بریکنگ نیوز
Home / کالم / جب انتخابات قریب ہوتے ہیں

جب انتخابات قریب ہوتے ہیں


پاکستان کو وجود میں آئے ستر سال ہو گئے ہیں اس دوران بہت سے انتخابات ہوئے ہیں اور بہت سے سال بغیر انتخابات کے بھی گزرے ہیں۔ بہت سے سالوں میں عجیب و غریب انتخابات بھی ہوئے ہیں اس ملک میں بات تو شروع جمہوریت سے ہوئی اور جب جمہوریت کا پھل سامنے آنے والا ہی تھاکہ جمہوری سسٹم کو لپیٹ دیا گیا اور پھر دس سال تک جمہوریت سامنے نہیں آئی ہاں ایک بنیادی قسم کی جمہوریت کا ڈول ڈالا گیا اور اس جمہوریت نے ہمیں بنیادی طرز حکومت کو جو کہ پارلیمانی نظام تھا اس کو صدارتی نظام میں تبدیل کر دیا‘ بعد میں ون مین ون ووٹ کے تحت صدارتی نظام کو پارلیمانی نظام میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی مگر اس کوشش میں پاکستان کے دو ٹکڑے ہوگئے اور جو حصہ پاکستان بنا اس کو ایک آئین دیا گیا جس کے تحت جب انتخابات کا وقت آیا تو ایک دفعہ پھر سیاست دانوں نے ملٹری کو حکومت ہاتھ میں لینے کا کہا اور بڑے سیاستدانوں نے جو جمہوریت کے نام لیو ا تھے سربراہ فوج کو مجبور کیا کہ وہ حکومت کو اپنے ہاتھ میں لیں اور اپنی نگرانی میں انتخابات کروائیں ‘چنانچہ ضیاء الحق صاحب نے مارشل لاء لگایا اور بہت سے سیاستدانوں کو اپنی نگرانی میں لے لیا اور نوے دن میں الیکشن کروانے کا وعدہ کیا مگر چند دنوں میں ہی سیاستدانوں نے اپنا نعرہ تبدیل کر لیا اور انتخاب سے پہلے احتساب کا نعرہ اپنا لیا اس نعرے کی حامل پی پی پی کے علاوہ ساری ہی سیاسی پارٹیاں تھیں چنانچہ احتساب کے عمل میں قتل کا ایک مقدمہ جو ذوالفقار بھٹورجیم میں ہی فائل کیا گیا تھا اور جس میں ذوالفقار علی بھٹو کو نامزد کیا گیا تھا، کھل گیا، جس کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو کو موت کی سزا سنائی گئی اور ذوالفقار علی بھٹو کی وفات کے بعد حالات بالکل ہی بدل گئے اورجمہوریت کا جو خواب دیکھا گیا تھا وہ ختم ہو گیا اور پھر ضیاء الحق کا دور حکومت نوے دنوں کی بجائے گیار ہ سال بعد انکی موت پر منتج ہوا۔

پھر سیاسی دور کچھ یوں شروع ہوا کہ صدر مملکت کے ہاتھ میں جو حکومت ہٹانے کا ہتھیار تھا اس کو بہت بری طرح استعمال کیا گیا اور باری باری مسلم لیگ اور پی پی پی کی حکومتوں کو ہٹایا جاتا رہا اور یہ سلسلہ اس وقت ختم ہوا جب مسلم لیگ کی حکومت کا تختہ اس بات پر اُلٹا گیا کہ اس نے وقت کے چیف آف آرمی سٹاف کو علیحدہ کیا ۔ایک دفعہ پھر سے فوجی دور شروع ہوا اور ان سیاست دانوں نے ، جن کو عوام پوچھتے بھی نہیں تھے، نے مارشل لاء کے سائے تلے حکومت کے مزے لوٹے اور اسے عین جمہوریت کہا اسلئے کہ انہیں وزارتیں دی گئیں ۔ ایک جدو جہد کے بعد ایک دفعہ پھر سے جمہوریت کی گاڑی پٹڑی پر چڑھی اور یہ سارا کچھ میثاق جمہوریت کے پھل کے طور پر ہوامگر یہ اقتدار ایسی بری شے ہے کہ سیاسی لوگ کسی دوسرے کو اقتدار میں نہیں دیکھ سکتے یعنی سیاستدانوں کو اقتدار چاہئے اس لئے وہ عوام کی خواہشات کا احترام نہیں کرتے جسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سیاستدان کئی سالوں تک اقتدار سے نہ صرف محروم ہوتے ہیں بلکہ قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرتے ہیں اور کئی تو بن باس کے مزے بھی لیتے ہیں مگر افسوس کہ یہ لوگ اپنے ماضی سے سبق سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس ملک میں پہلی دفعہ یہ ہوا کہ ایک جمہوری حکومت نے اقتدار ایک جمہوری طریقے سے منتخب پارٹی کو منتقل کیا ہم خوش تھے کہ شکر ہے کہ جمہوریت کی گاڑی پٹڑی پر آ گئی ہے مگر افسوس کہ اسی اقتدار کی ہوس نے ایک بار پھر سیاست دانوں کواسی راہ پر گامزن کر دیااو رلگتا ہے کہ ایک دفعہ پھر سیاسی دوست اقتدار کسی اور کے ہاتھ میں دینے کو تیا ر ہیں۔ قومی اسمبلی کو اکھاڑہ بنا دیا گیا ہے۔بڑوں کا احترام ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔

ہم نے جو کچھ اپنی زندگی میں دیکھا ہے وہ یہی ہے کہ ہر حکومت ،چاہے پی پی پی کی تھی یا مسلم لیگ ن کی، کو کرپشن کے الزامات لگا کر رخصت کیا گیا۔ حد اس بات کی ہے کہ خود ہر حکومت کرپشن کا رونا روتی ہے مگر اس کے انسداد کے لئے کچھ نہیں کرتی۔ ہمیں یہ سمجھ آج تک نہیں آئی کہ حکومت جسکے ہاتھ میں سب کچھ ہوتا ہے وہ کیوں کرپشن کو ختم نہیں کرتی اور کرپشن کا صرف رونا رونے تک ہی محدود رہتی ہے اور جب انتخابات قریب ہوتے ہیں تو یہ کرپشن کا نعرہ بہت زور و شور سے بلند ہوتا ہے اور سیاسی لوگ ایک دوسرے کے کپڑے بیچ بازار اتارنے لگتے ہیں مگر کوئی بھی اس کرپشن کو دور کرنیکی کوشش نہیں کرتا۔