بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / مہنگائی کی روک تھام کیلئے ناکافی انتظامات

مہنگائی کی روک تھام کیلئے ناکافی انتظامات


وطن عزیز میں مارکیٹ کنٹرول کا موثر اور تکنیکی مہارت کا حامل نظام نہ ہونے کے باعث مہنگائی میں ہوشربا اضافے نے غریب اور متوسط شہریوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اس سب کے ساتھ بینک دولت پاکستان اپنی مانیٹری پالیسی میں گرانی کی شرح مزید بڑھنے کی وارننگ بھی دے رہا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کی اکانومی اور اوپن مارکیٹ پر عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کا اثر ضرور ہوتا ہے پاکستان جیسے ملک پریہ اثر اس لئے بھی زیادہ ہوتا ہے کہ ہماری معیشت کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں تلے دبی ہے ہمیں ریونیو اور یہاں تک کہ یوٹیلیٹی بلوں میں بھی ان بیرونی ادائیگیوں پر نگاہ رکھنا پڑتی ہے بعض فیصلے عالمی مالیاتی اداروں کی ڈکٹیشن پر کرنا پڑتے ہیں اس سب کے ساتھ انکاراس بات سے بھی نہیں کیا جاسکتا کہ عالمی منڈی کے اثرات کیساتھ ہمارے ہاں مارکیٹ کنٹرول کا کوئی موثر مکینزم نہیں یہی وجہ ہے کہ آج برسرزمین صورتحال رمضان المبارک کی آمد کے باعث مزید سنگین ہوچکی ہے سبزی اور پھلوں کے نرخ بڑھنے پر عام شہری کی قوت خرید جواب دے چکی ہے مارکیٹ سے بعض ضروری اشیاء غائب کرکے مہنگے داموں فروخت کرنے کیلئے ذخیرہ کردی گئی ہیں۔

اس کے ساتھ ملاوٹ انسانی زندگی اور صحت کیلئے خطرہ بن چکی ہے گٹروں سے بوسیدہ پائپوں کے ذریعے آنے والا آلودہ پانی پینے والے شہری دودھ اور اس سے بنی اشیاء بھی مضر صحت ہی استعمال کرنے پر مجبور ہیں روٹی کے ریٹ اور ویٹ سے متعلق شکایات عام ہیں مردہ مرغیوں کے ساتھ لاغر اور بیمار جانوروں کا گوشت سرعام فروخت ہورہا ہے اس سب پر ہمارے ہاں معاملہ ابھی اجلاسوں اور کمیٹیوں کی تشکیل پر ہی رکا ہوا ہے‘ انتظامیہ ابھی نرخوں کے تعین اور چھاپوں کے لئے منصوبہ بندی کررہی ہے جبکہ صارفین ماہ رمضان المبارک کے لئے خریداری کسی حد تک مکمل کرچکے ہیں اس خریداری کے لئے مارکیٹ کو ہر قاعدے قانون اور چیک اینڈ بیلنس سے آزاد رکھا گیا تاکہ بٹورنے والے زیادہ سے زیادہ رقم اکٹھی کرسکیں اب اس کے بعد حکومتی ادارے تاجروں کے ساتھ مل کر پرائس لسٹیں مرتب کریں گے رمضان المبارک میں چیکنگ بھی ہوگی اس سب کے لئے ابھی چٹھی ارسال ہوئی ہے جو متعلقہ اہلکاروں تک رمضان المبارک کے وسط میں بھی پہنچ جائے تو غنیمت ہوگی مرکز اور صوبوں میں برسراقتدار حکومتیں اگر شہریوں کو واقعی میں ریلیف دینے کے لئے مخلصانہ اقدامات اٹھانا چاہئیں تو سب سے پہلے مارکیٹ کنٹرول کے لئے رائج مجسٹریسی نظام بحال کرنا ہوگا یہ ایک ایسا آزمودہ سیٹ اپ ہے۔

جس سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات کو ثمر آور بنانے اور آن سپاٹ فیصلوں کے حوالے سے اس کے متبادل کوئی سسٹم کامیابی سے نہیں چل سکتا مرکز اور صوبے اس سسٹم کی بحالی کے لئے کوشش کرنے کے ساتھ مارکیٹ کنٹرول کے لئے تلخ حقائق کا سامنا کریں جب تک فائلوں میں لگی سب اچھا کی رپورٹوں پر فیصلے ہوتے اور کمیٹیاں بنتی رہیں گی لوگ عملی اقدامات کے منتظر ہی رہیں گے ہمارے ذمہ داروں کو یہ بات تسلیم کرنا ہوگی کہ ان کے اب تک کے اقدامات کہیں بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہورہے اور نہ ہی لوگ اب نئے اعلانات سے مطمئن ہورہے ہیں اس لئے شہریوں کے اطمینان کے لئے اب موثر منصوبہ بندی بہرصورت کرنا ہوگی تاکہ 2018ء میں ان ہی شہریوں کے پاس کارکردگی رپورٹ کیساتھ جایا جاسکے۔