بریکنگ نیوز
Home / کالم / تحقیقی لوازمات اور تحلیقی مقالہ نگاری

تحقیقی لوازمات اور تحلیقی مقالہ نگاری


پاکستان سٹڈی سنٹرکا شمار پشاوریونیورسٹی کے ان چند نمایاں اداروں میں ہوتا ہے جس نے پچھلے چند سالوں کے دوران علم وتحقیق کے میدان میں معیار کے لحاظ سے نمایاں ترقی کی ہے جس کا تمام تر سہرا اس سنٹرکے ڈائریکٹراور روح رواں پروفیسر ڈاکٹر فخرالاسلام کے سر ہے جو دن رات اس سنٹر کی ترقی اور یہاں زیر تعلیم طلبہ وطالبات کی علمی آبیاری کیلئے سرگرم ہیں پاکستان سٹڈی سنٹر کے زیر اہتمام پشاور یونیورسٹی کے باڑہ گلی سمر کیمپس میں تحقیقی لوازمات اور تخلیقی مقالہ نگاری کا ہنر کے موضوع پر ایک تین روزہ نیشنل ورکشاپ کا انعقاد کیا گیاجس میں ملک بھر سے مختلف تعلیمی ماہرین نے ورکشاپ کے شرکاء جن کی اکثریت ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز پر مشتمل تھی کوتحقیقی لوازمات اور تخلیقی مقالہ نگاری کے مختلف موضوعات پر پرمغزلیکچر دیئے اس ورکشاپ کے انعقاد کا مقصد ریسرچ سکالرز کو جدید تحقیق کے جملہ لوازمات اور تحقیقی مقالہ نگا ری سے آگاہی فراہم کرنا تھی سوشل سائنسز میں ریسرچ کی اہمیت کسی بھی دوسرے شعبے میں ریسرچ سے کسی بھی طور کم نہیں ہے ریسرچ کیلئے مالی وسائل اور وقت کیساتھ ساتھ کمٹمنٹ اور وژن کی شفافیت اہمیت کے حامل عوامل تصور کئے جاتے ہیں کسی بھی محقق اور لکھاری کیلئے کوئی بھی تحقیقی مضمون لکھنے سے پہلے یہ طے کرنا ضروری ہوتاہے کہ وہ یہ مضمون کیوں لکھنا چاہتا ہے اوریہ مضمون لکھتے ہوئے اسکے اغراض ومقاصد کیا ہیں۔

اعلیٰ تعلیمی سطح پر تحقیق کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے یہ شرط عائد کر رکھی ہے کہ کسی بھی پی ایچ ڈی مقالے کی منظوری سے پہلے مقالہ نگار کے کم از کم ایک تحقیقی مضمون کا ایچ ای سی کے کسی بھی منظور شدہ تحقیقی جریدے میں شائع ہونا لازمی ہے یہ بات خوش آئند ہے کہ ملکی سطح پر اس وقت ایچ ای سی کے تحت مجموعی طور پرمختلف کیٹیگریزکے 138تحقیقی جرائد شائع ہو رہے ہیں ایچ ای سی گائیڈ لائنز کے مطابق مقا لہ نگاران کو تحقیقی مضامین لکھتے وقت بین الاقوامی معیار کو مد نظر رکھنا چاہئے اور تحریر میں غیر ضروری اور غیر متعلقہ الفاظ اور جملوں کے استعمال سے ہرممکن گریز کرنا چاہئے۔ محققین کو اینڈ نوٹ لکھتے وقت جہاں اپنے مقاصد سے واقف ہونا چاہئے وہاں اینڈ نوٹ کے استعمال میں احتیاط اور توجہ کیساتھ وہ تمام جدید بین الاقوامی قواعد استعمال کرنے چاہئیں جنہیں کسی بھی معیاری مضمون کا لازمی حصہ تصور کیا جاتا ہے ۔

کسی بھی معیاری مضمون کی تخلیق کیلئے سب سے پہلے تحقیقی سوالات کا ذہن میں آنا ضروری ہے بعد کے مراحل میں اعداد وشمار کا جمع کیا جانا‘آؤٹ لائنز ،جملوں کی تر تیب اور خیالات کو منظم انداز میں کسی منطقی انجام تک پہنچانا کسی بھی معیاری تحقیقی مضمون کا لازمی خاصہ سمجھا جاتا ہے محققین کا بنیادی کام چھپے رازوں سے پردہ اٹھانا ہے اپنے اندر تحقیقی اور تخلیقی سوچ پروان چڑھانے کیلئے زیادہ سے زیادہ مطالعے اور مثبت تنقید کی عادت اپنانی چاہئے ریسرچ کا عنوان اتنا واضح اور جامع ہونا چاہئے کہ اس کو دیکھ کر ہی یہ اندازہ ہو جائے کہ اس تحقیق میں کس ایشو کو موضوع بحث بنایا گیا ہے اسی طرح تحقیق کے مقاصد اور طریقہ کاربھی بالکل واضح ہونے چاہئیں اورتحقیق کے دوران ابہامات اور شکوک وشبہات پیدا کرنیوالے عوامل سے بچنے کی حتیٰ الوسع کوشش کرنی چاہئے ریسرچ بنیادی طور پر اجتہاد کادوسرانام ہے جسکے ذریعے وقت کے پیش آمدہ مسائل کادستیاب وسائل کی مدد سے علم وبصیرت اور تحقیق کی بنیاد پر حل تجویز کیا جاتا ہے دراصل تحقیق ایک ہنر ہے جس سے بہرہ مند ہو کر ہی کوئی محقق اپنے اہداف اور مقاصد کو حاصل کر سکتا ہے۔