بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / اجتماعی ترقی کا نیا چینی نظریہ

اجتماعی ترقی کا نیا چینی نظریہ


چین میں ون بیلٹ ون روڈعنوان کے تحت منعقدہونیوالی کانفرنس میں65 سربراہان مملکت وحکومت سمیت 130 ممالک اور عالمی اداروں اور تنظیموں کے پندرہ سو سے زائدمندوبین کی شرکت کے ذریعے چینی قیادت نے اجتماعی ترقی کا جونیا نظریہ پیش کیا ہے وہ عالمی دولت اور اقتصادی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور دینا بھرکی غریب اقوام کوترقی اور خوشحالی کے یکساں مواقع فراہم کرنے کا ایک منفرد اورا چھوتا خیال ہے۔ ایشیا‘ یورپ اور افریقہ کی ترقی کے اس منصوبے کا لب لباب یہ ہے کہ دنیا بھر میں ترقی کے جو نت نئے تجربات ہوئے ہیں اوریا پھر اس ضمن میں آج کل جو ماڈل روبہ عمل ہیں چینی قیادت کی سوچ کے مطابق ترقی کے ان ثمرات کو چندترقی یافتہ اقوام تک محدود رکھنے کی بجائے ان سے تمام ممالک کو فائدہ پہنچایا جانا چاہئے ۔ یہ نظریہ دراصل چینی سوشلزم کی ایک جدید شکل ہے جس میں امریکہ اورمغربی ممالک کے سرمایہ دارانہ نظام جو ارتکاز دولت کی بنیاد پر استوارہے کے برعکس دولت کی منصفانہ تقسیم پر زور دیاگیا ہے۔ اصل میں چین نے پچھلے چند سال کے دوران جو حیران کن ترقی کی ہے اور اس ترقی نے مغرب بالخصوص امریکہ اور اس کے اتحادی سرمایہ دار ممالک میں جو ہلچل مچارکھی ہے اسکو مدنظررکھتے ہوئے اوبور کانفرنس کے اعلامیے اور خاص کر اس غیر معمولی کانفرنس سے چین کے صدر شی چن پنگ کے کلیدی خطاب نے سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی کے تصور کو مزید گہرا کردیا ہے۔

چین نے ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے کے تحت غریب اور پسماندہ ممالک تک کالونیل ازم کی سوچ کے برعکس دوستی اور باہمی تعاون کے اصول اور نظریئے کی بنیاد پر اقتصادی تعاون اور اجتماعی ترقی کا جو نیا نظریہ پیش کیا ہے اوبورکانفرنس میں سو سے زائد ممالک کی شرکت سے نہ صرف اس نظریئے کی عالمی سطح پر تائید کی راہ ہموار ہوئی ہے بلکہ اس کانفرنس کے کامیاب انعقاد سے آنے والے دنوں میں اس نظریئے کے پھیلاؤ کے قوی امکانات بھی پیدا ہوگئے ہیں۔ اس نئے نظریئے پر بات کرتے ہوئے ہمیں جہاں اوبور کانفرنس میں امریکہ کی عدم دلچسپی اور بھارت کی عدم شرکت کے پہلوؤں کو نظرمیں رکھنا چاہئے وہاں اس نظریئے کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے اس میں پاکستان کے کردار اور مقام کا تعین بھی ضروری ہے ۔ امریکہ جو اپنے آپ کو اکیسویں صدی کا سپریم پاور سمجھتا ہے او رپوری دنیا پر اجارہ داری کا خواہشمند ہے وہ کسی ایسے عالمی اتحاد اور منظرنامے کو کبھی بھی ابھرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہے گا جس کی قیادت چین اور روس کے پاس ہوگی۔ گوکہ چین کے جہاندیدہ اور دانشور صدر شی چن پنگ اوبور کانفرنس سے اپنے خطاب میں بڑے واضح الفاظ میں اس تاثرکی نفی کر چکے ہیں کہ ون بیلٹ ون روڈ کے نظریئے کے تحت قائم ہونیوالا اقتصادی اتحادکسی ملک کے خلاف ہے اور اس اتحاد کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہیں۔

چینی صدر نے اعلان کیا کہ اوبور صدی کا پراجیکٹ ہے اسکی تکمیل اور کامیابی کیلئے دشمنیوں کے کھیل کی پرانی راہ پر نہیں چلیں گے اوبور کی صورت میں چین اپنے اس عالمگیر منصوبے کوچونکہ پاکستان کی شمولیت کے بغیر عملی جامہ نہیں پہناسکتاہے ا سلئے وہ اس کی تکمیل میں پاکستان کو خصوصی اہمیت دے رہاہے جس کی نمایاں مثا ل سی پیک ہے جس پر چین اگلے دس سال میں 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریگا سی پیک پاکستان کی70سالہ تاریخ میں شاید وہ پہلا منصوبہ ہے جس پر نہ صرف تمام ریاستی ادارے اورسیاسی جماعتیں متفق ہیں بلکہ چاروں صوبے اورپوری قوم یک زبان ہوکر اس منصوبے کی تکمیل اورکامیابی کے لئے پرعزم بھی ہیں وزیراعظم کی قیادت میں چاروں وزرائے اعلیٰ نے اوبور کانفرنس میں شرکت کے ذریعے جس اتحاد ویکجہتی کاپیغام دیاہے اس سے پاکستان دشمن قوتیں یقیناًخوش نہیں ہونگی اسی طرح اوبور منصوبے میں چین کی جانب سے مزید 124 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلان سے چین کی دنیا سے غربت کے خاتمے اوراپنے وسائل کو چین کیساتھ ساتھ خطے کے دیگر غریب اورترقی پذیر ممالک میں غربت کے خاتمے پر خرچ کرنے کی اس انقلابی سوچ کوبھی مزید تقویت ملی ہے جسکا اظہار چینی صدر نے اوبور فورم میں اجتماعی ترقی کے نئے اقتصادی نظریئے کی صورت میں کیا ہے ۔توقع ہے کہ یہ نظریہ پوری دینا کیلئے امن،ترقی اور خوشحالی کا ایک نیاپیغام لیکر آئے گا۔