بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / نیوز لیکس کے بعد؟

نیوز لیکس کے بعد؟


حکومت اور پاک فوج کے درمیان نیوز لیکس کے معاملے پر جاری بحران کا ڈراپ سین ہر حوالے سے قابل اطمینان ہے۔ پاک فوج نے انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد سے متعلق وزیراعظم کے اعلامیہ کو مسترد کئے جانے کے بارے میں اپنا ٹویٹ واپس لے لیا ہے۔ اس ضمن میں پیداشدہ صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے خود پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کہتے ہیں کہ ہماری پریس ریلیز کو بنیاد بناکر فوج اور حکومت کو آمنے سامنے کھڑا کر دیاگیا۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج جمہوریت کی اتنی ہی تائید کرتی ہے کہ جتنا کہ دیگر پاکستانی کرتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈان لیکس پر حتمی اعلامیہ وزارت داخلہ سے جاری ہونا تھا۔ آئی ایس پی آر سے ٹویٹ کے ذریعے پریس ریلیز جاری ہوا ہمارا ٹوئٹ کسی حکومتی شخصیت یا ادارے کے خلاف نہیں بلکہ اعلامیہ نامکمل ہونے پر تھا۔ وزارت داخلہ نے پیرا18 کے مطابق مکمل آرڈر کر دیا جس پر ہم حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نواز شریف سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی جس میں ڈان لیکس کے معاملات پر تبادلہ کیاگیا۔

یہ ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی جس میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار بھی موجود تھے۔ ڈان لیکس سے متعلق مشاورت جاری رکھنے کا عندیہ اس سے ایک روز قبل وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بھی دیاگیا تھا۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ لیکس کے معاملے میں کوئی تلخی نہیں تھی۔ مسائل صرف طریقہ کار پر تھے۔ وزیراعظم ہاؤس عموماً اس طرح کے اعلامیے جاری نہیں کرتا۔ وہ کہتے ہیں کہ مسئلہ بھی طریقہ کار سے پیدا ہوا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ملک میں دفتری اوربیورو کریسی کے نظام میں اصلاحات سے متعلق حکومت کا اعلان کر دہ کام کب مکمل ہوگا تاکہ آئندہ کسی سرکاری معاملے میں ایسی صورتحال پیدا ہی نہ ہو اور ہر کام قاعدے کے مطابق چلے۔ نیوز لیکس کے حوالے سے تناؤ کا خاتمہ قابل اطمینان ہونے کے ساتھ اس بات کا بھی متقاضی ہے کہ اس پر حزب اختلاف سے بھی بات کی جائے۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ اب حکومت اپنی توجہ قومی بجٹ میں معیشت کے استحکام اور عوامی مسائل کے حل پر مرکوز کرے جو مجموعی طورپر پوری سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کیونکہ اسی سے عوام کی ریلیف جڑی ہے۔

احترام رمضان بل کی منظوری

سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے احترام رمضان ترمیمی بل منظور کرتے ہوئے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس پر جرمانے میں اضافہ کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں بھی حکومت نے رمضان المبارک کے دوران مارکیٹ کنٹرول میں رکھنے کیلئے مختلف اقدامات کی منظوری دی ہے تاہم مسئلے کا پائیدار حل ابھی تک سوالیہ نشان ہے۔ یہ حل مارکیٹ کنٹرول کیلئے رائج مجسٹریسی نظام کی بحالی سے مشروط ہے۔ حکومت کا احساس اور اقدامات اپنی جگہ مجسٹریسی سسٹم مارکیٹ کنٹرول کیلئے باقاعدہ سیٹ اپ تھا جس میں حاصل اختیارات کے ساتھ موقع پر فیصلے بھی کئے جاتے تھے۔ اب مرکز اور صوبے کی سطح پر جو بھی حکمت عملی طے ہو۔ اس پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کیلئے انتظامی ڈھانچہ موجود نہیں۔ مرکز اور صوبوں کو اس صورتحال کا احساس کرتے ہوئے اس نظام کی بحالی پر بھرپور توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔