بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / عید کہاں کھوگئی؟

عید کہاں کھوگئی؟


زیاد ہ پرانی بات نہیںیہی دو ڈھائی عشرے قبل تک عید کامزہ اوراس کاسرور کئی دنوں تک برقر ار رہتاتھا ہمیں اچھی طرح سے یاد ہے کہ عیدکا یہ نشہ اورسرور عید کی آمد سے کئی دن قبل سے ہی شروع ہوجاتا تھا اورپھرکئی گزرنے کے کئی دن بعد تک دل و دماغ پرچھایا رہتاتھا اسی لئے عیدکی آمد زندگی کی سب سے بڑی خوشی تصورکی جاتی تھی پھرحالات اوراسکے نتیجہ میں عادات بھی تبدیل ہوتی چلی گئیں اوربدلتے وقت کی گرد میں نجانے آج عید کہاں کھو گئی ہے کیونکہ عیدآکرگزر بھی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی خوشی ومسرت کا احساس بھی یوں فوری طور پر کافور ہوجاتاہے جیسے عید آئی ہی نہیں ،اس عیدالاضحی پر اس تلخ حقیقت کااحساس کچھ زیادہ ہی ہوا ،عید کے دوسرے دن ہم نے فیصلہ کیا کہ اس مرتبہ مٹہ اورسوات کا چکرلگایاجائے جہاں ہم نے اپنے دوستوں کے ساتھ تھوڑا سا وقت گزارنے کا پروگرام بنا رکھا تھا ،صبح ہمد م دیرینہ حاجی گل شرف خان کی ہم رکابی میں پشاورسے نکلے ،ہمارے اس حاجی صاحب کو اللہ نے بڑا دل گردہ دے رکھاہے ناں کرنا تو جیسے اس نے سیکھاہی نہیں چنانچہ اپنے سارے پروگرام ادھورے چھوڑ کر ہمارے ساتھ عازم سفرہوئے ،ہمارا خیا ل تھا کہ عید کادوسرادن ہے اس لئے سڑکو ں پر ہو کاعالم ہوگا جس طرح کہ ہمارے بچپن کے دنوں میں عیدکے موقع پر ہوا کرتاتھا کہ منچلے عید کے تین دن تک خالی سڑکوں پرکھیلتے رہتے تھے۔

،مگر جیسے مردان شہر میں داخل ہوئے اورپھر تخت بھائی تک پہنچے تو ہماری ساری غلط فہمی ختم ہو گئی اس قدر ٹریفک کہ اللہ کی اما ن ،نجی گاڑیوں کی آمد ورفت تو سمجھ میں آرہی تھی مگر سب سے حیرت انگیز امر تو یہ رہا کہ مسافرگاڑیو ں کی بھی نہ صرف بھرمار رہی بلکہ ان میں لوگوں کارش بھی حیران کن تھا یہ عیدکے دوسرے دن کی صبح محسوس ہی نہیں ہورہی تھی ،ایسا لگ رہاتھا کہ عید کی چھٹیاں ختم ہوگئی ہوں اورلو گ دفاتر ،سکولوں ،کالجوں اوربازاروں کارخ کررہے ہوں ،تاہم ابھی مقامات حیرت باقی تھے ہم اس امر پر بحث کرتے جب تخت بھائی بازار سے گزررہے تھے تو یہ دیکھ یقین نہ آیاکہ کبابوں کی بعض دکانوں پر گرم گرم کباب بن رہے تھے اورنہ صرف بن رہے تھے بلکہ خریدنے والے بھی موجود تھے کیا یہ واقعی بڑی عید ہے؟کیا گوشت کھانے کی ہوس ابھی پوری نہیں ہوئی؟ یہی سوچ رہے تھے کہ بٹ خیلہ بازار سے گزر ہوا جسے بغیر چوک پاکستان کاسب سے طویل بازار ہونے کااعزاز بھی حاصل ہے وہاں بھی کھانے پینے کی کئی دکانیں نہ صرف کھلی ہوئی تھیں بلکہ خوب رش بھی تھا،شموزئی پل پارکرکے جب کانجو،کبل اورمٹہ کے آس پاس پہنچے تو بدترین رش دیکھنے کو ملا خاص طورپر ہزاروں موٹر سایئکلیں سڑکو ں پر طوفان بدتمیزی مچائے ہوئی تھیں۔

،ایک عجب ہنگام کامنظر تھا ،بازار کھلے ‘ رش بھری سڑکیں ،ہوٹلوں پر جم غفیر ،سواریوں کا شور ،یاخدا یہ عید آخر کہا ں کھو گئی؟ آخر ان لوگوں کو کیا ہوگیاہے ؟کیا عید کی خوشیاں گھرمیں بچوں کے ساتھ بیٹھ کر اور رشتہ داروں کے ہاں جاکر اور سب سے ایک دوسرے کی دعوتیں کرکے نہیں منائی جاسکتیں‘اس قدر رش تو عام دنوں میں بھی نہیں ہوتا جتنا ہم نے عید کے دوسر ے دن پشاورسے سوات تک دیکھا گزشتہ کچھ عرصہ سے یہ بھی ایک روایت بنتی جارہی ہے کہ لوگ عید کے دوسرے دن ہی گھروں سے نکل کر پہاڑی مقامات کارخ کرلیتے ہیں اوراسی وجہ سے وہاں بدترین رش دیکھنے کو ملتاہے مگر وہ رش زیادہ تر کالام اور ملم جبہ جانے والوں راستوں پر ہواکرتاہے ہم نے اسی رش سے بچنے کی خاطر شموزئی روڈ کے ذریعے مٹہ جانے کا فیصلہ کیاتھا مگر اس نسبتاً غیر معروف شاہراہ پر رش نے بھی ہمارے ہوش اڑاکررکھ دیئے ،گویا اب عید کی خوشیاں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ کسی کے ہاں بیٹھ کر آرام و سکون سے گزارنے کا دور بیت گیا ہے اور ہماری طرح دیگر لوگ بھی اب سڑکوں پر ہی عید منانے لگے ہیں ہماری تو مجبوری تھی کہ صرف دو چھٹیاں تھیں اوربہت سے لوگوں سے ملنا تھا مگر دوسرے لوگوں کی کیامجبوری تھی یہ ہمار ے لئے ایک سوال بن چکاہے ۔

اس صورتحا ل سب سے زیادہ ہمارے بچے ہی متاثر ہورہے ہیں جو عید کے اس سرور سے محروم چلے آرہے ہیں جس سے کبھی ہم لطف اندوز ہوا کرتے تھے ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو پھیکی اورخوشی ومسرت اور اپنے پن کے جذبات سے عاری عیدیں دے دی ہیں اس عہد کے بچے یاتو ٹی وی دیکھ کر یاپھر موبائل اورکمپیوٹر پر گیمز کھیل کر جس مصنوعی انداز سے عید منا رہے ہیں اس سے ہم اپنے آپ کو کسی بھی صورت بری الذمہ نہیں قرار دے سکتے ،آج عید محض ایک رسم سی بن کررہ گئی ہے جسے ہر صورت نبھانا ہے اس میں سے خوشی ومسرت اور اپنائیت کی چاشنی کب کی رخصت ہوچکی ہے ایک مدت بعد جب اس عید پر غور کیا تو اس حقیقت کااحساس ہوا کہ ہماری عید نجانے کہاں کھو گئی ہے ،اور اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات تویہ ہے کہ ہمیں اس کااحساس تک نہیں ہورہا اور حسب روایت جب احساس ہوگاتو پلوں کے نیچے سے بہت ساراپانی بہہ چکاہوگا ‘ آئیے کم از کم اپنی عیدوں کو تو بے مزہ ہونے سے بچائیں کہ یہ ہم پر ہمارے آنے والی نسلوں کا بہت بڑا قرض ہے۔