بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / بھارت دہشتگردی پھیلانے میں سب سے آگے

بھارت دہشتگردی پھیلانے میں سب سے آگے

اسلام آباد۔بھارت پاکستان میں دہشتگردی پھیلانے میں سب سے آگے، 40 سالوں میں ایک درجن سے زائد بھارتی دہشتگردوں کو گرفتار کیا گیا،بھارت کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے پاکستان میں دہشتگردی کراکے اپنے ناپاک عزائم کو پورا کرسکے ، بعض ایجنٹوں نے اردو اوراسلام کی تعلیم حاصل کر کے پاکستان میں مسلمان ناموں سے ملازمت حاصل کی، بھارتی جاسو سوں میں سربجیت سنگھ، کشمیر سنگھ،رویندرا کوشک،رام راج ،گربخش رام ،ونود سانھی اورکلبھوشن یادیوشامل ہیں۔لیکن ہر بار اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان میں گزشتہ 40 سالوں کے دوران ایک درجن سے زائد بھارتی دہشتگردوں کو پکڑا جاچکا ہے جنہوں نے خود پاکستان میں جاسوسی کا اعتراف کیا۔

نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے دہشتگردوں کو پاکستان بھیج کر شر انگیزی پھیلانے کی سازشیں کوئی نئی بات نہیں۔ حال ہی میں بھارتی جاسوس اور دہشتگرد کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ پاکستان میں گزشتہ 40 سالوں میں ایک درجن سے زائد بھارتی دہشتگردوں کو پکڑا چکا ہے۔سربجیت سنگھ کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے اگست 1990 میں گرفتار کیا۔ سربجیت سنگھ کے خلاف فیصل آباد، ملتان اور لاہور میں دھماکوں کے الزامات میں مقدمہ چلایا اور اسے موت کی سزا سنائی گئی۔

2013 میں کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کے ایک حملے میں سربجیت ہلاک ہوگیا۔ایک اور دہشتگرد کشمیر سنگھ 1973 میں پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہوا اور 35 برس قید میں گزارنے کے بعد سے 2008 میں رہا کیا گیا۔ بھارتی سرزمین پر پہنچتے ہی کشمیر سنگھ نے ببانگ دہل پاکستان میں جاسوسی کا اعتراف کیا۔رویندرا کوشک نامی دہشتگرد پاکستان میں 25 برس تک رہا ۔ رویندرا کوشک راجستھان میں پیدا ہوا۔ اردو زبان اور اسلام کے بارے میں خصوصی تعلیم کے بعد اسے نبی احمد شاکر کے نام سے پاکستان میں دہشتگردی کیلئے بھیجا گیا۔ رویندرا کوشک نے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور شادی کر کے ایک بچے کا باپ بھی بنا۔ پاک فوج میں کلرک بھرتی ہوا اور کمیشنڈ افسر بن گیا۔ پھر وہ ترقی کرتے ہوئے میجر کے عہدے تک پہنچا۔ رویندرا کوشک کی گرفتاری ایک اور بھارتی جاسوس کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئی جسے خصوصی طور پر میجر رویندرا کے ساتھ رابطے کیلئے بھیجا گیا تھا۔رویندرا کوشک سولہ سال جیل کاٹنے کے بعد 2001 میں جیل میں ہی مر گیا۔رام راج نامی بھارتی جاسوس اور دہشتگرد 2004 میں بھارت سے پاکستان پہنچتے ہی گرفتار ہوگیا۔

رام راج کو 6 برس قید کی سزا ہوئی اور جب وہ اپنی سزا کاٹ کر واپس انڈیا پہنچا تو اسے بھارتی اداروں نے پہچاننے سے انکار کر دیا۔ جبکہ وہ پاکستان آنے سے پہلے 18 برس تک بھارت کے خفیہ ادروں میں کام کر چکا تھا۔ایک بھارتی دہشتگرد سرجیت سنگھ نے 30 برس پاکستانی جیلوں میں گزارے۔ سرجیت سنگھ کو 2012 میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے رہا کیا گیا اور وہ واپس بھارت پہنچا تو کشمیر سنگھ کے برعکس اس کا کسی نے استقبال نہ کیا۔ سرجیت سنگھ نے اپنی رہائی کے بعد اعتراف کیا کہ بھارتی حکومت اس کی غیر موجودگی میں اس کے خاندان کو 150 روپے ماہانہ پینشن ادا کرتی تھی جو اس بات ثبوت ہے کہ وہ را کا ایجنٹ ہے۔گربخش رام نامی دہشتگرد کو 2006 میں 19 دیگر بھارتی قیدیوں کے ہمراہ کوٹ لکھپت سے رہائی ملی۔ گربخش رام پاکستان میں شوکت علی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ 18 برس تک پاکستانی جیلوں میں رہا۔ گربخش رام کو 1990 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ کئی برس پاکستان میں گزارنے کے بعد واپس انڈیا جا رہا تھا، لیکن پاکستان کے خفیہ اداروں کے ہاتھ لگ گیا۔ونود سانھی 1977 میں پاکستان میں گرفتار ہوا اور 11 برس پاکستانی جیلوں میں گزارنے کے بعد اسے بھی 1988 میں رہائی ملی۔ ونود سانھی نے اب انڈیا میں سابق جاسوسوں کی فلاح کیلئے جموں ایکس سلیوتھ ایسوسی ایشن نامی تنظیم قائم کر رکھی ہے۔ ونود سانھی کے مطابق وہ ٹیکسی ڈرائیور تھا۔ اس کی ملاقات ایک بھارتی جاسوس سے ہوئی جس نے اسے سرکاری ملازمت کی پیشکش کی اور پاکستان بھیجا، لیکن جب وہ پاکستانی قید سے رہا ہوا تو حکومت نے اس کی مدد نہیں کی۔