بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / سعودی فو جی اتحا د میں شمولیت کا معمہ بر قرار

سعودی فو جی اتحا د میں شمولیت کا معمہ بر قرار


اسلام آباد۔ سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والے اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کے حوالے سے سامنے آنے والے سعودی بیانات کے بعد حکومت کی جانب سے پوزیشن واضح نہ کیے جانے کے سبب فوجی اتحاد کے حوالے سے پاکستان کا مینڈیٹ تاحال معمہ بنا ہوا ہے.واضح رہے کہ سعودی انتظامیہ کی جانب سے حال ہی میں یہ بیانات سامنے آئے تھے کہ فوجی اتحاد ان باغی گروہوں کے خلاف بھی کارروائی کرے گا جو رکن ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق سینیٹ میں توجہ دلا نوٹس پیش کیے جانے کے بعد گذشتہ روز وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے اس حوالے سے حکومتی مقف پیش کرنا تھا، تاہم31 مئی کے روز وہ سینیٹ اجلاس میں کچھ دیر کے لیے آئے اور ایوان کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بارے میں آگاہ کرکے روانہ ہوگئے.انہوں نے چیئرمین سینیٹ سے اجازت لی کہ نماز ظہر کے بعد وہ ایوان کے سامنے اپنا بیان پیش کریں گے۔

بعد ازاں انہوں نے چیئرمین کو پیغام بھجواتے ہوئے آگاہ کیا کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس اب بھی جاری ہے،چیئرمین سینٹ نے وزیر دفاع خواجہ آصف کو بھی سینیٹ کے اجلاس میں طلب کیا تھا، تاہم وہ نہ آئے.یاد رہے کہ 30 مئی کو ہونے والے سینیٹ اجلاس میں بھی سینٹ میں توجہ دلا نوٹس پر وزارت کی جانب سے جواب نہ آنے پر چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے برہمی کا اظہار کیا تھا.سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والے فوجی اتحاد کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ وزارت دفاع نے بتایا تھا کہ ہم نے معاملہ وزارت خارجہ کے پاس بھیج دیا ہے۔انھوں نے استفسار کیا تھا کہ کیا سعودی عرب سے معلومات پارلیمنٹ میں نہیں آسکتی؟

کیا پارلیمنٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟رضا ربانی کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو ‘ایزی’ نہیں لیا جاسکتا۔یاد رہے کہ 26 مارچ 2017 کو یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے سعودی عرب کی سربراہی میں قائم ہونے والے 39 اسلامی ممالک کی اتحادی فوج کے سربراہ کا عہدہ سنبھالیں گے، جسے ‘مسلم نیٹو’ کا نام دیا جارہا ہے۔ابتدا میں پاکستان اس اتحاد میں شمولیت سے متعلق مخمصے کا شکار رہا تھا، تاہم ابہام دور ہونے کے بعد پاکستان نے اس اتحاد میں اپنی شمولیت کی تصدیق کردی تھی، لیکن کہا گیا تھا کہ اتحاد میں اس کے کردار کا تعین سعودی حکومت کی طرف سے تفصیلات ملنے کے بعد کیا جائے گا۔