بریکنگ نیوز
Home / کالم / سرکاری اداروں کی بے حسی

سرکاری اداروں کی بے حسی


عدالت سا ماحول تھا جج کی جگہ ہم تین ساتھی بیٹھے ہوئے تھے اور سامنے پڑی کرسیوں پر دونوں فریق اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کیساتھ تشریف فرما تھے میں نے فائل اٹھائی اور اپنے ساتھیوں کیساتھ اس کے مندرجات پڑھنے لگا زمین کا مسئلہ تھا جو دو تین ہاتھوں سے گزر کر بک چکی تھی لیکن اس پر قبضہ کسی اور گروپ کا تھا ہم نے مقدمے کی سماعت شروع کرنے سے قبل دونوں فریقوں سے پوچھا کہ کیا وہ ہماری مصالحت قبول کرنے کو تیار ہیں؟ اگر وہ اس پر تیار ہوتے ہیں تو انکو عدالت سے مقدمہ خارج کروانا پڑیگا یاد رہے کہ اس مقدمے کو عدالت میں چلتے ہوئے کئی سال ہوچکے تھے اور مدعیوں اور مقابل پارٹی کے کئی ارکان درمیان میں زندگی کا سفر بھی پورا کرچکے تھے دونوں فریقوں میں دائیں جانب والے ذرا زیادہ غصہ ناک تھے انکے لیڈر نے تو اُٹھ کر کہہ دیا کہ صاحب میرے پہلے ہی چھ مقدمے عدالت میں چل رہے ہیں اور مجھے کوئی جلدی نہیں اسلئے مجھے یہ مصالحت قبول نہیں میں عدالت ہی میں جاکر فیصلہ لوں گااس پر میں نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور سب نے کیس کی سماعت سے بے بسی ظاہر کردی چنانچہ ہم نے پولیس افسر کو بتادیا کہ فریقین کو ہماری مصالحت قبول ہی نہیں اسلئے اگلے کیس کو شروع کیا جائے اُس وقت میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب اُسی تھانے کے محرر نے درخواست کی کہ اسے موقع دیا جائے تاکہ وہ دونوں فریقین کو مصالحت پر آمادہ کرسکے میری حیرت کی وجہ پولیس کی بدنامی تھی ظاہر ہے جتنے مقدمے عدالتوں میں چلتے ہیں پولیس کی گاڑی تو ان نہ ختم ہونیوالے مقدموں ہی سے بہتر چلتی ہے ہمیں مزید خوشگوار حیرت ہوئی کہ دونوں فریقین مصالحت پر راضی ہوگئے بلکہ عدالت سے مقدمہ بھی واپس لے لیا۔

پختونخوا کی پولیس ویسے بھی پنجاب کی نسبت نیک نام ہی ہے لیکن موجودہ حکومت میں سیاسی مداخلت زیادہ تر ختم ہونے پر اکثر افسران اور دوسرے درجوں کے ملازمین نہایت دیانتداری سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اس وقت کے آئی جی پی نے دو تین سال قبل ان مصالحتی کونسلوں کی بنیاد رکھی اور اس عرصے میں بلا مبالغہ ہزاروں ایسے تنازعات کو عدالت سے باہر حل کرلیا گیا جو دو تین نسلوں تک عدالتوں میں حل ہونے کے قابل نہیں تھے مجھے یقین ہے کہ یہ ہزاروں خاندان پولیس کو دُعائیں دیتے ہوں گے۔

یہ تو رہا سکے کا ایک رخ۔ پولیس جیسے بدنام محکمے کو عوام کی خدمت پر آمادہ کرنا شاید سب سے مشکل کام سمجھا جاتا تھا۔ صرف ایک سیاسی مداخلت کا توڑ کرنے سے اس محکمے پر عوام کا اعتماد بحال ہوا اس میں پولیس کی طرف سے احتساب کا عمل بھی جاری رہا اور بے شمار سپاہیوں سے لے کر افسروں تک ملازمت سے نکالے گئے بلکہ کئی ایک تو سلاخوں کے پیچھے بھی پہنچ گئے تاہم دوسرے سول اداروں پر یہ اثر کم ہی پڑا ہے۔ وفاقی اداروں پر تو صوبائی حکومت کی کوئی رٹ ہی نہیں چلتی اور اسی لئے کئی ادارے بلا کسی ثبوت کے معزز شہریوں کو اٹھا لیتے ہیں ۔ مقدمہ چلانا تو الگ بات ہے لیکن بے عزتی، گالی گلوچ اور مارپیٹ تو قاتل کیلئے بھی خلاف قانون ہے لیکن یہ محکمے کسی قانون کو نہیں مانتے دوسری طرف صوبائی سول ادارے بھی رشوت اور سفارشوں کے ایسے گڑھ بن گئے ہیں کہ کوئی کام رشوت دےئے بغیر نہیں ہوتا کسی محکمے میں فائل ایک میز سے دوسری میز تک کا سفر مہینوں میں کرتی ہے اور اس پر مستزاد افسر شاہی ہے کہ پھیلتی ہی جارہی ہے بھلے وقتوں میں ایک سیکریٹری ہوا کرتا تھا اور ایک سیکشن افسر ساراکام کلرک اور سپرنٹنڈنٹ کے ذریعے سے کرلیتا تھا اب ایک ہی محکمے کے تین چار محکمے بن گئے ہیں تعلیم کا شعبہ ہی لے لیں جس میں سے پرائمری، سیکنڈری، پیشہ ورانہ تعلیم کے بھی بے شمار ادارے، یونیورسٹیاں اور نہ معلوم کتنے ریگولیٹری ادارے جنم لے چکے ہیں۔

ان میں سے ہر ادارہ اپنی خود مختاری ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے جو جس قانونی طریقے سے عوام کو لوٹ سکتا ہے اسے روکنے والا کوئی نہیں مثال کے طور پر ایک گورنمنٹ یونیورسٹی کے داخلے کے فارم ایک ہزار روپے پر ملنے لگے ہیں حالانکہ اس دور میں توآن لائن فری درخواست کی سہولت ہونی چاہئے پہلے گورنمنٹ تعلیمی اداروں میں نہ صرف معیار کیلئے بلکہ ارزانی کیلئے بھی کشش ہوتی تھی اب پرائیویٹ ادارے وظائف دے رہے ہیں اور سرکاری ادارے بھاری فیسیں طلب کررہے ہیں میں نے خود ایک ادارے کے ملازمین کو بازاروں اور رہائشی علاقوں کا دورہ کرتے دیکھا ہے جو محض کسی بہانے پرعوام کو جرمانہ کرنیکی دھمکی دیتے ہیں اور بے چارے شہری بڑی مصیبت سے بچنے کیلئے انکی جیبیں گرم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اس حکومت نے رائٹ ٹو سروس کا قانون تو بنا لیا ہے لیکن نہ تو اسکے لئے کوئی قواعد مرتب ہیں اور نہ اسکی خلاف ورزی کرنیوالے افسران کیخلاف کوئی قدم اٹھایا گیا ہے۔

جس سست رفتاری سے ہماری سول افسر شاہی کام کرتی ہے‘اسکی وجہ سے نسلوں کی نسلیں انصاف کی امید میں ختم ہوجاتی ہیں اگرچہ جمہوریت کے متوالے آج کل فوج پر ہر لحاظ سے حملہ آور ہیں لیکن سچ پوچھیں تو یہی ایک ادارہ رہ گیا ہے جو ڈسپلن برقرار رکھے ہوئے ہے مثال کے طور پر سالانہ کارکردگی پر اے سی آر یعنی سالانہ خفیہ رپورٹ ہر افسر کی ملازمت کا لازمی حصہ ہوتی ہے ہم نے سول اداروں میں دیکھا ہے کہ اعلیٰ افسران کی میزوں پر اے سی آرز کا بنڈل پڑا ہوتا ہے سال پر سال گزرتے جاتے ہیں لیکن وقت پر کوئی اپنی رپورٹ نہیں لکھتا جب کسی افسر کی پروموشن کا موقع آتا ہے تو پھر معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے اے سی آر تو ابھی بھرے ہی نہیں گئے ان سے اگلے دس سالوں کے اے سی آرز دفتر کی منتقلی کے وقت کھوگئے ہیں ایسے موقعوں پر متعلقہ افسران اپنے پرانے افسران کے گھروں کے چکر کاٹنے لگتے ہیں۔ اگر خوش قسمتی سے اے سی آر لکھنے والے زندہ ہیں تو پھر تو کام ہوجاتا ہے ورنہ بے چارہ ملازم اپنے اے سی آر کے نہ ہونے کی وجہ سے ترقی سے محروم رہ جاتا ہے۔ کبھی کسی غیر ملکی وظیفے پر جانا ہو تو آخر وقت تک این او سی نہیں ملتا اور کئی ایسے وظائف ائرپورٹ پر ختم ہوجاتے ہیں کہ سرکاری ملازم کے پاس ملک چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ نہیں ہوتا دوسری طرف اگر فوجی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تواس سخت وقت میں بھی ان کے افسران تمام کام آن لائن کرتے ہیں یہی اے سی آرز جو سول میں سالوں لیتی ہیں‘ فوج میں بیس دن کے اندر اندر داخل کرنی ہوتی ہیں اور یہ داخلہ بھی اپنے لیپ ٹاپ سے کسی وقت بھی کیا جاسکتا ہے ٹریفک کا معاملہ ہو یا ملازمین کی رہائش کا مسئلہ، پنشن کا لگنا ہو یا ریٹائرمنٹ کا حصول، پلاٹ کی الاٹمنٹ ہو کہ بچوں کا سکول میں داخلہ، یہ فوج ہی ہے جسکے ملازمین کیلئے یہ ساری سہولتیں بغیر کسی دقت، رشوت اور سفارش کے مل جاتی ہیں۔ دوسری طرف سول اداروں کا یہ حال ہے کہ انصاف کے حصول میں بیگناہ قیدی اپنی زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں لیکن کوئی اس نظام کو بہتر بنانے پر تیار نہیں جمہوریت کیلئے عوام تب ہی سرومال دینے پر تیار ہونگے جب انکو انصاف وقت پراور دوسرے حقوق باآسانی مل سکیں ان کو اپنا مال خرچ کرکے بنیادی سہولت تو ملے۔