بریکنگ نیوز
Home / کالم / سول سوسائٹی کی مداخلت ضروری

سول سوسائٹی کی مداخلت ضروری


سیاسی جماعتیں وقتاً فوقتاً مخصوص اہداف کی تکمیل کی نیت سے کرپشن سکینڈلزکو اچھالتی رہتی ہیں اور سیاسی قائدین ایک دوسرے پر بدعنوانی کے الزامات بھی دھرتے رہتے ہیں تاہم اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ پاکستان میں بدعنوانی کا راستہ روکنے کی غرض سے ایک واضح ، موثر اور قابل عمل روڈ میپ تشکیل دینے کیلئے ملک کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے سنجیدگی و خلوص نیت پر مبنی کوششوں کا فقدان رہا ہے۔موجودہ حکمران اپنے طور پربھلے خود کو کرپشن سے دور رکھنے کی کوشش میں ہوں،بدعنوانی کے میگا سکینڈلز میں بھلے کمی واقع ہوئی ہو اورقومی احتساب بیورو سمیت دیگر متعلقہ ادارے حرام خوروں کی گردن ناپنے کیلئے ماضی کے مقابلے میں بھلے زیادہ فعالیت کا مظاہرہ کر رہے ہوں ملک میں پارلیمنٹ کے راستے کسی ایسے مکمل اور فول پروف’ اینٹی کرپشن سسٹم ‘کی بنیاد تاحال نہیں رکھی جا سکی جو پارلیمنٹ کے اتفاق رائے یا کم از کم واضح اکثریت کی حمایت کا حامل ہو اور جس کے تحت نہ صرف ہر طبقے و شعبے سے تعلق رکھنے والے حرام خوروں کیلئے بدعنوانی کے راستے بند کئے جا سکیں بلکہ قومی دولت لوٹنے والوں کویکساں طور پر نشان عبرت بھی بنایا جا سکے ۔بھلے مانس سیاستدان مختلف مواقع پر اس امرکااعتراف کرتے رہے ہیں کہ ’تمام سیاستدان کبھی بھی کرپشن کے خاتمے کے لئے اکٹھے نہیں ہو سکتے۔

کیونکہ بہت سوں کے مخصوص مفادات کرپشن سے جڑے ہوئے ہیں‘اس نکتہ نظر کا سیدھا سیدھا مطلب یہی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں میں ایسے عناصر موجود ہیں جن کی سیاسی و سماجی حیثیت بدعنوانی کے دم قدم سے قائم ہے اور اگر کرپشن کے آگے بند باند ھنے اور کرپٹ عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے سیاسی اتفاق رائے سے مکمل نظام وضع ہو جائے توان عناصر کی بقاء مشکل ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود کرپشن کا راستہ روکنے کے معاملے پر بحیثیت مجموعی سیاسی جماعتوں کا تقریباًایک جیسا رویہ سامنے آتا ہے ۔وہی رویہ جسے کام میں لا کر سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کی کثیر تعداد ایک طرف جاگیروں ٗ بینک بیلنس اور دیگر اثاثوں میں معلوم اور جائز ذرائع آمدن کے مقابلے میں کئی کئی گنا اضافہ کرنے میں کامیاب ہوئی اور دوسری طرف سیاسی لیڈروں کے حوالے سے سامنے آنیوالے بدعنوانی کے الزامات پر ’سیاسی انتقام ‘ کے لیبل لگا کر بدعنوانی کی چھان بین کیلئے ہونیوالی کاروائیوں کو مشکوک بنایا جاتا رہا ۔ علاوہ ازیں مختلف ادوار حکومت میں احتساب کی غرض سے تشکیل دیئے گئے ۔

قوانین اور ان قوانین کے تحت قائم کئے گئے خصوصی اداروں پراعتراض و تنقید کی تیر اندازی بھی کی جاتی رہی جس کے نتیجے میں احتساب کا ہر قانون اور ادارہ اپنی ساکھ ٗ افادیت و اہمیت کھوتا گیا اسی رویے کی بدولت مختلف ادوارِ حکومت میں یا تو نیک نیتی سے ایسی کوشش ہی نہیں ہوئی کہ تمام سیاسی قوتوں کے اتفاق رائے سے احتساب کا مستقل اور پائیدار نظام وضع کیا جائے یا اگر ایسی کسی کوشش کی راہ ہموار کرنے کی سعی کی بھی گئی تو اسے ایک خاص سطح پر پہنچ کر اس قدر گنجلک اور اعتراضات سے بھرپور بنا دیا گیا کہ وہ کوشش اپنی موت آپ مر گئی‘ بدعنوانی کے قلع قمع کیلئے سیاسی راہنماؤں کا جو رویہ رہا اس سے ہٹ کر اگر اس سوال کا جائزہ لیا جائے کہ کیا سول سو سائٹی نے اس معاملے پر منتخب عوامی نمائندوں کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی؟ تو جواب نفی میں ملتا ہے‘ چند سال قبل بھارت میں حکومت اور اپوزیشن کو کرپشن کے خاتمے کیلئے اُس وقت اتفاق رائے کرنا ہی پڑاجب بھارت کی سول سوسائٹی نے اس سلسلے میں بھر پور تحریک چلائی اگر پاکستان میں سیاسی قائدین کرپشن کے ایشو کو محض ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے حربے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور بدعنوانی کے خاتمے کیلئے پارلیمنٹ کی سطح پرموثر نظام تشکیل دینے کے حوالے سے کردار ادا کرنے میں تساہل برت رہے ہیں تو پھر پاکستان کی سول سوسائٹی کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اس روش کو بدلنے کیلئے سامنے آئیں۔ ملک کو درپیش اس انتہائی اہم مسئلے کا مستقل و پائیدار حل نکالنے کیلئے پاکستان کی سول سوسائٹی خصوصاً فعال اور نیک نام سماجی تنظیموں کو اُسی طرح ایک تحریک کا آغاز کرنا اور اسے کامیاب بنانا ہو گا جس طرح سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اور ان کے رفقاء کی بحالی کیلئے چلائی جانے والی وکلاء کی تحریک کو سول سوسائٹی نے اپنی شمولیت سے کامیاب بنایا ۔