بریکنگ نیوز
Home / کالم / پارلیمنٹ کی بالادستی

پارلیمنٹ کی بالادستی

سیاست برداشت اور برداشت سیاست سے آتی ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر حزب اختلاف کے اراکین نے صدر مملکت ممنون حسین کے خطاب سے قبل اور خطاب کے دوران ہنگامہ آرائی اور وزیراعظم نوازشریف کی نشست کے پاس پہنچ کر انکے خلاف عامیانہ انداز میں نعرہ بازی کی اور ان کا گھیراؤ کرنیکی کوشش کی جبکہ متعدد اراکین نے صدر مملکت کی تقریر اور اجلاس کے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اچھال دیں! صدر مملکت کو لازمی آئینی تقاضے کے تحت ہر مالی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنا ہوتا ہے جس میں وہ وفاق کی ترجمانی کرتے ہوئے حکومت کو بہتر گورننس کے مشورے دیتے ہیں اور اہم قومی ایشوز پر اظہار خیال کرتے ہیں جبکہ صدر مملکت اپنے خطاب میں کسی پارٹی کی نہیں بلکہ وفاق کی نمائندگی کرتے ہیں صدر مملکت نہ ہی کسی پارٹی کے رکن ہیں اس تناظر میں اپوزیشن کو صدر مملکت کے منصب کا وفاق کی علامت کی حیثیت سے احترام ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے اور آئینی تقاضے کے تحت کی گئی ان کی تقریر میں کسی قسم کا خلل نہیں ڈالنا چاہئے مگر بدقسمتی سے اپوزیشن کی جانب سے ہر معاملہ پر شورشرابا اور ہنگامہ آرائی ہمارے سیاسی کلچر کا حصہ بن چکی ہے۔ چاہئے تو یہ کہ سرکاری اور اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے منتخب ارکان صدر مملکت کے خطاب کو توجہ سے سن کر اس میں گڈگورننس کے لئے پیش کی گئی تجاویز اور حکومت کو دیئے گئے ۔

مشوروں کی روشنی میں ہاؤس میں سسٹم کی بہتری اور اصلاح کے لئے تجاویز لائیں اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں آئینی تقاضے کے تحت صدر مملکت کے خطاب کی رسم کو حکومتی کارکردگی اور سسٹم کی بہتری و استحکام کی ضمانت بنائیں مگر ہمارے سیاستدانوں کا یہی وہ طرز عمل ہے جسکے باعث جمہوریت مخالف عناصر کو سسٹم کیخلاف سازشیں پروان چڑھانے کا موقع ملتا ہے۔منتخب ایوانوں میں ستر کی دہائی سے اب تک اپوزیشن کی دھماچوکڑی کے ایسے ہی نظارے دیکھنے کو ملتے رہے ہیں جس سے ماورائے آئین اقدام کی سوچ رکھنے والوں کو جمہوریت کی بساط باربار الٹانے کا موقع ملتا رہا ہے۔ اُنیس سو اسی اور اُنیس سو نوے کی دہائی کے منتخب ایوان تو سیاسی محاذآرائی کو گھمبیر بنانے اور سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی کے قالب میں ڈھالنے کا ذریعہ بنتے رہے جب سرکاری اور اپوزیشن بنچ بہتر تعلقات کار کی رسم بھی بھول گئے تھے۔ ان ادوار میں ہی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت کے خطاب کے دوران اپوزیشن کی جانب سے ان کی ہوٹنگ اور تحقیر کی بدترین مثالیں قائم کی جاتی رہی ہیں۔ ان ادوار کے جرنیلی صدور کی تقاریر میں کسی قسم کی مداخلت کا تو سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا مگر جمہوری ادوار کے صدور مملکت کی پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران اپوزیشن کے ہاتھوں خوب درگت بنتی رہی ہے جس سے بیوروکریٹ صدر مملکت غلام اسحاق خان بھی محفوظ نہیں رہے تھے اور فاروق لغاری تو اپوزیشن ہی نہیں‘ سرکاری بنچوں کے ارکان کی بھی کڑی تنقید کی زد میں آتے رہے جن کی پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران اس وقت کی اپوزیشن مسلم لیگ (نواز) کی رکن بیگم تہمینہ دولتانہ نے ان کی جانب اپنی چوڑیاں اور دوپٹہ اچھال دیا تھا جبکہ آج کی پارلیمنٹ کا نقشہ تو اس سے بھی بدتر نظر آتا ہے کیونکہ آج بطور خاص پی ٹی آئی سسٹم کی بساط الٹانے کے ایجنڈے کے تحت منتخب ایوانوں کی بے توقیری کا اہتمام کرنے میں پیش پیش ہے۔

اس پارٹی کی سسٹم کے استحکام کے لئے سنجیدگی کا اس سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس پارٹی کے قائد عمران خان اسمبلی کے اجلاسوں میں شریک نہ ہونے کا سب سے خراب ریکارڈ قائم کرچکے ہیں۔ قومی اسمبلی کے رواں بجٹ سیشن کے آغاز میں اس وقت تو اپوزیشن کو ہاؤس کے اندر حکومت مخالف احتجاج کا خیال تک نہ آیا جب وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اعدادوشمار کے گورکھ دھندے پر مبنی روایتی قومی بجٹ ہاؤس میں پیش کیا جس پر احتجاج اپوزیشن کا حق بھی تھا جبکہ اب صدر مملکت آئینی تقاضے کے تحت اپنی بے ضرر تقریر کرنے پارلیمنٹ میں آئے تو اپوزیشن کو دھماچوکڑی کا شغل لاحق ہو گیا جو محض صدر مملکت نہیں‘ پورے ہاؤس اور پورے سسٹم کو بے توقیر کرنے کے مترادف ہے اگر اپوزیشن ارکان بجٹ سیشن کے پہلے روز محض رسمی احتجاج کے بعد وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی ایک گھنٹے سے زائد عرصہ پر محیط بجٹ تقریر تحمل و برداشت کیساتھ سن سکتے ہیں جس پر احتجاج محض اپوزیشن لیڈر کی ہاؤس میں کی گئی تقریر کی پی ٹی وی پر کوریج نہ ملنے کے خلاف کیا گیا ہے تو صدر مملکت سے اپوزیشن بنچوں کو کیا مخاصمت تھی کہ ان کی تقریر کے دوران ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کرنیکی نوبت لائی گئی اور ان کا خطاب سننے کی زحمت گوارا نہ کی گئی۔ اپوزیشن کا یہ طرز عمل جمہوریت کی عملداری کے حوالے سے کسی صورت مناسب قرار نہیں دیا جا سکتا اس لئے پی ٹی آئی‘ پیپلزپارٹی اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کرنے والی دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں کو خود ہی اپنی اداؤں پر غور کرنا چاہئے کہ وہ جس شاخ پر بیٹھے ہیں‘ اسے خود ہی سے کاٹنے کا کیوں اہتمام کررہے ہیں۔ احتجاج اور بائیکاٹ کا بلاشبہ اپوزیشن کو حق حاصل ہے مگر یہ مناسب وقت پر اور مناسب فورم پر ہی ہونا چاہئے ۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ ڈاکٹر حوررین صدیقی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)