بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / نئی نسل کا روشن پہلو

نئی نسل کا روشن پہلو

درویش کا نام سن کر یوں لگتا ہے کوئی اسی سالہ بزرگ ہوں گے لیکن اصل میں پندرہ سالہ خوبصورت لڑکا ہے (یا تھا!)۔والد کی جوس کی دکان تھی رمضان سے قبل دکان کے اندر بنے ہوئے عارضی باورچی خانے میں داخل ہوا کہ چولہے پر چائے کیلئے پانی چڑھائے لیکن ایک قیامت تھی جو اُس پر گزر گئی اس چھوٹی سی جگہ میں درویش کو گیس کی بو لگی۔ بچہ ہی تھا نا، اسے چیک کرنے کیلئے ماچس کی تیلی جلائی پھر اسکے بعد درویش کو تو کچھ یاد نہیں لیکن اسکے بھائی بتا رہے ہیں کہ پوری دکان کو آگ لگ گئی اور درویش جس نے کاٹن اور پولیسٹر کے کپڑے پہنے ہوئے تھے، آگ کے شعلوں میں گھر گیا۔ لوگوں نے بڑی مشکل سے درویش کے کپڑوں کی آگ بجھائی اور پھر ایک گاڑی میں ڈال کر نزدیکی بڑے ہسپتال لے گئے۔ وہاں سے جلد ہی دوسرے ہسپتال ٹرانسفر کرنا پڑا کہ پہلے ہسپتال میں جھلسے ہوئے مریضوں کا وارڈ نہیں تھا۔ دوسرے ہسپتال میں بھی کئی گھنٹے گزارنے کے باوجود جب درویش کے والد کو معاملے کی نوعیت سنگین لگی تو ایک پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کردیا جہاں کم از کم ایک پلاسٹک سرجن موجود تھا۔ جلنا بذات خود ایک بہت بڑی آزمائش ہے اور زندگی کو خطرہ ہے تاہم درویش کا معاملہ اس لئے بھی زیادہ سیریس ہوا کہ بند جگہ میں گرم دھواں اسکے پھیپھڑوں تک پہنچا تھا جس نے انہیں بھی کسی حد تک جلادیا تھا۔ زیادہ جھلسے ہوئے مریضوں میں کینولا کیلئے رگ تلاش کرنا ایک مشکل کام ہوتا ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ اسکی سانس بھی اکھڑ رہی تھی اسلئے ایمرجنسی میں اسکے گلے میں سوراخ کرکے (ٹریکیاسٹومی) اسے آکسیجن کیساتھ منسلک کردیا گیا۔ مجھے اسی ہسپتال سے کال آئی کہ اسے آئی سی یو کی سہولت درکار ہے۔ یوں درویش ہماری آئی سی یو کے بستر پر آن پڑا۔ درویش کے جسم کی ساٹھ فیصد جلد مکمل طور پر جل چکی تھی۔ پھیپھڑوں کے نقصان کی وجہ سے اسکی حالت اور بھی دگرگوں تھی۔ اتنے شدید جلنے والے مریض کا بچنا بہت مشکل ہوتا ہے جبکہ جلد کی ساری گہرائی راکھ ہوچکی ہو اور سانس لینا بھی آکسیجن کے بغیر ناممکن ہو۔

تو لاہور کے جناح ہسپتال میں برن وارڈ کافی ایڈوانسڈ سہولیات پر مشتمل ہے ان کے پاس جھلسے ہوئے مریضوں کے بارے تربیت یافتہ سٹاف بھی ہے۔(یاد رہے کہ ہر پلاسٹک سرجن برن کا سپیشلسٹ نہیں بن سکتا) میں نے فون کیا تو ان کے سربراہ نے بتایا کہ ان کے سنٹر کے داخلے کے کڑے شرائط ہیں۔ ساٹھ فیصد گہرے زخموں کے مریض کو وہ داخلہ نہیں دیتے۔ بظاہر تو یہ ظالمانہ اقدام لگتا ہے لیکن جھلسنے کا علاج اتنا مہنگا ہے کہ ایک نہ بچنے والے مریض کو داخلہ مل جائے تو چار بچنے والے مریض علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔

میں نے درویش کو تو آئی سی یو میں بھجوادیا اور خود رشتہ داروں کو اسکی حالت کے بارے میں ناخوشگوار اطلاع دینے کیلئے اپنے آپ کو تیار کرنے لگا۔ اس کے والد مسلسل یہ کہہ رہے تھے کہ ڈاکٹر صاحب خرچے کی پرواہ نہ کریں۔ جتنا ہوسکتا ہے اسکا علاج شروع کردیں۔ اسکے بعد آنیوالے ہفتہ سات دن نہ صرف درویش اور اسکے خاندان پر بھاری گزرے اس نے میرا بھی خون نچوڑ لیا۔ درویش کے داخلے کے تیسرے دن میں نے اسکی تصویر فیس بک پر دیکھ لی اور کسی کی اپیل تھی کہ اسکے علاج کیلئے مالی مدد کی ضرورت ہے اسکے بعد مجھ سے استفسار کرنے والوں کا تانتا بن گیا۔ کئی لوگوں جن میں خداترس ڈاکٹر بھی شامل تھے، چپکے سے جاکر درویش کے بھائی کے ہاتھ جو ہوسکا رکھ دیا۔ کئی ایک نے مجھے ای میل پر رابطہ کیا اور ہسپتال کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کرائی۔ ایک دن میں درویش کے ساتھ ساتھ دو اور شدید جلے ہوئے مریضوں سے آپریشن تھیٹر میں فارغ ہوکر باہر نکلا تو ایک نوجوان کو انتظار کرتے پایا۔ تعارف ہوا۔ ایک مقامی یونیورسٹی کا طالب علم تھا جو فیس بک پر اپیل دیکھ کر مجھ سے ملنے آیا تھا۔ وہ اب تک تین چار لاکھ رروپیہ جمع کرچکا تھا اور پوچھ رہا تھاکہ اسکے علاوہ اور کتنا خرچہ آئے گا اسکے بعد میں روزانہ کئی طلبہ کو درویش کے پاس دیکھتا رہا وہ نہ صرف درویش کے والد اور بھائی کی ڈھارس بندھا رہے تھے بلکہ روزانہ کے حساب سے امدادی رقم بھی جمع کررہے تھے۔

سوشل میڈیا کو کئی بار اچھی تحریکوں کیلئے استعمال کیا گیا ہے بلکہ مہذب ملکوں میں تو اسی سوشل میڈیا کے ذریعے سالوں سے بچھڑے بھائی بہنوں کو ملایا جارہا ہے یا کسی بچے کے کینسر کے علاج کیلئے مختصر وقت میں اچھی خا صی رقم جمع ہوتی رہی ہے لیکن ہم اپنے سیاسی لیڈروں اور مذہبی رہنماؤں کے بیانات کا جائزہ لیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ممنوع اور گھناؤنا میڈیا ہے۔ فیس بک تو اتنا بدنام ہوچکا ہے کہ واقعی چند صفحات پر گالیوں اور کفر کے فتوؤں کے علاوہ اور کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا۔ جمعے کے خطبے سنیں تو معلوم ہو کہ نئی نسل ساری بدراہ ہوچکی اور الحاد کی راہ پر کافی آگے بڑھ چکی ہے۔ لیکن درویش کیلئے ان طلبہ نے جس طرح سے دن رات ایک کرکے رقم فراہم کی اور ان کے خاندان کیلئے ڈھارس بنے رہے، مجھے اپنی نئی نسل پر فخر ہونے لگا۔ یہی نئی نسل ہے جس نے کہیں مل کر ایک نہایت گندی گلی کو صاف کرکے پھولوں سے بھر دیا اور کہیں دیواروں سے بواسیر اور جنسی امراض کے اشتہارات مٹا کر آرٹ کے شاہکار بنا دےئے۔

نوجوانوں اور بزرگوں کی یکساں مدد نے درویش کے خاندان کو تو حوصلہ دیا ہی، انہوں نے میری بھی ہمت بندھائی۔ پچھلے دو ماہ سے ہمارے ہسپتال پر اچانک انہی جھلسے ہوئے مریضوں کی یلغار نے مجھے نہ صرف مصروف رکھا بلکہ میں یاسیت کا بھی شکار رہا۔ اس دوران یہی اجنبی لوگ میرے لئے روشنی کے مینار بنے رہے۔ کئی ایک نے تو اس مہم کو جاری رکھنے کا عہد کیا کہ صوبے میں کم از کم ایک تو اچھا سا وارڈ بن جائے جہاں ان بدقسمت مریضوں کیلئے جائے امان ہو۔ میں گزشتہ بیس پچیس سال سے برن وارڈ کے حصول کیلئے در بدر پھرتا رہا اور اب میں ہمت ہار ہی بیٹھا تھا کہ ان نوجوانوں نے مجھ میں بھی ولولے کا شعلہ جگادیا۔

درویش بے چارہ تو زندگی کی جنگ ہار گیا۔ جلنے کے ایک ہفتے بعد میں نے اسکی حالت میں بہتری دیکھی تو اسے آپریشن تھیٹر لے جاکر اسکے چہرے پر جلد کی پیوندکاری کی اور دو دن بعد دونوں بازوؤں پر گرافٹ کا پروگرام بنایا لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا میں وارڈ راؤنڈ کررہا تھا کہ نرس نے دوڑ لگائی۔ درویش کے مانیٹروں سے الارم بجنا شروع ہوئے ہم نے فوری طور پر اسے آئی سی یو کے سپیشل بیڈ پر منتقل کردیا۔ مانیٹر دکھار ہا تھا کہ اسکا دل رُک گیا ہے۔ ہم نے کوشش کرکے دل کو دوبارہ چالو کردیا ۔ اگلے چند گھنٹے میں اسے تین اور اٹیک ہوئے جن میں سے آخری جان لیوا ثابت ہوا۔ اگلے چند دن نیند میری آنکھوں سے اُڑ گئی اور میں انتہائی ڈپریشن کا شکار رہا۔ ’بے شک ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے‘ ۔ لیکن نوجوانی کی یہ موت ہضم کرنی مشکل ہوجاتی ہے۔ اللہ درویش کے خاندان کو صبر عطا فرمائے، آمین۔