بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / سکارف کے بغیر سعودی عرب کا دورہ کرنے والی خواتین

سکارف کے بغیر سعودی عرب کا دورہ کرنے والی خواتین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کا آغاز یورپی و سیکیولر ملک کے بجائے قدرے قدامت پسند سمجھے جانے والے مگر اہم ترین اسلامی ملک سے کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس سے نکل کر ایک دن غیر ملکی دورہ ویسے بھی کرنا تھا، اور وہ اس پہلے دورے کے دوران بھی ایک ساتھ کم سے کم 5 ممالک کا دورہ کریں گے، مگر زیادہ تر لوگوں کو اس بات پر تعجب ہے کہ آخر مسلم ممالک کے شہریوں پر پابندی عائد کرنے والے صدر نے دوروں کا آغاز اسلامی ملک سے کیوں کیا؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دورے کے پیچھے بھی سیاسی و معاشی مقاصد ہوں گے، مگر اس سے زیادہ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ امریکی صدر کی ریاض آمد سے سعودی محکمہ خارجہ کو خاص بیان دینا پڑا کہ’ ٹرمپ کے ساتھ آنے والی ان کی اہلیہ اور بیٹی کے لیے اسکارف پہنا لازمی نہیں ہے‘۔

اگر سعودی محکمہ خارجہ یہ وضاحتی بیان جاری نہیں کرتا تو کیا میلانیا اور ایوانکا ٹرمپ اسکارف پہن کر آتیں؟

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ مغربی خواتین نے مسلم ملک کے دورے کے دوران اسکارف نہیں پہنا، اس سے پہلے بھی متعدد عالمی خواتین بغیر اسکارف کے ریاض کے دورے کر چکی ہیں۔

—فوٹو: اے پی

البتہ سعودی عرب کا دورہ کرنے والی تمام غیر ملکی خواتین نے اپنے دوروں کے دوران مکمل لباس ضرور پہنا۔

مغربی و یورپی ممالک کے مقابلے میں اگر مسلم ممالک کی خواتین سعودی عرب کا دورہ کرتی ہیں تو وہ اکثر و بیشتر اسکارف پہنتی ہیں۔

—فوٹو: رائٹرز

میلانیا اور ایوانکا ٹرمپ نے سعودی دورے کے دوران اسکارف تو نہیں پہنا، مگر وہ بھی یہاں مکمل لباس پہننے پر مجبور ہوگئیں، ورنہ وہ اپنی عام زندگی میں وہ مختصر کپڑے پہننے کی عادی ہیں۔

میلانیا اور ایوانکا کے مکمل لباس کو عالمی رسالوں اور اخبارات نے عرب طرز کا لباس قرار دیا، جس میں دونوں خواتین قدرے پرکشش دکھائی دیں۔

ان دونوں سے پہلے بھی کچھ امریکی و یورپی ممالک کی خواتین اسکارف کے بغیر مگر مکمل لباس میں سعودی عرب کا دورہ کر چکی ہیں۔

سابق امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس

دونوں دوروں میں انہوں نے اسکارف نہیں پہنا—فوٹو اے پی

سابق امریکی وزیر خاجہ کونڈولیزا رائس نے 2007 اور 2008 کے دوران مسلسل 2 بار سعودی عرب کا دورہ کیا، مگر انہوں نے دونوں بار اسکارف نہیں پہنا، ہاں البتہ وہ مکمل تھری پیس سوٹ میں نظر آئیں۔

سابق امریکی خاتون اول لارا بُش

پہلے دورے میں انہوں نے اسکارف نہیں پہنا—فوٹو اے پی

ان ہی سالوں میں خاتون اول لارا بش نے بھی سعودی عرب کے دورے کیے، وہ بھی 2007 میں اسکارف کے بغیر مکمل سیاہ لباس میں نظر آئیں۔

جرمن چانسلر اینجلا مرکل

—فوٹو اے پی

جرمن چانسلر اینجلا مرکل بھی 2010 میں اسکارف کے بغیر دکھائی دیں، ان کی سعودی خواتین کے ساتھ لی گئی تصاویر بھی منظر عام پر آئیں، جن میں تمام خواتین اسکارف پہنی ہوئی تھیں۔

سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن

—فوٹو اے پی

سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے بھی 2012 میں اسکارف کے بغیر مگر مکمل لباس میں سعودی عرب کا دورہ کیا۔

برطانوی شہزادی کمیلا

انہوں نے ایئرپورٹ سے لے رہائشی محل تک اسکارف پہنے رکھا، ملاقاتوں کے دوران بغیر اسکارف کے نظر آئیں—فوٹو: میل آن لائن

برطانوی شہزادے چارلس نے اپنی اہلیہ کمیلا کے ساتھ 2013 میں سعودی عرب کا دورہ کیا تو ان کی اہلیہ نے ریاض ایئرپورٹ پر پہنچتے ہی اسکارف پہنا، مگر بعد ازاں وہ مختلف ملاقاتوں کے دوران بغیر اسکارف میں دیکھی گئیں۔

سابق امریکی خاتون اول مشیل اوباما

—فوٹو اے پی

سابق صدر براک اوباما نے بھی اپنی اہلیہ کے ساتھ 2015 میں سعودی عرب کا دورہ کیا، مگر مشیل اوباما نے بھی اسکارف کو چھوڑ کر مکمل لباس پہننے کو ترجیح دی۔

ارسلا وون ڈیر

—فوٹو ڈی پی اے

جرمنی کی وزیر دفاع ارسلا وون ڈیر بھی اسکارف کے بغیر 2016 میں سعودی عرب کا دورہ کر چکی ہیں، جرمن خاتون وزیر نے اسکارف کے بغیر ایک ایسے وقت میں ریاض کا دورہ کیا، جب کہ جرمنی میں برقع پر پابندی لگائی گئی تھی۔

برطانوی وزیر اعظم تھریسامے

—فوٹو: رائٹرز

رواں برس اپریل میں برطانوی وزیر اعظم تھریسامے بھی سعودی عرب کے دورے پر پہنچیں تو دنیا بھر میں شور مچ گیا کہ انہوں نے اسکارف نہیں پہنا۔

دورے کے دوران دوپٹے نما سادہ کپڑا تھریسامے کے گلے میں نظر آیا، مگر کسی بھی موقع پر انہوں نے اس کپڑے کو سرپر نہیں رکھا، جب کہ وہ بھی مکمل لباس میں نظر آئیں۔

سابق برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر

—فوٹو: میل آن لائن

سابق برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر نے 1985 میں سعودی عرب کے دورے کے دوران اسکارف پہننے کے بجائے ہیٹ پہننے کو ترجیح دی, مارگریٹ تھیچر نے سعودی بادشاہ فہد سے ملاقات کے دوران سر پر ہیٹ اور مکمل لباس پہنا۔

سعودی عرب میں اسلامی روایات کے مطابق لباس پہننا لازمی ہے، خواتین کو باہر نکلنے سے قبل مکمل پردہ کرنا ہوتا ہے، تاہم گزشتہ چند سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے قدرے سخت اقدامات میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے۔

حالیہ برسوں میں سعودی عرب کی حکومت نے خواتین کو نہ صرف سیاست میں حصہ لینے، ووٹ ڈالنے، نوکری کرنے اور ضروری کام کے لیے مرد سرپرست کی اجازت سے آزاد کرنے جیسی سہولتیں فراہم کی ہیں، بلکہ ملک میں پہلی بار مرد و خواتین کے لیے تفریحی پروگرامات کرنے کی بھی اجازت دی ہے۔