Home / کالم / نصاب میں اصلاحات کی ضرورت

نصاب میں اصلاحات کی ضرورت

سی ایس ایس ایک ایسامتحان ہے کہ جو ہر پڑھے لکھے نوجوا ن کا خواب ہوتا ہے۔بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جو پڑھ لکھ کر اس امتحان کی جانب نہ دیکھتے ہوں اور یہ واحد ایک ایسا امتحان ہے کہ جہاں نقل کا راج نہیں ہے اور نہ ہی کوئی امیدوار اپنے پرچوں کے پیچھے پھرتا ہے۔یوں تو ہمارا کلچر بن چکا ہے کہ ہم امتحان میں کوشش کرتے ہیں کہ اول تو ہمیں نقل کا پورا موقع ملے اور پھر ہمیں پتہ چلے کہ ہمارے پرچے مارکنگ کیلئے کس شخص کے پاس گئے ہیں۔اب تو یہ معاملہ بورڈ اور یونی ورسٹی نے اور بھی آسان کر دیا ہے کہ مارکنگ کرنیوالے اساتذہ ایک ہی جگہ اکٹھے کر دئے ہیں اور اسی وجہ سے آج کے بچے گیارہ سو میں سے ایک ہزار ننانوے نمبر حاصل کر رہے ہیں۔ دوسری بڑی وجہ ہمار ا ٹیکسٹ بک بورڈ ہے کہ چند چیپٹرز پر مشتمل کتاب پڑھنے کیلئے دیتا ہے جس میں سے آدھے سے بھی کم اگر تیار کر لئے جائیں تو سو فی صد نمبر مل جاتے ہیں اس لئے طلباء کو زیادہ تگ دو کرنی ہی نہیں پڑتی اور علم بھی ٹیکسٹ بک بورڈ کی نصف کتابوں سے آگے نہیں بڑھتا۔ ا۔اس پہ مستزاد یہ کہ مادری زبان میں تعلیم نے اور بھی بیڑا غرق کر دیا ہے۔

اب ایک گورنمنٹ سکول کا بچہ اس قابل ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ کسی بھی مقابلے کے امتحان میں اور خاص کر سی ایس ایس کے امتحان میں بیٹھنے کے قابل ہو۔ ایک بچہ اگر شروع دن سے ہی تین تین لازمی زبانوں کو سیکھنا شروع کرے گا۔ یعنی ایک مادری زبان ، ایک قومی زبان اور ایک بین الاقوامی زبان تو اُس کے پاس ریاضی ، طبیعات ، کیمیا اور بیالوجی کے سیکھنے کا وقت کب ہو گا او راس کے ساتھ وہ جنرل نالج بھی سیکھے یہ کوئی سپر ہیومن ہی کر سکتا ہے عام آدمی نہیں۔ادھر ہمارے بڑے امتحانوں کی زبان انگریزی ہوتی ہے جو صرف او لیول اور اے لیول کے بچے ہی جانتے ہیں اس لئے کہ اُن کو کسی قومی یا مادری زبان کا درس نہیں ملتا بلکہ وہ صرف انگریزی ہی پڑھتے اور سیکھتے ہیں۔اِس کا نتیجہ اس دفعہ کے سی ایس ایس کے امتحان کا نتیجہ بتا رہا ہے کہ صرف پاکستانی قوم کا دو ڈھائی فی صد حصہ ہی او لیول اے لیول کرتا ہے۔اسی لئے اب صرف یہی حصہ ہمارے حکمران بننے کا اہل ہو گا ۔ باقی کے مادری زبانوں میں اپنی قابلیت بڑھانے میں طاق ہو رہے ہیں۔ ایک تعلیم کا طالب علم ہونے کے ناطے ہم نے ہمیشہ اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکسٹ بک بورڈ کو ختم کر کے ٹیکسٹ کی کتابوں کو لائق ترین اساتذہ کے حوالے کرنا چاہئے تاکہ وہ اپنے تجربے کے مطابق کتابیں لکھیں اور سکول کالج کے پرنسپل اپنی ضرورت کے مطابق کتابیں اپنے بچوں کو پڑھائیں اور امتحان سلیبس کے مطابق لئے جائیں۔یوں ایک تونقل کا خاتمہ ہو گا اور دوسرے طالب علم بہت سی کتابیں پڑھ کر امتحان کی تیاری کریں گے جس سے اُن کے علم میں اضافہ ہو گا اور پھر انشا ء اللہ سی ایس ایس کے متحانات میں ایک بڑی تعداد کامیاب ہو گی جیسا کہ پہلے ہوتی آئی ہے اور اس طرح سے طلباء کو پڑھائی کی طرف بھی آنا پڑے گا اور ذہین طلباء کو آگے آنے کا بھی موقع ملے گا۔

اگر یوں ہمارے نام نہاد ماہرین تعلیم کی نئی نئی تھیوریوں سے نجات مل جائیگی اور ہمیں اپنے ملک کے اعلیٰ دماغوں کو آگے لانے کے مواقع ملیں گے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بہت سی زبانوں کا سکولوں میں پڑھانے اور مادری زبانوں میں تعلیم اپنی جگہ اہم ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ ان کو دیگر زبانوں میں مہارت کا بھی پورا پورا موقع ملنا چاہئے تاکہ جب وہ مقابلے کے امتحان میں آئیں تو ان کو بھی پورا پورا موقع مل سکے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ نصاب تعلیم ہی ہے جو کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور یہی ایک قوم کی تعمیر و ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔آج کی قیادت کو دیکھ لیں کہ ان میں سے ستر اسی فی صد لوگوں نے ان ہی خاص تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی ہے جبکہ عام سکولوں کے طلباء صرف کلرکی کی حد میں ہیں ۔ اور اگر یہی حال رہا تو امید کرتے ہیں کہ ہمارے عوام ہمیشہ کیلئے اس اقلیت کے غلام ہی رہیں گے‘اسلئے ہمیں اپنے سکولوں اور کالجوں میں تدریس کے طریقے بدلنے ہوں گے۔زبانوں کی تعلیم اگر بہت ضروری ہے تو یہ ملک کے سارے سکولوں کالجوں میں لازمی کی جائے اورکسی بھی کالج یا سکول میں مخصوص تعلیم نہ دی جائے۔ تعلیم کوصوبوں کے کنٹرول سے نکال کر مرکز کے حوالے کیا جائے تا کہ سارے ملک کا نصاب تعلیم اور طریقہ تعلیم ایک ہو۔