بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / مشال قتل کیس ٗجے آئی ٹی رپورٹ عدالت میں پیش

مشال قتل کیس ٗجے آئی ٹی رپورٹ عدالت میں پیش

160اسلام آباد۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مشال قتل کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ مردان یونیورسٹی میں خوفناک واقعہ ہوا، ایسے واقعات کی اسلامی معاشرے میں اجازت نہیں، ابھی تک پولیس نے جو تفتیش کی ہے وہ قابل ستائش ہے اس لیے عدالت تفتیش میں مداخلت نہیں کریگی، اس کیس میں یونیورسٹی انتظامیہ کے کردار کو بھی دیکھنا ہوگا، مشال کا قتل ایک دم سے کمرہ کھول کر گولی مارکر نہیں کیا گیا بلکہ صبح سے لے کر دوپہر تک یہ معاملہ چلتا رہا، کیا اس دن پولیس سوئی ہوئی تھی ؟قتل سے چند دن پہلے باتیں شروع ہوئیں پولیس کو کیوں معلوم نہیں ہوا، یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس کی اس مجرمانہ غفلت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، یہ ریمارکس انہوں نے مردان کی ولی خان یونیورسٹی میں ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے مشال خان سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران دیئے ہیں ۔

بدھ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اخود نوٹس کیس کی سماعت کی، دوران سماعت ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخواہ (کے پی کے )کی جانب سے جے آئی ٹی کی رپورٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا گیا کہ 57 میں سے 53 ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں، 49 ملزمان جوڈیشل ریماند پر جیل میں ہیں،چار ملزمان مفرور ہیں، ویڈیو اور آڈیو کلپس کی فرانزک رپورٹ حاصل کرنے کے لئے ثبوت لاہوربھجوائے ہیں، قتل سے متعلق دیگر ثبوت بھی فرانزک رپورٹ کے لئے لیباریٹری کو بھیجے ہیں، عبوری چلان پیش کردیا ہے واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف حتمی چلان رمضان المبارک سے پہلے عدالت میں پیش کر دینگے جبکہ دوران سماعت مقتول مشال خان کے والد اقبال خان بھی اپنے وکیل خواجہ اظہر رشید کے ہمراہ پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آپ کے بیٹے کے قتل پر افسوس ہے اور اس غم میں ہم آپ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں، بڑا خوفناک واقعہ ہوا ایسے واقعات کی اسلامی معاشرے میں اجازت نہیں، ہم نے ازخود نوٹس اس لئے لیا کہ آپ کو انصاف مل سکے، ہم انصاف کی فراہمی کے لئے کوشش کر رہے ہیں، اس پر مشال خان کے والد نے کہا کہ میں اور میرا خاندان آپ کا شکر گزار ہے کہ آپ نے نوٹس لیا، میرا بیٹا تو واپس نہیں آئیگا لیکن پورے ملک میں مشال خان جیسے بچے والدین کے پاس ہیں، میرے بیٹے کو قتل کرنے والے اداکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن جو ہدایتکار ہیں وہ اب بھی قانون کے شکنجے سے بچے ہوئے ہیں، مجھے امید ہے کہ انصاف ملے گا، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہاں کیس کی سماعت اس لئے کر رہے ہیں کہ آپ کو انصاف ملے، ابھی تک پولیس نے جو تفتیش کی ہے وہ قابل ستائش ہے اس لئے عدالت تفتیش میں مداخلت نہیں کریگی، اس کیس میں یونیورسٹی انتظامیہ کیکردار کو بھی دیکھنا ہوگا، مشال کا قتل ایک دم سے کمرہ کھول کر گولی مارکر نہیں کیا گیا، مشال خان قتل صبح سے لے کر دوپہر تک چلتا رہا۔

کیا اس دن پولیس سوئی ہوئی تھی قتل سے چند دن پہلے باتیں شروع ہوئیں پولیس کو کیوں معلوم نہیں ہوا، یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس کی اس مجرمانہ غفلت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، جو ملزمان گرفتار ہوئے ہیں ان کے اوپر جرم ثابت نہیں ہوا تو ان کے حقوق کا بھی خیال رکھیں گے، جے آئی ٹی تمام قانونی تقاضے پورے کرے، ملزمان کے اعترافی بیان کے ساتھ شواد بھی اکٹھے کئے جائیں، اقبال خان صاحب آپ کو آئندہ سماعت پر آنے کی ضرورت نہیں، آپ ہمارے انسانی حقوق سیل کو چٹھی لکھئیے گا وہ ہمیں مل جائے گی، ہم انصاف کی فراہمی کے لئے یہاں بیٹھے ہیں دعا کریں کہ ہم سرخرو ہوں،اقبال خان نے عدالت کو بتایا کہ میرے بیٹے کے قتل کے وقت ڈی ایس پی وہاں موجود تھا، واقعے کے پیچھے ایک دن نہیں پوری سٹوری ہے، مشال خان کی بہنیں ڈر کے مارے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ پا رہی ہیں،اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بچیوں کو اسلام آباد منتقل کرنے سے متعلق کوئی لائحہ عمل بتائیں اسلام آباد انتظامیہ سے بات کرتے ہیں، دوران سماعت صوبائی حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے متعلق درخواست واپس لے لی اور عدالت نے کیس کی مزید سماعت تین ہفتے کے لیے ملتوی کردی۔