بریکنگ نیوز
Home / کالم / رویت ہلال : سائنسی حل!

رویت ہلال : سائنسی حل!

ماہ رمضان المبارک سے جڑی تیاریوں اور جوش و خروش کے عالم میں اِس سے زیادہ افسوسناک بات کوئی دوسری نہیں ہوسکتی کہ پاکستان میں اِس مسئلے پر اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ مسجد قاسم علی خان پر الزام لگاتے ہیں تو کچھ لوگ مرکزی رویت ہلال کمیٹی پر جبکہ کچھ لوگ اس پورے مسئلے سے الگ و لاعلم رہتے ہیں۔ اگر ہم اپنا کچھ وقت نکال چاند کے مسئلے کو سمجھنے کی کوشش کریں‘ تو باآسانی جان سکتے ہیں کہ سائنس کی مدد سے ہم اس مسئلے کا حل ممکن ہے اور اگر سائنس اور امور فلکیات کے کسی ماہر سے پوچھیں‘ تو وہ کہے گا کہ آج کے دور میں جبکہ زمین سے زیادہ آسمان میں راستے اور راز کھوج لئے گئے ہیں تو چاند کی رویت کا تعین کرنے کا مسئلہ درحقیقت کوئی مسئلہ ہی نہیں اور اسے سمجھنے کے لئے ہمیں سورج‘ زمین اور چاند کی جیومیٹری دیکھنا ہوگی۔ قمری کلینڈر جو کہ ہجری یا اسلامی کلینڈر بھی کہلاتا ہے زمین کے گرد چاند کی گردش پر مبنی ہے۔ دو پورے چاندوں کے درمیان 29.5 دنوں کا وقفہ ہوتا ہے۔ جب چاند زمین اور سورج کے عین درمیان آجاتا ہے‘ تو اسے اصطلاحی طور پر چاند کی پیدائش کہا جاتا ہے۔ چاند کی پیدائش کے وقت اِس پر پڑنے والی سورج کی تمام روشنی واپس منعکس ہوجاتی ہے اور زمین تک نہیں پہنچ پاتی‘ اسی لئے اپنی پیدائش کے وقت چاند زمین پر رہنے والے لوگوں کو نظر نہیں آتا اور مکمل طور پر سیاہ ہوتا ہے۔ چاند کی پیدائش کے بعد گزرنے والا وقت ’چاند کی عمر‘ کہلاتا ہے۔ پیدائش کے بعد چاند اپنے مدار میں آگے کی جانب سفر شروع کرتا ہے‘ چنانچہ زمین سے دیکھنے پر سورج اور چاند کے درمیان فرقِ زاویہ بڑھنے لگتا ہے چونکہ چاند کا مدار گول کے بجائے بیضوی ہے‘ اس لئے سال کے مختلف حصوں میں اس کی رفتار مختلف ہوتی ہے لہٰذا یہ زاویہ بھی مختلف شرح سے بڑھتا ہے۔ جیسے جیسے یہ زاویہ زیرو (صفر) ڈگری سے بڑھنے لگتا ہے‘ تو چاند ہلال کی شکل لینا شروع کرتا ہے۔

سید خالد شوکت‘ جو رویت ہلال کے عالمی شہرت یافتہ ماہر ہیں اور کئی دہائیوں کا تجربہ رکھتے ہیں‘ کے مطابق برہنہ آنکھ سے چاند دیکھنے کے لئے سورج اور چاند کے درمیان زاویہ کم از کم دس اعشاریہ پانچ (10.5) ڈگری ہونا چاہئے۔ اتنا زاویہ حاصل کرنے کے لئے چاند کو اپنی پیدائش کے بعد سترہ سے چوبیس گھنٹے تک لگ سکتے ہیں لہٰذا چاند نظر آنے کیلئے بنیادی شرط اس کی عمر نہیں بلکہ زاویہ ہے۔اب دیکھتے ہیں کہ رویت ہلال سے متعلق تنازع کیا ہے؟ علمائے اسلام کے نزدیک نئے اسلامی مہینے کے آغاز کیلئے چاند کو برہنہ آنکھ سے دیکھنا ضروری ہے جبکہ علماء کے ایک گروہ کے مطابق صرف سائنسی حسابات پر اعتبار کیا جا سکتا ہے اور چاند دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ان دونوں نقطہ نظر کی حمایت یا مخالفت کئے بغیر لائق توجہ امر یہ ہے کہ جہاں تک آنکھ سے دیکھنے کی بات ہے‘ تو ہم سائنس سے مدد لے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم حسابات اور جدید سیمولیشنز کے ذریعے یہ جان سکتے ہیں کہ چاند کب اور اُفق پر کہاں نظر آئے گا‘ وہ آسمان میں کتنا اونچا ہوگا اور اس کے نظر آنے کے امکانات کیا ہیں۔ ہم یہ حساب بھی لگا سکتے ہیں کہ غروبِ آفتاب کے بعد چاند کتنی دیر تک اُفق پر موجود رہے گا اور دیکھا جا سکے گا۔ ہم سافٹ وئرز اور سیمولیٹڈ تصاویر کی مدد سے پہلے سے معلوم کر سکتے ہیں کہ نظر آنے پر چاند کی شکل کیسی ہوگی۔ پاکستان میں ایک اُور غلط فہمی پائی جاتی ہے اور وہ یہ کہ اگر چاند موٹا ہے تو ضرور یہ چاند پہلے بھی دیکھا جا سکتا ہوگا۔ یہ بات غلط ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ قمری مہینے کی پہلی تاریخ نہ ہو لیکن ایسا ممکن ہے کہ اسے پہلی بار دیکھا جا رہا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کسی بھی دن چاند کی عمر سترہ گھنٹوں سے کم ہے‘ تو یہ انسانی آنکھ کو نظر آئے بغیر غروب ہوجائے گا۔

لہٰذا تکنیکی اعتبار سے چاند وہاں موجود تھا لیکن نظر نہیں آسکتا تھا۔ اگلے دن اسی وقت چاند کی عمر سترہ جمع چوبیس یعنی اکتالیس گھنٹے ہوگی‘ تو چاند ہر حال میں موٹا اور زیادہ واضح نظر آئے گا‘ آج علم فلکیات کی مدد سے ہم چاند کی ولادت کا درست وقت سیکنڈز کی حد تک بتا سکتے ہیں اور اسکے نظر آنے یا نہ آنے کے امکانات بھی جان سکتے ہیں۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: بلال کریم مغل۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)