بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / وزیراعظم نواز کو مستعفی ہونے کیلئے الٹی میٹم

وزیراعظم نواز کو مستعفی ہونے کیلئے الٹی میٹم


لاہور۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ آل پاکستان وکلاء نمائندہ کنونشن نے وزیراعظم نواز شریف کو مستعفی ہونے کیلئے27 مئی تک کا الٹی مٹیم دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوازشر یف استعفیٰ دیکر تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں ‘آئندہ کے لائحہ عمل کے لئے سپریم کورٹ بار کے صدر کی سربراہی میں نیشنل ایکشن کمیٹی تشکیل دیدی گئی ، رمضان المبارک میں ہر جمعرات کو بار ایسوسی ایشنز پر سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے جبکہ وکلاء بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے ، وزیر اعظم کے مستعفی نہ ہونے کی صورت میں رمضان المبارک کے بعد نیشنل ایکشن کمیٹی آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی ۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں منعقد ہ آل پاکستان وکلا کنونشن کے بعد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رشید اے رضوی نے مشترکہ اعلامیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف 27 مئی تک مستعفی ہو کر پاناما لیکس کیس کی تحقیقات کے لیے قائم مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں ۔رمضان المبارک میں تمام بار ایسوسی ایشنز ہر جمعرات کرپشن کے خلاف دن منائیں گی اور اس سلسلہ میں بار ایسوسی ایشنز پر سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے جبکہ وکلاء بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے ۔

اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ چیئرمین قومی احتساب بیورو اور ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے ) کو بھی فوری طور پر ان کے عہدوں سے برطرف کیا جائے کیونکہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اعلامیے میں لیگی وکلا کی جانب سے ہائی کورٹ بار کے کنونشن پر حملے کو قابل مذمت قرار دیا گیا ۔اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کی سربراہی میں وکلا ء کی نیشنل ایکشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو رمضان المبارک کے بعد آئندہ کے حو الے سے لائحہ عمل کا جائزہ لے گی ۔کمیٹی میں ملک بھر کی ہائیکورٹس بارز ،پاکستان بار،پنجاب بار کے نمائندے شامل ہوں گے جبکہ سپریم کورٹ بار اور لاہو رہائیکورٹ بار ز کے سیکرٹریز نیشنل ایکشن کمیٹی کے سیکرٹری ہوں گے۔

صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن رشید اے رضوی نے کنونشن میں مخالف گروپ کی جانب سے اپنائے جانے والے رویے کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم متحد ہوکر حکومتی مشینری کی تمام تر کوششیں ناکام بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے زبردستی لائبریری میں بند کردیا گیا تھا ،ساتھیوں نے تالاتوڑ کر مجھے باہر نکالا ۔وکلاء رہنماؤں نے اپنے خطابات میں کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف فوری طور اپنے عہدہ سے مستعفی ہوں کیونکہ پانامہ کے 20اپریل کے فیصلے میں تمام ججز نے انہیں بد عنوان اور بددیانت قرار دیا ہے ۔2سینئر ججوں نے انہیں نااہل قرار دیا ہے اور اس کے بعد ان کے پاس کوئی اخلاقی قانونی جواز باقی نہیں رہتا کہ وہ اپنے عہدے پر براجمان رہیں۔

اپنے عہدے پر موجودگی کی صورت جے آئی ٹی کبھی بھی شفاف آزادنہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات نہیں کر سکتی اور جے آئی ٹی کی قانونی حیثیت مشکوک رہے گی اور ان پر سوالیہ نشان قائم رہے گا۔ یہ کنونشن جمہوریت ، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے اوپر مکمل یقین رکھتا ہے اور اس ملک میں جمہوری روایات کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کرتا ہے ۔ کرپشن جو کہ اس ملک کا ناسور بن چکا ہے اور ارض وطن کو دیمک کی طرح کرپشن چاٹ رہی ہے کہ خلاف کنونشن بھر پور ردعمل کا اظہار کرتا ہے اور کرپشن کے خاتمے کیلئے اپنا آئینی اور دستوری کردار ادا کرنے کا اعادہ کرتا ہے ۔