بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سالانہ ترقیاتی پروگرام کے خاکے کی منظوری

سالانہ ترقیاتی پروگرام کے خاکے کی منظوری


پشاور۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے سالانہ ترقیاتی پروگرام برائے مالی سال 2017-18 کے خاکے کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ جاری سکیموں کی تکمیل ترجیح ہونی چاہیئے جبکہ تمام محکمے نئی سکیموں پر بھی بلا تاخیر کام شروع کریں جولائی میں تمام نئی سکیمیں بھی آن گراونڈ ہونی چاہئیں۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں سالانہ ترقیاتی پروگرام برائے مالی سال 2017-18 کے حوالے سے مشاورتی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے صوبائی وزراء، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں اور اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ اعلیٰ تعلیم، زراعت، ماحولیات، جنگلات، خوراک، کھیل، سیاحت و ثقافت و امور نوجوانان، مواصلات و تعمیرات، قانون و انصاف، آبنوشی، داخلہ، شہری ترقی، پانی، تعلیم، ٹرانسپورٹ، ایکسائز، صحت، بحالی، خزانہ، توانائی و بجلی، سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات، صنعت اور اطلاعات کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا جائزہ لیا گیا اور ترقیاتی سکیموں کے خاکے کی اصولی منظوری دی گئی۔

محکمہ اعلیٰ تعلیم کیلئے تجویز کردہ جاری و نئی 58 سکیموں سے اتفاق کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے آئندو مالی سال میں دس نئے پوسٹ گریجویٹ کالجز کے قیام کی بھی منظوری دی۔ وزیراعلیٰ نے صوبہ بھر کے کالجز میں سکولوں کی طرز پر missing facilities بشمول ٹرانسپورٹ کی فراہمی جبکہ دو نئی پبلک لائبریریوں کے قیام کی منظوری دی۔محکمہ زراعت میں 17 جاری اور 13 نئی مجموعی طور پر 30 سکیموں کا خاکہ پیش کیا گیا جسکی اجلاس نے منطوری دی وزیراعلیٰ نے آئندہ مالی سال میں زراعت کے شعبے پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں بہت کام کرنا ہے۔ انہوں نے ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کے عمل کو مکمل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ جہاں کہیں اراضی کا مسئلہ ہو وہاں مقامی ایم پی ایز کی معاونت حاصل کریں۔ منصوبوں کے معیار اور ریٹ میں یکسانیت ہونی چاہیئے۔ محکمہ اریگیشن، آبنوشی اور زراعت تینوں میں اگلاٹنڈر یکساں سٹینڈرڈ ریٹ کے تحت ہونا چاہیئے۔

آئندہ سال کوئی ایک سکیم بھی نامکمل نہیں رہنی چاہئے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ سمال فارمرز لینڈڈویلپمنٹ کا پراسیس مختصر کریں۔ واٹر کورسز اور واٹر ٹینک کیلئے ضلع وائز اہداف دیں اور جولائی تک کام شروع کریں۔محکمہ ماحولیات کے ترقیاتی خاکے کی منطوری دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے صوبے میں انوینٹری اور انڈسٹریل آلودگی کی روک تھام کی سکیم کو فل فنڈ کر کے ہر حال میں مکمل کرنے کی ہدایت کی۔محکمہ جنگلات میں مجموعی طور پر 36 سکیموں کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے پشاور چڑیا گھر کو فاسٹ ٹریک پر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ چڑیا گھر کی خوبصورتی یقینی بنائی جائے سدابہار اور خوبصورت درخت لگائیں معیار اور خوبصورتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے صوبے میں نیشنل پارکس کی ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ پر کام ہر حال میں مکمل کرنے کی ہدایت کی، وزیراعلیٰ نے بلین ٹری سونامی منصوبے کے فیزتھری اور اسکے لئے مطلوبہ وسائل کی منظوری دیتے ہوئے محکمہ کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ سیکرٹری ماحولیات نے اجلاس کو یقین دلایا کہ بلین ٹری سونامی کا تیسرا مرحلہ بھی اکتوبر 2017 تک مکمل کر لیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے رواں مالی سال کے دوران محکمہ خوراک کی کارکردگی کو سراہا اور آئندہ مالی سال کیلئے مجموعی طور پر 12 سکیموں کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے صوبہ بھر میں فوڈگرین گدون فاسٹ ٹریک پر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔محکمہ کھیل ، سیاحت، ثقافت اور امور نوجوانان کیلئے 53 سکیموں کی منظوری دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم فاسٹ ٹریک پر مکمل کرنے ، رستم سپورٹس کمپلیکس مردان میں کھیلوں کی سرگرمیاں شروع کرنے جبکہ دیگر سہولیات بتدریج فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں کل158کھیل کے میدان تعمیر کیئے جارہے ہیں جن میں سے 85 مکمل جبکہ باقی تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

وزیراعلیٰ نے تحصیل اور ضلع کی سطح پر گراؤنڈز کیلئے مینجمنٹ کمیٹیاں مکمل کر کے مقابلے پلان کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ مقابلوں کا ایک شیڈول بمع تاریخ ہونا چاہئے۔ پورا سال مقابلوں کا تسلسل جاری رہے اور ہر سال کے آخر میں مختلف گیمز کے فائنل کرائے جائیں۔ سیاحت کے حوالے سے بتایا گیا کہ 60 سے70 سیاحتی سائٹس کی ترقی کیلئے FWO سے بات کی گئی ہے وزیراعلیٰ نے ازمک، بورڈ آف انوسٹمنٹ اور آئی ٹی کو ہدایت کی کہ وہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کیلئے اسلام آباد میں اپنے ڈسپلے مراکز بنائیں وزیراعلیٰ نے اس موقع پر ادیبوں اورشاعروں کو 30 ہزار روپے کی ادائیگی کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی منظوری دی جوreassessment کے بعد جولائی سے شروع کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے محکمہ مواصلات و تعمیرات کو ہدایت کی کہ صوبہ بھر میں سرکاری عمارتوں کا ایک سٹینڈرڈ ڈیزائن وضع کریں۔ جس طرح سکول، ہسپتالوں اور تھانوں کا اپنا ایک ڈیزائن ہے اسی طرح صوبہ بھر میں تحصیل دفاتر کا بھی ایک یکساں سٹینڈرڈ ڈیزائن تیار کیا جائے۔ اس طرح ضلعی عدالتوں کا بھی ایک متعین ڈیزائن ہونا چاہئے۔محکمہ داخلہ کے مختلف ذیلی شعبوں سمیت مجموعی طور پر 59 سکیموں کی منطوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے تحصیل ہیڈکوارٹر پولیس سٹیشن کے قیام کیلئے فل فنڈ سکیموں کا کنٹریکٹ ٹائم 9 ماہ رکھنے اور فوری طور پر ٹنڈر کا عمل شروع کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تھانوں کی سیکورٹی کی آڑ میں عوام کا راستہ بند نہ کریں۔ تھانوں کی سیکورٹی کیلئے کنکریٹ دیواریں بنائیں اور عوامی راستے کھلے رکھیں۔

وزیراعلیٰ نے ہری پور جیل کو شدت پسند قیدیوں سے خالی کرنے اور قیدیوں کو ہائر سیکورٹی جیل میں ڈالنے کی ہدایت کی کیونکہ سیکورٹی رسک کی وجہ سے ہری پور سڑک بند ہے اور شہر جام ہو جاتا ہے۔وزیراعلیٰ نے صوبہ بھر میں جاری ریسکیو سروسزکی سکیموں کو مرحلہ وار مکمل کرنے کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ پہلے مرحلے میں سروسز شروع کریں۔ نئی عمارت کا انتظار کیے بغیر 6 ماہ کے اندر سروسز شروع کریں جبکہ مستقل عمارت کی تعمیردوسرے مرحلے میں کریں۔ انہوں نے جاری سکیموں کیلئے بھرتیوں اور تربیت کا عمل بھی فوری شروع کرنے کی ہدایت کی۔

محکمہ اوقاف۔ حج ومذہبی امور کیلئے تجویز کردہ مجموعی طور پر 19 سکیموں کی منظوری دیدی گئی جبکہ مساجد کی سولرائزیشن کی سکیم محکمہ توانائی کی سکیموں میں ڈالنے کی ہدایت کی گئی۔محکمہ خزانہ کیلئے آٹومیشن آف پنشن سسٹم اور آؤٹ سورس ریونیو جنریشن سمیت کل نو سکیموں کی منظوری دی گئی اور سرکاری ملازمین کی ہیلتھ انشورنس سکیم کو بھی آئندہ ترقیاتی پروگرام میں ڈالنے کی ہدایت کی گئی۔محکمہ توانائی و بجلی کیلئے28 جاری اور 26 نئی سکیموں کی منظوری دی گئی۔

وزیراعلیٰ نے ایک ہزار مساجد کی سولرائزیشن کی سکیم کو توسیع دیکر چار ہزار مساجد تک لیجانے اور اس کو ہایئڈل ڈویلپمنٹ فنڈ میں ڈالنے کی ہدایت کی۔اسلحہ لائسنس کی کمپیوٹرائزیشن، سٹیزن فسلیٹیشن مراکز ہیلتھ سروسز کی بہتری کیلئے آئی ٹی سپورٹ، ڈپٹی کمشنرز کیلئے چیف سیکرٹری کے دفتر میں ویڈیو کانفرس سسٹم سمیت سائنس ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے مجموعی طور پر 19 سکیموں کی منظوری دی گئی۔وزیراعلیٰ نے محکمہ معدنیات کیلئے 16 سکیموں کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی منرلز کا سالانہ سائٹ سروے یقینی بنایا جائے تاکہ محکمہ میں بدمعاشی اور چوری کا راستہ یکسر ختم کیا جا سکے۔

وزیراعلیٰ نے محکمہ اطلاعات کو ہدایت کی کہ تمام ایڈز کے ساتھTORs بھی دیں۔ جس کو اشتہار دیا جائے وہ TORs پر عمل درآمد کا پابند ہوگا۔ محکمہ ان TORs کو فالو کرے اور ہفتہ وار رپورٹ دے۔ وزیراعلیٰ نے صحت و تعلیم کے علاوہ دیگر محکموں میں بھی حکومتی اقدامات کی پبلسٹی کی ہدایت کی اور کہا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک دونوں میڈیا پر ہر دس دن کیلئے ایک محکمہ چلایا جائے۔ ایک ٹائم ٹیبل بنالیں اور یکم جون سے دس دن کیلئے ایک ایک محکمہ چلائیں۔