بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / ڈاکٹر عظمیٰ کی وطن واپسی کیلئے بھارت سرگرم

ڈاکٹر عظمیٰ کی وطن واپسی کیلئے بھارت سرگرم

نئی دہلی۔بھارت نے کہا ہے کہ عظمی کی محفوظ وطن واپسی کیلئے پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں،بھارتی ہائی کمیشن نے عظمیٰ کو ضروری قونصلر اور قانونی امداد فراہم کی ہے ۔بدھ کو بھارتی میڈیاکے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال بگلے کاصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ بھارتی حکومت اپنی شہری عظمیٰ کی بحفاظت وطن واپسی کیلئے پاکستانی دفتر خارجہ اور اسکے خاندان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن نے عظمیٰ کو تمام ضروری قونصلر اور قانونی امداد فراہم کی ہے ۔ترجمان نے کہاکہ عظمیٰ ٹھیک ہے اور خودکو محفوظ محسوس کرتی ہے ہم جلد سے جلد اسکی وطن واپسی کے معاملے پر پاکستانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستانی دفتر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ معاملے پرقانون کے مطابق معاونت فراہم کریں گے۔ عظمی کی واپسی قانونی مراحل پورے ہونے پر ممکن ہو سکے گی۔

بھارتی خاتون کے عدالتی بیان اور میڈیا سے گفتگو نے مزید پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں ذرائع کے مطابق خفیہ اداروں نے بھی عظمی کے بیانات کے بعد معاملہ کی ابتدائی رپورٹس تیارکرلی ہیں۔ مقامی عدالت میں آئندہ تاریخ پیشی بھی دو ماہ بعد ہے۔یاد رہے کہ نئی دہلی سے تعلق رکھنے والی عظمی کا اور بونیر کے رہائشی طاہر کی ملاقات ملائیشیا میں ہوئی تھی، تھوڑے عرصے بعد دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا۔ عظمی یکم مئی کو واہگہ کے ذریعے پاکستان آئی اور طاہر علی سے تین مئی کو نکاح کیا۔ ڈاکٹر عظمی اور طاہر نئی دلی جانا چاہتے تھے جس کے لئے عظمیٰ کے بھائی نے بھارتی ہائی کمیشن کے ملازم عدنان سے ملنے کا کہا تھا۔طاہر کا کہنا ہے کہ پانچ اپریل کو وہ اپنی بیوی کے ہمراہ بھارتی ہائی کمیشن آیا۔ کھڑکی پر متعلقہ شخص کے بارے میں پوچھنے پر عملے نے ڈاکٹر عظمی کو سفارت خانے کے اندر بلا لیا۔ جس کے بعد وہ باہر نہیں آئیں۔دوسری جانب عظمی نے دعوی کیا کہ طاہر علی نے اس سے زبردستی گن پوائنٹ پر شادی کی۔

پاکستان آ کرطاہر کی پہلی شادی اور 4 بچوں کا پتہ چلا۔ ڈاکٹرعظمی نے مقامی عدالت میں دائر کردہ درخواست میں مقف اختیار کیا ہے کہ میری دستاویزات بھی چھین لی گئی ہیں۔مجھے واہگہ بارڈر سے نیند کی گولیاں کھلا کر لایا گیا۔ اپنی مرضی سے بھارتی ہائی کمیشن میں رکی ہوئی ہوں اورجب تک بھارت واپسی کا انتظام نہیں ہوجاتا یہیں رہوں گی۔نکاح پڑھانے مولوی ہمایوں خان نے بتایا کہ طاہرعلی اور عظمی کا نکاح باہمی رضامندی سے ہوا، لڑکی نے حق مہر حج کی ادائیگی کی شرط رکھی تھی۔عظمی اور طاہر کے درمیان واٹس ایپ پیغامات بھی منظر عام پر آئے جس کے مطابق عظمی طاہر علی کی دوسری شادی اور بچوں سے متعلق پہلے سے جانتی تھی۔ واٹس ایپ چیٹ پر عظمی نے طاہر کو منع کیا کہ میرے بھائی کو یہ حقائق نہ بتانا، تمہاری تعلیم پوچھیں تو کہنا گریجویٹ ہوں۔