بریکنگ نیوز
Home / کالم / اچھی ڈپلومیسی امن کی ضامن ہوتی ہے

اچھی ڈپلومیسی امن کی ضامن ہوتی ہے

ڈپلومیٹس کے بارے میں ایک پرانی کہاوت ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی ڈپلومیٹ کسی سوال کے جواب میں ’’یس‘‘(Yes) کہے تو سمجھ لیجئے گا کہ اس کا مطلب ہے ’’شاید‘‘ اور اگروہ ‘‘یس‘‘ کے بجائے ’’شاید‘‘ کہے تو اسے انکار تصور کیجئے گا جو ڈپلومیٹ ہو گا وہ کسی سوال کے جواب میں ’’نو‘‘ شاذ ہی کہے گا اور اگر وہ ’’نو‘‘ یعنی نہیں کہتا ہے تو پھر وہ ڈپلومیٹ ہو ہی نہیں سکتا تاریخ میں درجنوں ایسے نام آپ کو ملیں گے کہ جواپنے اپنے وقتوں کے کامیاب ڈپلومیٹس تھے لیکن ہم ماضی قریب میں گزرے ہوئے چند عظیم ڈپلومیٹس کے نام آپ کو گنوا دیتے ہیں کہ جنہوں نے اپنے اپنے ملک کیلئے کئی کارہائے نمایاں سر انجام دیئے مثلاًسابقہ سوویت یونین کے وزیر خارجہ گرومیکو‘ امریکہ کے وزیر خارجہ سر جان ڈلس ‘ برطانیہ کے وزیر خارجہ سر انتھونی ایڈن ‘ بھارت کے اقوام متحدہ میں مستقل نمائندے کر شنا مینن ‘ پاکستان کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو اور پاکستان کے ہی پہلے وزیر خارجہ سر ظفراللہ ان لوگوں کو خدا نے اعلیٰ قسم کی خطابت کے وصف سے بھی نوازا تھا اور ان کے پاس کوئی ایسی گیدڑ سنگھی بھی تھی کہ یہ مذاکرات میں اپنے مدمقابل کو اپنے موقف پر قائل کرنے کی بے پناہ صلاحیت بھی رکھتے تھے اب دیکھئے نا یہ بھٹو کی ڈپلومیسی ان کی مدلل گفتگو اور سحر انگیز شخصیت کا کمال ہی تو تھا کہ اندرا گاندھی کیساتھ 1971ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد مذاکرات میں انہوں نے انہونی کو ہونی کر دیا یعنی بھارت کی قید میں 90 ہزار فوجیوں کو بھی وہ رہا کروا آئے۔

بھارت نے پاکستان کی جن تحصیلوں پر قبضہ کیا تھا وہ بھی بھارت سے خالی کر وا دیں اچھی اور موثر ڈپلومیسی سے جنگیں ٹل جایا کرتی ہیں 1960ء کی دہائی میں کیوبا کے مسئلے پر اس وقت کے سوویت یونین اور امریکہ میں تصادم کی صورت حال پیدا ہو گئی تھی لیکن یہ دونوں اطراف کی ڈپلومیسی ہی تھی کہ جس نے اپنا موثر کردار ادا کرکے دنیا کو تیسری جنگ عظیم چھڑنے سے بچا لیا ایک اور مثال آپ کو دیں چین کی طرح‘ سوویت یونین بھی گرم پانیوں تک رسائی کیلئے گوادر کی بندر گاہ تک پہنچنا چاہتا ہے لیکن اس نے زور زبردستی اوردراندازی کی جو پالیسی افغانستان میں اپنائی وہ اسے لے ڈوبی اور اس کا یہ خواب چکناچو ر ہو گیا اس کے علی الرغم چین نے کمال ہوشیاری‘ بردباری‘ دور اندیشی اور پیار ومحبت کی جو حکمت عملی اورڈپلومیسی اپنائی اس کی بدولت آج وہ گوادر تک پہنچ چکا ہے ثابت یہ ہو ا کہ امن ہو یا جنگ دونوں صورتوں میں اچھی ڈپلومیسی سے وہ کام بخوبی سرانجام دیئے جا سکتے ہیں۔

جو جنگ و جدل سے حاصل نہیں ہوتے ڈپلومیسی پر یہ لمبی چوڑی تمہید ہم کو اس لئے لکھنی پڑی کہ آئندہ دو تین دن میں کابل میں چند اہم عالمی قوتوں کے ڈپلومیٹ اور عسکری افواج کے نمائندے سر جوڑکر بیٹھنے والے ہیں کہ جس کے دوران وہ افغانستان اور اس خطے میں جنگ و جدل اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لئے کوئی ڈپلومیٹک حل نکالیں گے اس کانفرنس میں روس‘ امریکہ ‘ چین‘ بھارت‘ ایران اورپاکستان شرکت کررہا ہے جتنا پاکستان اس علاقے میں کشیدگی ختم کرنے کا خواہاں ہے اتنا ہی چین بھی ہے سی پیک ان دونوں کے معاشی مستقبل کیلئے بڑی اہمیت رکھتا ہے دل سے نہ بھارت چاہتا ہے نہ امریکہ اور نہ روس کہ یہ تاریخی منصوبہ بخیر خوبی اپنے منطقی انجام تک پہنچے اب یہ ہمارے اور چینی سفارت کاروں کیلئے ایک ٹیسٹ ہوگا کہ وہ اس کانفرنس سے امن قائم کرنے کے مقاصد کس حد تک حاصل کر سکتے ہیں ۔