Home / کالم / شطرنج کے کھلاڑی

شطرنج کے کھلاڑی

میرے ابا جی بتایاکرتے تھے کہ ان کے بچپن میں جب کبھی سرخ آندھی اٹھتی تھی تو لوگ باگ خوفزدہ ہوکر توبہ استغفار کرنے لگتے تھے کیونکہ مشہور تھا کہ اگر سرخ آندھی آئے تو کہیں نہ کہیں کوئی قتل ہوتا ہے اور مقتول کے خون کی سرخی آندھی کو سرخ کردیتی ہے اور وہ عرشوں پر فریاد کرنے کیلئے اٹھتی ہے۔۔۔ اس کلیے کے حوالے سے دیکھئے تو ہمارے آسمانوں پر ہمہ وقت سرخ آندھی کا شور بپا ہونا چاہئے۔ ہر پانچ دس منٹ کے بعد ملک میں کہیں نہ کہیں کوئی قتل ہوجاتا ہے بلکہ ہم تو سرخ آندھی کی آسانی کیلئے اکاّ دکاّ قتل کی بجائے بیک وقت سینکڑوں افراد کا اجتماعی قتل کر دیتے ہیں۔ سرخ آندھی میں اتنی سکت نہیں ہوتی کہ وہ ہر پانچ دس منٹ کے بعد اٹھتی رہے تو ہمارے اس اقدام سے اس کو آسانی ہوجاتی ہے اور جس طرح مشترکہ قبریں ہوتی ہیں ایسے ہی ایک مشترکہ آندھی بھی اٹھ سکتی ہے پروہ پھر بھی نہیں اٹھتی۔میرا خیال ہے کہ سرخ آندھی ہمارے ملک میں اٹھک بیٹھک کرتی بیزار ہوگئی ہے، تھک گئی ہے اور اس نے ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔

اب یہ ہے کہ مقتولوں کی لاشوں پر سیاست کی بساط بچھ چکی ہے اور شطرنج کے کھلاڑی آمنے سامنے بیٹھے اپنی چالیں چل رہے ہیں۔ ان لاشوں میں شاید کچھ زخمی بھی ہوں اور وہ کراہتے ہوئے مدد کیلئے پکارتے ہیں لیکن ان کی مدد کرنے کیلئے بساط سمیٹنی پڑتی ہے اور یوں کھیل میں خلل پڑتا ہے۔ کہیں شاہ اور اس کے ہواری چال چل رہے ہیں اور کہیں ملکہ اور اس کے جاں نثار خادم۔۔ وہ زخمیوں کی چیخ و پکار نہیں سنتے بلکہ خواہش کرتے ہیں کہ وہ بھی دم توڑ جائیں تاکہ ٹوٹل زیادہ موثر ہوجائے اور ہاں شطرنج کے کھلاڑی قتل ہوجانے والوں کے سوگ میں بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھے ہوئے ہیں اور ہاں وہ ’’افسوس شکلیں‘‘ بنائے بیٹھے ہیں اور یہ افسوس شکلیں کیا ہیں، میں عرض کرتا ہوں۔۔ میرے ایک عزیز دوست کے چھوٹے بیٹے کی عادت تھی کہ وہ ہمہ وقت ہنستا رہتا تھا، قہقہے لگاتا رہتا تھا۔۔ ان دوست کو اپنے ایک عزیز کی موت پر ان کے گھر تعزیت کیلئے جانا پڑا اور وہ اپنے بیٹے کو بھی ہمراہ لے گئے جب سب لوگ مرحوم کیلئے فاتحہ پڑھ رہے تھے تو ان کا بیٹا حسب عادت تھوڑی دیر مسکراتا رہا اور پھر قہقہے لگانے لگا۔ میرے دوست کے ڈانٹنے پر وہ چپ ہوا لیکن تھوڑی دیر بعد وہ گھر والوں سے تعزیت کررہے تھے کہ برخوردار نے پھر قہقہے لگانے شروع کر دئیے۔ ظاہر ہے کہ اب نہیں شرمندگی ہوئی۔ گھر واپس آکر انہوں نے بچے کو سمجھایا کہ بیٹے ہر جگہ قہقہے نہیں لگایا کرتے، کچھ ایسے مواقع ہوتے ہیں جب افسوس کی ایک شکل بنا کر بیٹھے رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی شکل کو افسوس شکل بناکراسے سمجھایا کہ ایسے یعنی نظریں نیچی۔ ماتھے پر ایک تیوری اور کچھ دیر بعد ایک ٹھنڈی آہ۔ برخوردار لائق تھا کچھ دیر پریکٹس کرنے کے بعد افسوس شکل بنانے میں ماہر ہوگیا۔ اس کے بعد ان کا اگر کسی ماتمی محفل میں جانے کا اتفاق ہوتا یا کہیں تعزیت کیلئے جاتے تو اس گھر میں داخل ہوتے ہوئے بچے کو صرف اتنا کہتے ’’افسوس شکل‘‘ اور برخوردار فوراً افسوس شکل بنا لیتا۔ اس افسوس شکل بنانے کا مظاہرہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ وہ بچہ نہایت سنجیدگی سے افسوس شکل بنائے بیٹھا رہتا جب تک کہ والد صاحب نے ’’افسوس شکل ختم‘‘ نہ کہہ دیا۔۔

چنانچہ شطرنج کے یہ کھلاڑی بھی افسوس شکل بنائے بیٹھے ہیں اور تب تک بنائے بیٹھے رہیں گے جب تک وہ یہ بازی جیت نہیں جاتے۔۔ بازی جیتتے ہی وہ قہقہے لگانے لگیں گے۔۔
آپ منشی پریم چند کو جانتے ہوں گے جو ایک اعلیٰ پائے کے افسانہ نگار ہیں آپ نے کم از کم ان کے دو کلاسیک ’’کفن‘‘ اور ’’گؤدان‘‘ پڑھ رکھے ہوں گے تو انہوں نے حال ہی میں پاکستان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں ایک افسانہ لکھا ہے ’’شطرنج کے کھلاڑی‘‘ آپ شاید اعتراض کریں کہ پریم چند کو چِتا میں راکھ ہوئے مدتیں گزر گئیں۔ تب تو پاکستان بھی وجود میں نہیں آیا تھا تو وہ ان دنوں کیسے زندہ ہوسکتے ہیں اور پاکستان کی موجودہ صورتحال پر ایک افسانہ لکھ سکتے ہیں۔۔ چلیے میں ’’شطرنج کے کھلاڑی‘‘ میں سے کچھ اقتباس پیش کرتا ہوں جنہیں پڑھ کر آپ فوراً اقرار کرلیں گے کہ پریم چند ابھی زندہ ہیں۔ افسانے میں صرف اتنا سا فرق ہے کہ پاکستان کی بجائے پس منظر لکھنو کا ہے۔۔ تو ملاحظہ فرمائیے۔۔

’’نواب واجد علی شاہ کا زمانہ تھا۔ لکھنو عیش وعشرت کے رنگ میں ڈوبا ہوا تھا۔ چھوٹے بڑے سب رنگ رلیاں منا رہے تھے۔ زندگی کے ہر ایک شعبہ میں رندی اور مستی کا زور تھا۔ اراکین سلطنت مے خوروں کے غلام ہورہے تھے۔ غرض سارا ملک نفس پروری کی بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ دنیا میں کیا ہو رہا ہے، علم وحکمت کن ایجادوں میں مصروف ہے، بحر و بر پر مغربی اقوام کس طرح حاوی ہوجاتی ہے اس کی کسی کو خبر نہ تھی۔ کہیں شطرنج کے معرکے چھڑے ہوئے ہیں، فوجیں زیر و زبر ہو رہی ہیں، نواب کا حال ا س سے بھی بدتر تھا‘‘۔تو جناب اس ماحول میں پریم چند کے دو کردار مرزا سجاد علی اور میرروشن علی سامنے آتے ہیں جن کی جاگیریں موروثی ہیں اور وہ شطرنج کے کھیل میں دن رات ڈوبے رہتے ہیں ’’محلہ میں دوچار بوڑھے ہیں وہ طرح طرح کی بدگمانیاں کرنے لگے ہمارے رئیسوں کا یہ حال ہے تو ملک کا خدا ہی حافظ ہے یہ سلطنت شطرنج کے ہاتھوں تباہ ہوگی۔ ملک میں واویلا مچا ہوا ہے۔ رعایا دن دیہاڑے لٹتی ہے، پر کوئی اس کی فریاد سننے والا نہ تھا۔ مصارف کا یہ حال اور انگریزی کمپنی کا قرضہ روز بروز بڑھتا جاتا تھا، اس کی ادائیگی کی کسی کو فکر نہ تھی۔۔‘‘

دونوں کردار اپنا شوق پورا کرنے کیلئے دریائے گومتی کے پار ایک ویران جگہ میں جابیٹھتے ہیں اور شطرنج کھیلنے لگتے ہیں۔۔ میرصاحب کیا دیکھتے ہیں کہ انگریزی فوجیں آرہی ہیں لکھنؤ پر حملہ آور ہونے کی خاطر جو پانچ ہزار کے لگ بھگ ہوں گی لیکن شطرنج کے یہ دیوانے اپنے کھیل میں مگن ہیں، انگریز فوج پاس سے گذر جاتی ہے۔ لکھنؤ پر قبضہ کرلیتی ہے اور اس شہر کے دفاع میں کوئی ایک شخص بھی آگے نہیں آتا۔ کوئی ایک شخص وطن عزیز کیلئے جان نہیں دیتا۔ نواب واجد علی شاہ کو گرفتار کرلیا جاتا ہے اور یہ فوج پھر انہی شطرنج کے کھلاڑیوں کے قریب سے واپس جا رہی ہے۔ وہ کچھ دیر کے لئے ہائے ہائے کرتے ہیں کہ حضور عالی کو ظالموں نے قید کرلیا ہے۔ ہائے ہائے لکھنؤ کا چراغ آج گل ہوگیا ہے۔ واللہ کیا صدمۂ جانکاہ ہے۔ دل ہے کہ رُکا جاتا ہے لیکن اللہ کو یہی منظور تھا۔ مرزا صاحب آپ اپنی چال چلئے۔ وہ دونوں پھر سے شطرنج میں کھو جاتے ہیں۔ پھر کچھ یوں ہوتا ہے کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی شروع ہوجاتی ہے، بے ایمانی کے الزام لگائے جاتے ہیں اور طیش میں آجاتے ہیں۔۔
’’دونوں دوستوں نے کمر سے تلواریں نکال لیں۔ دونوں عیش کے بندے تھے مگر بے غیرت نہ تھے۔ قومی دلیری ان میں عنقا تھی ان کے سیاسی جذبات فنا ہوگئے تھے۔ تلواریں چمکیں، چھپاچھپ کر جان دے دی۔ اپنے بادشاہ کے لئے جن کی آنکھوں سے ایک بوند آنسو کی نہ گری انہی دونوں آدمیوں نے شطرنج کے وزیر کیلئے اپنی گردنیں کٹا دیں۔۔‘‘

قارئین آپ کو اب تو یقین آگیا ہوگا کہ منشی پریم چند ابھی زندہ ہیں اور انہوں نے اپنا تازہ افسانہ ’’شطرنج کے کھلاڑی‘‘ آج کے پاکستان کی صورتحال کے حوالے سے لکھا ہے۔ ہم سب جو عوام ہیں اور تو کچھ نہیں کر سکتے تو آئیے ’’افسوس شکل‘‘ بناکر بیٹھ جاتے ہیں جب تک کہ شطرنج کے کھلاڑی ہماری قسمتوں کا فیصلہ نہیں کرلیتے یا ایک دوسرے کے خلاف کمر سے تلواریں نہیں نکال لیتے۔