بریکنگ نیوز
Home / کالم / انتخابی اصلاحات! مگر کسی قسم کی

انتخابی اصلاحات! مگر کسی قسم کی

ایک اخباری رپورٹ کے مطابق زرداری صاحب نے حکومت کوالٹی میٹم دیا ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اندر انتخابی اصلاحات کر دے ورنہ پھر ہم عدالت کا رخ کر یں گے کسی بھی ذی شعور محب وطن پاکستانی کو‘ کہ جس کا جمہوریت پرایقان ہو ‘ وہ انتخابی اصلاحات کی اہمیت کو محسوس کرتا ہے اور ان سے انکار نہیں کر سکتا ‘ زرداری صاحب کے اس بیان سے البتہ کئی سوالات اٹھتے ہیں پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ خود ماشاء اللہ 2008 سے لیکر2013ء تک اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک تھے جس کام کا وہ اب حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں اسے وہ خود بھی شتابی کے ساتھ ان چار برسوں کے عرصے میں بہ آسانی کر سکتے تھے کہ جن کا مطالبہ اب وہ حکومت وقت سے کر رہے ہیں بالکل کئی انتخابی اصلاحات وقت کا تقاضا ہیں سب سے اہم اور بنیادی بات تو یہ ہے کہ جو فرد بھی کسی سیاسی پارٹی کا صدر یا چیئرمین ہو وہ بے شک پارلیمنٹ کا الیکشن لڑے لیکن اس پر یہ قدعن لگا دی جائے کہ وہ نہ ملک کا صدر بن سکے گا اور نہ وزیراعظم اور نہ وزیراعلیٰ‘ اصلی پارلیمانی جمہوریت میں سیاسی پارٹی کے کیڈرز پر جو لوگ تعینات ہوتے ہیں وہ الیکشن جیتنے کی صورت میں خود کسی حکومتی منصب کو نہیں سنبھالتے بلکہ اپنی پارٹی کے کسی فرد کو یہ ذمہ داری سونپ دیتے ہیں وہ خود باہر بیٹھ کر اپنی سیاسی حکومت کی کارکردگی پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اگر ان کی حکومت کے کارندے کسی لغزش کے مرتکب ہوں تو ان کے کان کھنچتے ہیں۔

اس طریقہ کار سے حکومت اپنی پارٹی کے الیکشن کے منشور سے روگردانی نہیں کر سکتی یہ تو خیر ہو گئی بنیادی بات! اب ہم آتے ہیں ان چند اصلاحات کی جانب کہ جو اس ملک کا ہر بندہ فوری طور پر چاہتا ہے کہ ہو جائیں اولا یہ کہ الیکشن مہم کیلئے اخراجات کی حد جو الیکشن کمیشن کے قوانین میں درج ہے اس پر من و عن عمل ہو اور امید وار کو فوراً الیکشن کمیشن نا اہل قرار دے دے کہ جو اس حد سے تجاوز کر کے ثانیا یہ کہ ہر سیاسی پارٹی الیکشن کمیشن کے زیر سایہ ہر چار سال بعد انٹرا پارٹی الیکشن کرائے اورکسی بھی پارٹی کے قائد کو یہ اجازت نہ ہو کہ وہ اوپر سے پارٹی کیڈر کے اندر تعیناتی کرئے ثالثاً ہر سیاسی پارٹی کا بینک اکاؤنٹ ویب سائٹ پر مشتہر ہو اور جو شخص بھی پارٹی فنڈ میں چندہ دے اس کے کوائف عام آدمی کو پتہ ہونے چاہئیں رابعاً ریٹرنگ افسر الیکشن کے دوران کاغذات نامزدگی کو قبول یا مسترد کرنے کا جو بھی فیصلہ کرے اس فیصلے کیخلاف تمام مراحل میں اپیلیں زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کے اندر اند ر نمٹا دی جائیں بھلے اس کیلئے سپریم کورٹ ‘ ہائی کوٹ یا متعلقہ الیکشن ٹریبونل کو چوبیس گھنٹے کام کرنا کیوں نہ پڑے ‘ خامساً آئین کے آرئیکل 62 اور63 کا اطلاق سختی سے ہو کیونکہ پارلیمنٹ میں گندے انڈوں کو روکنے کا یہ واحد موثر طریقہ کار ہے یہ موقف غلط اور لغو ہے کہ اس طرح تو پورے ملک میں پھر کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا کہ جو آئیکل 62 اور63 کے معیار پر پورا اترے بھئی سادہ سی بات آخر کسی نے کہیں نہ کہیں سے اس ضمن میں شروعات تو کرنی ہیں او ر وہ کیوں نہ فی الفورکر دی جائیں کب تک ہم یہ کہہ کر بات ٹالتے رہیں گے کہ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے اس قسم کی اپروچ سے تو پھر ہم کچھ نہ کر سکیں گے ۔

سادساً الیکشن کمیشن حکومت کے ساتھ گفت و شنید کے بعد ہر شہر اور قصبے میں سیاسی پارٹیوں کے جلسوں اور جلسوں کیلئے ایسی جگہیں مقرر کرے کہ جہاں سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے خلق خدا کے روزانہ کے معمولات زندگی متاثر نہ ہوں نہ ہی ٹریفک میں خلل پڑے اور نہ کسی شہر ی کا کاروبار متاثر ہو ‘ اس کے علاوہ اراکین پارلیمنٹ کو پابند بنایا جانے کہ ان کا کام صرف اور صرف قانون سازی ہے ضلع کچہری کے معاملات میں ان کی مداخلت یا سرکاری اہلکاروں کی پوسٹنگ ٹرانسفر سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہو گا اور اگروہ ان میں مرتکب پائے گئے تو وہ اپنی اسمبلی کی سیٹ کھو سکتے ہیں اس سے بھی جو اہم بات انتخابی اصلاحات میں شامل کرنی چاہئے وہ یہ ہے کہ ان پر پابندی لگائی جائے کہ وہ اسمبلی کے سپیکر کی اجازت کی بغیر اسمبلی کے اجلاس سے غیر حاضر نہیں ہو سکتے آخر ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ہر ماہ ان کو لاکھوں روپے تنخواہ دی جاتی ہے ان کا سفری خرچہ بھی حکومت کے سر پر ہے اور میڈیکل الاؤنس بھی اگر تو اس نوع کی اصلاحات زرداری صاحب کے ذہن میں ہیں تو پھر توفبہا دیر کس بات کی؟ لیکن اگر تمام سیاستدان ایسی انتخابی اصلاحات چاہتے ہیں کہ جن سے ان کے سیاسی مفادات کا تحفظ مقصود ہے تو پھر انتخابی اصلاحات کرنے سے نہ کرنا اچھا۔