بریکنگ نیوز
Home / کالم / سفارتی تنہائی

سفارتی تنہائی

اچھا ہوا جو ڈان لیکس کے معاملے میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے آپس میں افہام و تفہیم سے کام لیا ورنہ اس ملک میں ایسے عناصر کی یقیناًکمی نہ تھی کہ جو ان کا آپس میں تصادم چاہتے تھے قوم کو بلا شبہ ان دونوں اداروں سے اس قسم کی بالغ نظری کی توقع تھی کہ جس کا مظاہرہ انہوں نے کیا اب2018ء کے الیکشن میں وقت ہی کتنا رہ گیا ہے یہی نا کم و بیش10 یا گیارہ ماہ اور اس میں بھی تین چار مہینے تو الیکشن کے شیڈول کے مختلف مراحل طے کرنے میں گزر جائیں گے اب یہ جمہور پر چھوڑ دیاجائے کہ وہ اس الیکشن میں کس کے سر پر تاج سجاتی ہے تمام سیاسی عناصر کا کچا چھٹا لوگوں کے سامنے ہے بھلا ہو میڈیا کا اب کوئی راز راز نہیں رہا آج یہ ملک ایک سخت گرداب میں بری طرح پھنس چکا ہے بھارت تو خیر روز اول سے ہی ہمارا بیری ہے افغانستان کی پالیسی ایک عام پاکستانی کیلئے ناقابل فہم ہے وہ کیوں بھارت کا طفیلی ہے اور 1947ء سے اس کی ڈگڈی پر ناچ رہا ہے ؟ ایک ایسا دور ضرور آیا تھا کہ جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کافی حد تک سدھر رہے تھے اور وہ دور تھا ذوالفقار علی بھٹو کا کہ جب سردار داؤد خان اور بھٹو میں یہاں تک مفاہمت پیدا ہو گئی تھی کہ وہ دونوں آپس میں پاکستان اور افغانستان کی کنفیڈریشن کی بات چیت بھی کرنے لگے تھا کاش کہ موجودہ حکومت نے بھی ایک کل وقتی وزیر خارجہ لگایا ہوتا آج خواہ مخواہ کوئی نہ کوئی فقدان ہماری خارجہ پالیسی میں ہو گا۔

جو ایران بھی ہم سے آنکھیں چرانے لگا ہے اور اس نے گوادر کے قریب بھارت کی مالی معاونت سے چاہ بہار کے مقام پر جو اپنی بندرگاہ کو ڈیویلپ کیا ہے اس کا نظم و نسق بھی وہ بھارت کے حوالے کرنے کی سوچ رہا ہے کیا گوادر کے کافی نزدیک چاہ بہار کے مقام پر بھارت کے بحری جہازوں کی موجودگی ہمارے لئے ایک مستقل درد سر نہ ہو گا بھارت کا کیا اعتبار اس نے مشرقی پاکستان میں ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھاکر کیسے ہماری پیٹھ میں خنجر گھونپ کر ہمارے ایک حصے کو کاٹ ڈالا !کیا وہ اب بلوچستان کی طرف سے بھی ہمارے خلاف اس قسم کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں میں ملوث نہ ہو گاکہ جس طرح وہ افغانستان کی سرزمین میں اپنے ایک درجن کے قریب قونصل خانوں کے توسط سے کر رہا ہے ؟ یہ سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ہماری وزارت خارجہ نے اس بابت کچھ سوچا ہے ؟ کچھ ہوم ور ک کیا ہے ؟ اس خطے میں تو لے دے کر صرف چین ہی ایسا ملک ہے کہ جس کی دوستی اور اخلاص پر ہم یقین کر سکتے ہیں آج ہم یقیناًبھٹو جیسے ایک متحرک قسم کے وزیر خارجہ کی کمی شدت سے محسوس کر رہے ہیں کہ جو سات دن میں چودہ ممالک کے دورے کیا کرتے اور پاکستان کے خلاف بھارت جس قسم کاپروپیگنڈا کرتا اس کا موثر جواب دیتے یہ بھٹو کی انتھک محنت اور دنیائے اسلام میں پاکستان کیلئے انہوں نے جو خیر سگالی کے جذبات پیدا کئے تھے۔

اس کی وجہ تھی کہ جب 1974ء میں انہوں نے لاہور میں اسلامی ممالک کے سربراہان کی کانفرنس بلائی تو تقریباًتمام سربراہان ان کی آواز پر لبیک کہتے لاہور میں جمع ہو گئے آج صورتحال یہ ہے کہ بھارت بلوچستان میں اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے اگر ایک طرف ایران سے محبت کی پینگیں بڑھا رہا ہے تو دوسری جانب وہ افغانستان کو شہہ دے رہا ہے وہ پاکستان کیخلاف ایک منظم آبی جارحیت کی پالیسی پر بھی گامزن ہے ان مسائل پر حکومت پارلیمنٹ میں بحث و مباحث کیوں نہیں کرتی ؟ خالی خولی پارلیمانی وفود کو افغانستان یا ایران بھیجنے سے توکچھ حاصل نہ ہو گا ہم تو اس بات پر حیران ہیں کہ آخر ہمارے پارلیمانی اراکین کر کیا رہے ہیں ؟ ان کے پاس اگر بھارت کی پاکستان کیخلاف آبی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی کوئی تجاویز ہیں تو وہ پارلیمنٹ کے فلو ر پر قوم سے انہیں شیئر کیوں نہیں کرتے ؟۔