بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / مزید100ڈیم

مزید100ڈیم


ایک ہم ہیں کہ اپنے پانیوں کو دوسروں کیلئے عملاً کھلاچھوڑدیاہوا ہے اور پھر اس کاالزام سندھ طاس معاہدے پرعائدکرتے ہیں اس ضمن میں اکثر سابق صدر ایوب خان کو ہدف تنقید بنایاجاتاہے کہ انہوں نے مذکورہ معاہدہ کرکے تین دریا بھارت کو بیچ دیئے جس کی وجہ سے آج ہمیں شدید مشکلات کاسامنا کرناپڑرہاہے مگر ایسا کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ صدر ایوب کے سامنے اس معاہدے پر دستخط کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی نہیں تھا اس حوالے سے واپڈاکے سابق چیئر مین انجنیئر شمس الملک نے راقم کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران یہ انکشاف کیاتھاکہ پاکستا ن نے با امر مجبوری اس معاہدے پر دستخط کیے تھے انکا کہناتھاکہ پاکستان اس وقت کمزور تھا ورلڈ بینک کے صدر پاکستان آئے اور صدر ایوب پر واضح کیا کہ جناب صدر! اگر آپ اس پوزیشن میں ہیں کہ نہ صرف بھارت سے جنگ کرسکیں بلکہ جیت بھی سکیں تو بیشک اس معاہدہ پر دستخط نہ کریں لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو پھر آپکے لئے دستخط کرنا ہی بہترین راستہ ہے صدر ایوب کو ان کا اشارہ سمجھنے میں دیر نہ لگی چنانچہ آبرومندانہ حل اور اپنے حصہ کے پانی کے حصول کیلئے ان کو سندھ طاس معاہدہ پر دستخط کرنا پڑے تاہم اس معاہدے میں کہیں بھی اس کاذکر نہیں ہے کہ اگر پاکستان اپنے حصے کاپانی استعمال نہیں کرتا تو پھربھارت کو اس پانی کے استعمال کا حق ہوگا اس معاہدے کے بعد پاکستان نے پہلی مرتبہ پر ملک میں بڑے ڈیموں کی تعمیر پرتوجہ مبذول کی مگر ایوب خان اور بھٹو کے بعداس حوالہ سے کو ئی پیشر فت نہ ہوسکی اور آج صورت حال یہ ہے کہ ڈیموں کی تعمیر کے معاملہ میں ہم باقی دنیا سے کہیں پیچھے رہ گئے ہیں اورا ب حالت یہ ہے کہ بھارت ایک طرف اپنے ہاں ہمارے حصے کے پانیوں پر دھڑادھڑ ڈیم بناتا جارہاہے اور دوسری طرف وہ افغانستان کو بھی اس سلسلے میں مسلسل شہ دے رہاہے تاکہ وہ بھی دریائے کابل پر زیادہ زیادہ سے بند بناکر پاکستان کو بنجر بنانے کی بھارتی سازش میں اپنا حصہ ڈال سکے بھارت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بھارت نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کو صحر میں بدلنے کیلئے سازشوں کا جال بچھاتے ہوئے پاکستان کے حصے کے پانی پر 100بڑے ڈیم اور سینکڑوں پاور پراجیکٹس کی تعمیرکاسلسلہ شروع کردیاہے۔

اس سلسلے میں بھارت نے دریائے چناب پر 24،دریائے جہلم پر 52اور دریائے سندھ پر 18مزید ڈیموں کی تعمیر کی تیاریاں مکمل کرلیں جس کیلئے ورلڈ بینک نے قرضہ بھی جاری کردیاہے جبکہ ہمارے ہاں ابھی تک کالاباغ ڈیم کا تنازعہ ہی ختم نہیں ہوسکا ہے ،ذرائع کے مطابق اگر بھارت نے مرالہ ہیڈ ورکس بند کردیا تو مرالہ راوی لین کینال سے پاکستان میں چاول کی پیداوارشدید متاثر ہوگی کیونکہ اس سے چاول کی پیداوارکیلئے مشہور ایک کروڑ ایکڑرقبہ بنجر ہوکررہ جائے گا بھارت کے ان منصوبوں میں دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم کا فیز ون مکمل ہوچکاہے یہ منصوبہ مرالہ ہیڈ ورکس سے 147کلومیٹر اوپر بنایا گیاہے اسی طرح سلال پراجیکٹ بھی ہیڈ مرالہ سے 45کلومیٹر اوپر بنایاگیاہے اسی طرح چناب کے اوپر کشتواڑ کے قریب ڈل ہستی نامی ڈیم بنایاجاچکاہے اگر بڑے اورمیڈیم ڈیموں کاذکر کیاجائے جن پرکا م جاری ہے ان میں 1200میگا واٹ کا سوالکوٹ پراجیکٹ‘ 1020 میگا واٹ کا پکادل ،560کا رتلی ،1020 کابرسار،600 کاکرتھائی‘370 کاشامنوٹ‘ 715کا روئلی پاور پراجیکٹ شامل ہیں یہ فہرست کافی طویل ہے ان میں چھوٹے ڈیم بھی شامل ہیں اسی طرح دریائے جہلم اور دریائے سندھ پربھی درجنوں ڈیم اور پاورپراجیکٹس کی تعمیر جاری ہے ماہرین کے مطابق یہ تمام منصوبے مکمل ہونے سے پاکستان میں بدترین آبی بحران کاخدشہ ہے۔

جس کیلئے حکومت کو بھرپورطریقے سے اقدامات کرنا ہونگے یہ بات طے ہے کہ جب ہم اپنے حصہ کاپانی استعمال کرنے کو کوئی راہ نہیں نکالتے ہم بھارت کو ان ڈیموں کی تعمیر سے نہ تو روک سکتے ہیں نہ ہی باقی دنیا کواپنا ہمنوا بناسکتے ہیں البتہ اگر ایک بار ہم نے اپنے حصہ کاپانی ذخیرہ کرکے اسے بجلی اور زراعت کیلئے استعمال کر نے کی راہ نکال لی تو پھر بھارت ہمارے حصہ کے پانی کے استعمال کے اخلاقی حق سے بھی محرو م ہوجائیگا اسی طرح دریائے کابل پرڈیم بنا کر ہم افغانستان کی سازشوں کاراستہ بھی روک سکتے ہیں اس سلسلے میں اب ہمارے پاس وقت بہت کم رہ گیاہے اس حوالہ سے حکومت ،پارلیمنٹ ،سیاسی قیادت اور سب سے بڑھ کر میڈیا کو بھی اپنا کردار اداکرنا ہوگا بڑے ڈیموں کی تعمیرکے سلسلے میں اب ہمیں بے اعتنائی والے رویوں سے ہرصورت اجتناب کرنا ہوگا بصورت دیگر پانی کی بڑھتی قلت ہمیں بد ترین صورتحال سے دوچار کرسکتی ہے اور بھارت پانی کا ہتھیار استعمال کرکے ہمیں جنگ کیے بغیر ہی بدترین نقصان پہنچا سکتا ہے ۔