گے حکومت کو ہر سطح پر ثمر آور نتائج کے حصول کیلئے چیک اینڈ بیلنس کا فول پروف نظام دینا ہوگا اس نظام میں خود عوامی نمائندوں کو شریک کرنا ہوگا جو گلی محلے کی سطح پر نتائج یقینی بناسکتے ہیں بصورت دیگر سب کیا دھرا رائیگاں جائیگا اس سب کیساتھ صوبائی حکومت کو اپنے احکامات اور ہدایات پر عمل درآمد سے متعلق تمام اداروں سے ایک جامع رپورٹ مانگنا ہوگی جس میں واضح ہو کہ کم ازکم وزیراعلیٰ اور وزراء کی ہدایات پر کتنا عمل ہوا اور اس پر عوام کو کس حد تک ریلیف ملی اس سے اداروں کی کارکردگی سامنے آنے کیساتھ عام شہری کو بھی حکومتی اقدامات سے مکمل آگاہی حاصل ہوگی۔