بریکنگ نیوز
Home / کالم / لگتا ہے انتخابات نزدیک ہیں

لگتا ہے انتخابات نزدیک ہیں


موجودہ حکومت کا یہ آخری مصروف سال ہے اس سال میں اس نے ہر وہ کام کرنا ہے جو اس کے اگلے انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کا موجب بن سکے۔جہاں تک شہری سہولتوں کا تعلق ہے تو پنجاب کی حد تک تو وہ بہت زیادہ دی گئی ہیں اور جن کا پھل بھی مسلم لیگ ن نے جنرل اور بائی الیکشن میں حاصل کیا ہے۔ راولپنڈی اسلام آباد اور لاہور میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنااسی وجہ سے ہوا کہ ن لیگ نے عوام کو سستی سفری سہولتیں مہیا کیں ۔ گو ہمارے عمران خان اور عزت مآب جناب اعتزاز احسن ان منصوبوں کے بڑے ناقدین میں سے تھے۔اس لئے کہ ان لوگوں کو بھی شہری سواریوں یعنی اندرون شہر چلنے والی بسوں اور ویگنوں پر سفر کا تجربہ نہیں ہوا مگر جنہوں نے ووٹ دینے تھے وہ روزانہ ان ویگنوں پر خوار ہوتے تھے ۔ جب ان کو ایک ایسی سروس مہیا ہو گئی کہ جس سے بہت کم لاگت میں ایک ائر کنڈیشنڈ بس میں سفر کر پائیں کہ جس میں وہ بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھسے ہوئے نہیں جاتے بلکہ آرام سے سفر کر سکتے ہیں اور طلباء خاص طور پر اپنے وقت پر آرام سے کالجوں سکولوں میں پہنچ پاتے ہیں تو انہوں نے پھر ایسی حکومت کو ووٹ کرنا تھا جس نے ان کو یہ سہولتیں بہم پہنچائی ہیںیہی وجہ ہے کہ لاہور ‘ راولپنڈی اور اسلام آباد کے لوکل انتخابات میں مسلم لیگ ن نے دونوں حریف پارٹیوں کو بری طرح شکست دی اور ان کے مخالفین کو جو عوام کی سہولت کو جنگلہ بس کا نام دیتے تھے ٹھینگا دکھایا اب توکراچی والے بھی اور پشاور والے بھی ان ہی جنگلہ بسوں پر کام کر رہے ہیں مگر اس وقت کے اخراجات اور آج کے اخراجات میں زمین آسمان کا فر ق آ گیا ہے اگر یہ حکومتیں بھی بجائے تنقید کے اپنے عوام کو سہولتیں مہیا کرتیں تو ان کو بھی کچھ نہ کچھ سیٹیں مل ہی جاتیں۔

اب ہمارے پیارے لیڈر صاحبان مختلف لیکوں کا سہارا لے رہے ہیں کہ شاید ان کی وجہ سے ان کی پذیرائی ہومگر لگتا نہیں کہ ان کی پذیرائی ہو اس لئے کہ ڈان لیک کا تو تمت با لخیر ہو گیا اب اس کو کہیں بھی لے جانے کی بات ہو تو بھی بات بنے گی نہیں اس لئے کہ اس میں جو دو فریق ملوث تھے ان کی تسلی ہو گئی ہے تو اللہ اللہ خیر سلا۔ اسی طرح دوسری لیک بھی انجام کو پہنچ جائے گی ادھر دوسری جانب سے بھی جوابی حملہ ہو گیا ہے۔ دیکھیں ان کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ نتیجہ کچھ بھی ہو دوسرے فریق کو بھی وختا پڑ گیا ہے اب چاہے وہ کتنی بھی ’’پیڑھی ‘‘گھسیٹیں عدالتوں کا سامنا تو کرنا ہی پڑے گا۔ ہم نہیں سمجھتے کہ یہ روش درست ہے چاہے وہ پی پی پی یا تحریک انصاف کی طرف سے ہو یا مسلم لیگ ن کی طرف سے ۔ اس لئے کہ یہ سیاسی لوگوں کی کریڈیبلٹی پر دھبہ ہیں۔ یوں تو سارے ہی سیاسی لوگ انتخابات کے نزدیک ایک دوسرے کا کچا چٹھا کھولتے ہی رہتے ہیں او ر عوام کو بے وقوف بنانے کے بعد ایک ہی تھالی میں بیٹھ کر کھانا بھی کھاتے ہیں اور ایک ہی بوتل سے پیالے بھی بھرتے ہیں مگر عوام کل انعام ایک دوسرے کی بوٹیاں نوچتے ہیں مگر ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پارٹیوں نے ایک دوسرے کو عدالتوں میں گھسیٹا ہے۔عوام کا جو رد عمل ہے وہ بھی نظر آرہا ہے مگر عوام اکثریت میں ان مقدموں پر خوش نہیں ہیں۔

ہاں اگر عوام صرف عمران خان اور اعتزاز احسن ہیں تو پھر عوام بہت خوش ہیں۔ پی پی پی نے بھی کچھ کچھ تحریک انصاف کے نقش قد م پر چلنے کی کوشش کی مگر اُن کے اعمال اُن کے آڑے آ رہے ہیں۔اب جو جناب آصف زرداری صاحب کسی جلسے میں مسلم لیگ ن کی کرپشن کا ذکر کرتے ہیں تو عوام کے سامنے فوراً اُن کے کارنامے آجاتے ہیں اور ان کے سامنے ایک ٹین پرسنٹ و دوسروں پر کیچڑ اچھالتا دکھائی دیتا ہے۔اسی طرح اس پارٹی کے دوسرے لوگ بھی ہیں ۔ اب ہمارے اس وقت کے وزیر اعظم کیا کسی پر تنقید کریں گے اس لئے کہ ان کو تو عدالتوں نے سزا بھی سنائی ہوئی ہے اور ان کے بیٹوں کو بھی سزا سنائی گئی ہے۔ لوگوں کے قصے بھی بر سر عام ہیں تو یہ لوگ کسی پر کیا کرپشن کے الزام لگائیں گے۔عمران خان بھی کسی پرکرپشن کا الزام لگاتے ہیں تو لوگ انکے دائیں بائیں کھڑے لوگوں کو دیکھ کر ہنستے ہیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس حمام میں کون ہے جو ننگا نہیں ہے۔عمران خان صاحب لوگوں کو صاف دکھائی دیتے تھے مگر وہاں بھی معلوم ہوا ہے کہ غیر قانونی بنگلے میں رہائش پذیر ہیں۔ہم تو وہ بد قسمت ہیں کہ جس کا بھی اپنی رہبری کے لئے انتخاب کرتے ہیں وہی کالا نکلتا ہے ۔