Home / اداریہ / قومی بجٹ کے خدوخال

قومی بجٹ کے خدوخال

وفاقی کابینہ نے مالی سال 2017-18ء کے لئے بجٹ ترجیحات کی منظوری دے دی ہے مہیا اعداد وشمار کے مطابق میزانیے کا حجم46 سے 48کھرب تک ہوگا ترقیاتی بجٹ855ارب رکھنے کا فیصلہ کیاگیا ہے کابینہ اجلاس سے متعلق میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اگلے مالی سال کے لئے ٹیکس وصولیوں کا ہدف بھی بڑھا دیاگیا ہے جبکہ بجٹ خسارہ 3.8فیصد رکھنے کی تجویز دی گئی ہے بجٹ میں اہم ترجیح توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو دی جارہی ہے وزیراعظم نوازشریف نے وزارت خزانہ کو عام آدمی کے لئے ریلیف اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ومراعات دینے کاحکم دیا ہے اس سب کے ساتھ ملازمتوں کے مواقع بڑھانے کے لئے اقدامات بھی اٹھائے جارہے ہیں ایک ایسے وقت میں جب وطن عزیز کی سیاسی قیادت2018ء میں ایک بار پھر عوام سے اعتماد کا ووٹ لینے جارہی ہے اسے تلخ وشیریں حقائق کا ادراک کرتے ہوئے بجٹ کو حقیقی معنوں میں عام شہری کے لئے ریلیف کا ذریعہ بنانا ہوگا اس مقصد کے لئے نچلی سطح پر درپیش مسائل سے آگاہی ضروری ہے فائلوں میں پڑی رپورٹس اور ائر کنڈیشنڈ ہالز کے اندر سیمینارز منعقد کرنے سے حقائق سامنے نہیں آسکتے حکومت کو کھلے دل سے تسلیم کرنا ہوگا کہ توانائی بحران کے خاتمے کے لئے اس کے اقدامات عام شہری کے لئے پوری طرح کسی صورت ثمر آور قرار نہیں دیئے جاسکتے آج بھی لوگ لوڈشیڈنگ کے ساتھ بجلی کی ترسیل کے نظام میں خرابیوں کے باعث اذیت کا شکار ہیں ان شہریوں کو دوسرے لوگوں کے بل جمع نہ کرانے کی سزا بھی اضافی لوڈشیڈنگ کی صورت میں ملتی ہے اس شہری کو غلط ریڈنگ کے باعث ملنے والے بجلی کے بھاری بل بھی درست کرانے کے لئے متعلقہ دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔

حکومت کو یہ بات بھی ہر لیول پر مدنظر رکھنا ہوگی کہ اس کے عائد کئے گئے ٹیکس ملکی صنعت اگلے ہی روز اپنے صارفین کو منتقل کردیتی ہے جبکہ صنعت کو ملنے والی مراعات اور سہولیات کا کوئی فائدہ بھی کبھی عام صارف کو نہیں ملتا حکومت کے فنانشل منیجرز کو اس بات سے بھی صرف نظر نہیں کرنا چاہیے کہ وطن عزیز میں منصوبہ بندی کا تکنیکی مہارت اور ضروریات کے احساس سے عاری ہونا انفراسٹرکچر کے حوالے سے عوامی مشکلات میں سرفہرست ہے منصوبوں کے ساتھ عام سہولیات خصوصاً ہیلتھ اور ایجوکیشن میں پہلے سے موجود اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا بھی ضروری ہے جہاں تک معیشت کے مجموعی استحکام کا تعلق ہے تو اس میں زیادہ فوکس بیرونی قرضوں پر انحصار کم سے کم کرنے اور پہلے سے موجود قرضوں کی ادائیگی پر ہونا چاہیے غیر ضروری اخراجات پر قابو پانے کے ساتھ سمگلنگ کی روک تھام یقینی بناتے ہوئے ملکی صنعت کو فروغ دیا جاسکتا ہے ہمارے منصوبہ سازوں کو بدلتے حالات میں ہر بوجھ عام شہری پر ڈالنے کی بجائے سرکاری دفاتر کی کارکردگی پر بھی توجہ مرکوز کرنا ہوگی اگر ہماری ٹیکس ریکوری بہتر ہونے کے ساتھ ٹیکس نیٹ میں ایسے لوگوں کو بھی لایا جاتا ہے جو بے پناہ آمدن کے باوجود ابھی اس سے باہر ہیں تو بھی معاشی اہداف پورے ہوسکتے ہیں وطن عزیز میں صنعتی شعبے کوہمیشہ مراعات ملتی رہی ہیں جبکہ ہیلتھ‘ ایجوکیشن‘ ٹرانسپورٹ‘رئیل اسٹیٹ اوربعض دیگر سیکٹرز میں بھاری سرمایہ لگانے والوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ انہیں قاعدے قانون کا پابند بنانے کی ضرورت کا ادراک ہونا چاہیے سرکاری ملازمین کو صرف تنخواہوں میں اضافے تک نہ رکھا جائے بلکہ ان کی مشکلات کے تناظر میں انہیں مزید مراعات اور سہولیات بھی فراہم کی جائیں تاکہ وہ بہتر طریقے سے فرائض سرانجام دے سکیں۔