بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سی پیک منصوبے کو ناکام کرنے کیلئے ’’را‘‘نے کوشش تیز کردی

سی پیک منصوبے کو ناکام کرنے کیلئے ’’را‘‘نے کوشش تیز کردی


اسلام آباد۔سینٹ قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سی پیک منصوبے کو ناکام کرنے کیلئے ’’را‘‘نے ،لشکر جھنگوی،تحریک طالبان پاکستان اور این ڈی ایس کی خدمات حاصل کی ہیں’’ را ‘‘ان دہشت گرد تنظیموں سے مل کر سی پیک منصوبے کی تکمیل کی راہ میں رکاؤٹیں پیدا کرے گا۔یہ انکشافات قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان سول انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ نے دئیے ہیں انہوں نے قائمہ کمیٹی کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان کے قومی سلامتی کے ادارے دشمن ملک بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لئے پرعزم ہے۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل آئی بی افتاب سلطان نے بتایاکہ ، گذشتہ تین سالوں کے دوران انٹیلی جنس معلومات کی بناء پر 5000آپریشزکئے ہیں جن میں 865 انتہائی مطلوب دہشت گرد پکڑ گئے171مارے گئے ہیں ،کمیٹی نے اقتصادی راہداری منصوبے کو ناکام بنانے والی دہشت گرد تنظیموں اور غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی ہدایت کی ہے ،کمیٹی نے انٹیلی جنس بیورو میں افرادی قوت بڑھانے اور راشن کے حصول کیلئے اپنے آپ کو افغانی قرار دینے والوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی ہدایت کی ہے ، کمیٹی کا اجلاس چیرمین سینیٹر محمد طلحہ محمود کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا اجلاس میں گزشتہ اجلاسوں میں دی گئی سفارشات پر عمل درآمد ، انٹیلی جنس بیورو کی سی پیک منصوبے کے حوالے سے سیکورٹی کے معاملات ، سیاستدانوں اور اداروں کی ٹیلی فون ٹیپنگ ، لاپتہ افراد کے معاملات کے علاوہ انٹیلی جنس بیور و کے کام اور طریقہ کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔

چیئرمین نادرا عثمان مبین نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ نادرا کا کام پاکستانی شہریوں کی رجسٹریشن کرنا اور شناختی کارڈ جاری کرنا ہے ۔انٹیلی جنس بیورو نے2797 کیسز بھیجے تھے جن میں سے 1822نادرا کو موصول ہوئے اور ان کی مکمل چھان بین کر کے بلاک کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک میں پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کیلئے پی او آر کارڈز دیئے گئے تھے اور2.2ملین لوگوں نے وہ کارڈ وصول کئے ۔کچھ پاکستانیوں نے بھی پیسوں کی خاطر وہ کارڈ حاصل کئے اور افغانستان گئے پھر واپس آ گئے۔کچھ لوگوں نے پیسے دے کر فیملی نمبرزحاصل کئے ۔جس پر اراکین کمیٹی نے ان کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی سفارش کی ۔ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو آفتاب سلطان نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ وزارت داخلہ نے ایک نیا طریقہ کار اختیار کیا ہے جس کے تحت صوبائی سطح پر ضلع وائیز شناختی کارڈوں کی تصدیق ہو گی۔اراکین کمیٹی نے پارلیمنٹیرینز کو بھی تصدیق کنندہ کمیٹی میں شامل کرنے کی سفارش کر دی۔آفتاب سلطان نے کہا کہ نادرا نے پچھلے چھ ماہ کے دوران 31566شناختی کارڈوں کا ڈیٹا بھیجا تھا ۔ 500کا جواب دے دیا گیا ہمارے پاس کیپیسٹی کاا یشو ہے آٹھ ماہ تک رپورٹ فراہم کر دی جائے گی اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے غیر ملکیو ں کے شناختی کارڈ کے اجراء کی روک تھام کے حوالے سے سخت اقدامات اٹھا رہے ہیں اور اسی لئے انہوں نے وزارت داخلہ کے ملازمین سمیت2500 افراد کی لسٹ تصدیق
کیلئے بھیجی ہے۔

جس پر قائمہ کمیٹی نے انٹیلی جنس بیورو کے مین پاور بڑھانے کی سفارش کر دی۔چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں چیئرمین نادرا نے کہا کہ کسی غیر ملکی کا سرکاری ملازمت میں ہونا ہمارے علم میں نہیں ہے البتہ نادرا میں دو کیسز آئے تھے جنہیں نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ وزارت اورنادرا غیر ملکیو ں کی شناخت کیلئے واضح طریقہ کار اختیار کرے۔چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں چیئرمین نادرا نے کہا کہ شہریت دینا نادرا کا کام نہیں وزارت داخلہ کا کام ہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ بہت سے دہشت گردوں سے پاکستانی شناختی کارڈ و پاسپورٹ ملے تھے مگر حقیقت میں وہ پاکستانی نہیں تھے انہوں نے جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کئے تھے ان معاملات سے پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوتی ہے ان کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں ا ور کوئی بھی دہشت گرد گر فتار ہو تو اس کو میڈیا کے سامنے پیش کر کے دنیا کو دکھایا جائے۔ بھارتی فوج کا کرنل کلبھوشن پاکستان میں دہشت گردی کے معاملات میں گرفتار ہوا او ر بھارت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھایا جائے ۔دشمن ملک نے مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کے صوبوں بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں دہشت گردی کے پہاڑ توڑے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ نادرا ملازمین کی ملی بھگت سے کئی غیر ملکیوں کے بلاک کارڈ کھولے گئے ہیں۔نادار اپنی پالیسی کا جائزہ لیں ۔ڈائریکٹر جنر ل انٹیلی جنس بیورو آفتاب سلطا
ن نے قائمہ کمیٹی کو انٹیلی جنس بیورو کی کارکردگی ، کام کے طریقہ کار،بجٹ،دہشت گردی کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات کے معاملات پر تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے آگاہ کیا کہ یہ ادارہ1830سے قائم ہو اہے۔

1947میں آزاد ادارے کے طور پر سنٹرل انٹیلی جنس بیورو میں تبدیل ہوا۔ادارے کے فنکشز بارے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اندرونی و بیرونی انٹیلی جنس کے علاوہ کاؤنٹر انٹیلی جنس اور سیکورٹی کے معاملات سر انجام دئے جاتے ہیں۔2013-16تک ادارے نے 5000آپریشزکئے ہیں جن میں 865 انتہائی مطلوب دہشت گرد پکڑ گئے171مارے گئے۔ادارے کا کام ملک کو لاحق خطرات بارے حکومت کو آگاہ کرنا ہے۔کراچی اور خیبر پختون خواہ کے بعد صوبہ پنجاب اور بلوچستان میں بھی آپریشن شروع کئے جا رہے ہیں۔ادارے میں پچھلے تین سالوں کے دوران 11.34لاکھ کے قریب ٹیکنیکل سہولت فوج و دیگر فورسزکو فراہم کئے گئے آئی بی کسی بھی فرد کے لاپتہ ہونے میں شامل نہیں ہے ہمار اکام صرف معلومات فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے کی سیکورٹی کے حوالے سے سی پیک روٹ پر آئی بی کے دفاتر قائم کئے جائینگے اور سی پیک منصوبے کو ناکام کرنے کیلئے راء ،لشکر جھنگوی،تحریک طالبان پاکستان اور این ڈی ایس تنظیمیں سرگرم عمل ہیں جن کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیوکو پوری دنیا نے دیکھاا ور وزیر اعظم پاکستان نے اوڑی حملے کے الزامات بارے دنیا کو تفصیل سے آگاہ کیا انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیکورٹی کی حالت پچھلے تین سالوں میں نمایاں بہتر ہوئی ہے۔ادارہ ملک کے اہم منصوبوں جن میں بجلی،ائر پورٹ وغیرہ شامل ہیں کی آڈٹ رپورٹ حکومت کو فراہم کرتا ھے۔

اور ملکی مفاد و سلامتی کی خاطر آئی بی ا ور آئی ایس آئی کو فون مانیٹر کرنے کی اجازت ہے۔آفتاب سلطان نے یہ بھی تسلیم کیاکہ 1992کے کراچی آپریشن کے بعد انٹیلی جنس بیورو کو سلا دیا گیا تھا ۔مگر وزیر اعظم پاکستان نے ایک دفعہ پھر ادارے کو بھرپور منظم کیا ہے او ربہت سے مسائل حل کئے ہیں جس سے کارکردگی میں نمایاں بہتری ہوئی ہے ا ور دہشت گردی میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے اور آئی جی رینجرز نے کہا ہے کہ انٹیلی جنس بیوروکی معلومات کی بدولت دہشت گردی کی کنٹرول میں نمایاں مدد ملی ہے۔انٹیلی جنس بیورو کی معلومات تقریبا100 فیصد درست ثابت ہوئی ہیں۔جسے قائمہ کمیٹی نے بھی سراہا ۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ انٹیلی جنس بیورو کی کارکردگی قابل تحسین ہے اور سی پیک منصوبے کیلئے انٹیلی جنس کی ایک سپیشل ونگ قائم کی جائے جو شرپسند عناصر کے قلع قمع میں مدد کرے۔انہوں نے کہاکہ ادارے کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ کراچی میں پولیس کے شعبے میں 1400اوپن تقرری لیٹر جاری کئے گئے جن میں سے700لوگ بھرتی ہوئے اور 300لوگ ایسے تھے جو قتل کے مقدمات میں ملوث تھے۔کراچی میں اسلحے کا ڈھیر ہے پولیس میں بہت سی سیاسی بھرتیاں کی گئی ہیں۔کراچی کا امن عارضی ہے پارٹیوں کے بندوں کا تبادلہ کیا جائے۔انہوں نے کراچی میں امن قائم کرنے کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات اور آ پریشن کے حوالے سے انٹیلی جنس بیورو اور رینجرز کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ سرکاری اداروں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ ڈیپوٹیشن پر کام کر رہے ہیں پمز ہسپتال میں 400افراد ڈیوپٹیشن پر کام کر رہے ہیں اور صرف24لوگ جو پٹھان اور بلوچ ہیں انکو انتظامیہ نے واپس محکموں میں بھیج دیا ہے ۔ مس نسیمہ احسان پمز ہسپتال میں ایک اہم عہدے پر ڈیپوٹیشن پر تعینات ہیں اور ان کے دستخط سے ہی ان افراد کو واپس محکموں می بھیجا گیا ہے ۔ یہ امتیازی سلوک کن بنیادوں پر برتا جا رہا ہے آئندہ اجلاس میں ان معاملات بارے قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز شاہی سید،ہدایت اللہ ،میر محمد یوسف بادینی،کلثوم پروین اور حاجی سیف اللہ بنگش کے علاوہ چیئرمین نادرا عثمان مبین ،ائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو آفتاب سلطان ،کے علاوہ دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔