بریکنگ نیوز
Home / کالم / اقتصادی راہداری‘ مالی امداد اور انتباہ

اقتصادی راہداری‘ مالی امداد اور انتباہ


سی پیک پر منڈلانے والے خطرات کی کمی نہیں‘آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی چینی سرمایہ کاری معاشی پیداوار کی صلاحیت میں اضافے کا موجب تو بنے گی لیکن اس سرمایہ کاری کیساتھ جڑی مالی ادائیگیاں کرنا مشکل ہوسکتا ہے یعنی پاکستان جذبات میں آ کر جس سی پیک‘ منصوبے کو مکمل کرنے جا رہا ہے اُس کیساتھ جڑی مالی ذمہ داریاں (بوجھ) ادا کرنے میں اُسے مشکلات پیش آئیں گی۔ آئی ایم ایف کی جانب سے یہ خدشات پاکستان کیلئے اس کے حال ہی میں ختم ہونیوالے پروگرام کے آخری جائزے میں ظاہر کئے گئے۔ سی پیک سے وابستہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کے پاکستانی معیشت پر اثرات کے حوالے سے جائزے میں آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ’سرمایہ کاری کے مرحلے میں جیسے جیسے منصوبے مکمل ہوں گے پاکستان میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری اور ترسیلات زر کی آمد میں اضافہ ہوگا۔‘ تاہم آئی ایم ایف کے مطابق ان منصوبوں کے حوالے سے جب درآمدات کا مرحلہ آئے گا تو اس سے ملک میں آنے والی ترسیلات زر کا بڑا حصہ استعمال ہوجائے گا اور ان سالوں کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی بڑھے گا۔ رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا کہ سی پیک کے حوالے سے کی جانے والی درآمدات سال 2020ء تک متوقع مجموعی درآمدات کا گیارہ فیصد یا 5.7ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں جبکہ سی پیک کے حوالے سے اْس سال ترسیلات زر کی شرح متوقع مجموعی قومی پیداوار کا 2.2 فیصد رہے گی۔آئی ایم ایف کے مطابق سال 2020ء تک پاکستان کی مجموعی بیرونی مالیاتی ضروریات ساٹھ فیصد تک بڑھ جائیں گی اور اس کا حجم گیارہ ارب ڈالر سے 17.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق سی پیک کے تحت ’جلد مکمل ہونے والے منصوبوں‘ کیلئے پاکستان کو آئندہ چند برس میں 27.8 ارب ڈالر ملیں گے جبکہ بقیہ سولہ ارب ڈالر سال دو ہزار تیس تک بتدریج آئیں گے۔ آئی ایم ایف نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو سی پیک کی وجہ سے بڑھتے ہوئے انخلائے زر کو سنبھالنے کی ضرورت ہوگی اور جب چینی سرمایہ کار ان منصوبوں سے اپنا منافع حاصل کرنا شروع کریں گے تو براہ راست بیرونی سرمایہ کاری پر بھی فرق پڑے گا۔ ان منصوبوں کیلئے چینی بینکوں سے لئے جانے والے قرضوں کی ادائیگی کی صورت میں بھی انخلائے زر ہوگا جن میں سال بیس سو اکیس کے بعد اضافہ متوقع ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ’سی پیک کا بھرپور طریقے سے فائدہ اٹھانے کیلئے ضروری ہے کہ پیداوار اور برآمدات میں اضافے کیلئے بروقت اور فوری اصلاحات کی جائیں۔‘ رپورٹ میں کہا گیا کہ سی پیک سے جڑے انخلائے زر کو ان ہی منصوبوں سے فائدہ اٹھاکر پورا کرنے کیلئے کاروباری ماحول‘ گورننس اور سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری درکار ہوگی۔

آئی ایم ایف کے خیال میں سی پیک منصوبوں کی وجہ سے ہونے والا انخلائے زر پاکستانی معیشت کو درپیش خطرات میں سے ایک ہوگا ۔ آئی ایم ایف نے پروجیکٹ مینجمنٹ اور مانیٹرنگ میں شفافیت اور احتساب کو بھی یقینی بنانے پر زور دیا اور خاص طور پر بجلی پیدا کرنے والی چینی کمپنیوں سے بجلی کی خریداری میں محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ خریدی جانے والی بجلی کی قیمت تقسیم کار کمپنیوں اور صارفین کے لئے موافق ہو۔سی پیک کے اقتصادی پہلوؤں کے بارے قوم کو اعتماد میں لینا ضروری ہے کیونکہ ایک ایسا منصوبہ جس سے پاکستان پر عائد مالی ذمہ داریوں میں اگر لامحالہ اضافہ ہوتا اور یہ اضافہ اس قدر ہوتا ہے کہ بصورت بوجھ معیشت کیلئے اِسے اٹھانا ممکن نہیں ہوتا تو آنے والے دنوں میں زیادہ مشکل حالات کسی بھی صورت خوش آئند نہیں۔