بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس

صدر مملکت ممنون حسین نے قومی اسمبلی اور سینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا اس موقع پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے شدید احتجاج کیا‘ بعض ارکان نے صدارتی خطاب کی کاپیاں پھاڑ کر ایوان میں پھینک دیں اپوزیشن ارکان سپیکر ڈائس کے سامنے آکر نعرے لگانے لگے ‘ وزیراعظم کاکہنا ہے کہ صدر مملکت کا خطاب اچھا تھا تاہم جنہوں نے تماشہ لگایا پوری قوم نے دیکھ لیا ‘ نواز شریف کاکہنا ہے کہ اپوزیشن کے روئیے سے متعلق وہی کہوں گا جو پورا ملک کہہ رہا ہے ‘ متحدہ اپوزیشن نے صدر مملکت کے خطاب کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اپوزیشن کاکہنا ہے کہ صدر پاکستان کے ساتھ پارلیمنٹ میں جو کچھ ہوا وہ حکومت نے خود کر ایا ہے ‘سید خورشید شاہ ‘ شاہ محمود قریشی ‘ سراج الحق اور اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کو احتجاج کے لئے مجبور کیا گیا حزب اختلاف روڈ کی بجائے ایوان میں بات کرنا چاہتی ہے وفاقی وزیرسعد رفیق کا کہنا ہے کہ مشترکہ اجلاس میں پیپلز پارٹی نے اپنے روئیے سے میثاق جمہوریت کی دھجیاں اڑائی ہیں‘ ماضی میں بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاسوں سے صدر مملکت کے خطاب کے موقع پر احتجاج ہوتا رہا ہے تاہم بعد میں یہ سلسلہ رک گیاتھا جو ایک بار پھر گزشتہ روز دیکھنے کو ملا ‘ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں صدر ممنون حسین نے مختلف شعبوں میں حکومتی کارکردگی کا احاطہ کرنے کے ساتھ یہ بھی کہا کہ سیاسی عمل کو افراتفری اور گروہی مفاد سے آزاد ہونا چاہئے ‘ ان کا کہنا ہے کہ اختلاف رائے کے باعث ترقی کا عمل نہیں رکنا چاہئے‘ اختلاف رائے اور احتجاج جمہوری عمل کاحصہ اور جمہوریت کا حسن ہے تاہم سیاسی معاملات کو سیاسی انداز میں بات چیت کے ذریعے طے کرنا بھی ہماری جمہوری روایات کا حصہ رہا ہے اس مقصد کیلئے ایک دوسرے کے موقف کو کھلے دل کے ساتھ سننا ضروری ہوتا ہے اگر پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل بھی یہی ایکسر سائز دہرائی جاتی اپوزیشن کے مطالبے پر بات ہوجاتی تو شاید اس شدت کا احتجاج نہ ہوتا سیاسی اختلاف اپنی جگہ سینئر سیاسی قیادت کو اہم معاملات خصوصاً جن میں عوامی مسائل کا حل مضمر ہو بات چیت کے ذریعے سلجھانے ہونگے تاکہ مشترکہ فیصلوں کے ذریعے عوام کو نئے انتخابات سے قبل ریلیف ملے ۔

صرف رجسٹریشن کافی نہیں

ہیلتھ کیئر کمیشن نے پشاور کے تین معروف نجی ہسپتالوں کو بعض سہولیات کی رجسٹریشن نہ کرانے پر نوٹس جاری کئے ہیں ان سہولیات کے رجسٹرڈ نہ ہونے پر کمیشن نے بقایا جات کی ادائیگی کیلئے بھی کاروائی کی ہے بقایا جات کاتخمینہ 71لاکھ روپے لگایا گیا ہے کسی بھی بھی ہسپتال کیلئے ہیلتھ کیئر کمیشن کے پاس اپنی سہولیات رجسٹرڈ کرانا قاعدے قانون کا حصہ ہے جس پر عمل ضروری ہے اس کے ساتھ خود کمیشن کو صرف رجسٹریشن اور فیس وصولی تک محدود نہیں رہنا چاہئے نجی ہسپتالوں ‘کلینکس اور لیبارٹریز کو فیس جمع کرانے کے بعد ہر قاعدے قانون سے آزاد کر دینا درست نہیں کسی رجسٹرڈ میڈیکل سنٹر میں لفٹ بند ہونے پر مریض کو چادر میں باندھ کر تیسرے یا چوتھے فلور پر لے جانا سراسر زیادتی ہی کے مترادف ہے اسی طرح کسی لیبارٹری میں کوالیفائیڈ عملے کا موقع پر موجود نہ ہونا بھی کسی طور درست نہیں اگر چہ لیبارٹری رجسٹریشن کی دستاویزات میں ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل عملہ کیوں نہ رکھتی ہو ‘ کیا ہی بہتر ہو کہ ہیلتھ کمیشن چیک اینڈ بیلنس کے لئے مستقل نظام وضع کرے ۔