بریکنگ نیوز
Home / کالم / اسلامک نیٹو اور پاکستان کا کردار

اسلامک نیٹو اور پاکستان کا کردار


اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کے بارے پاکستان کا مؤقف واضح لیکن بہت سے ایسے سوالات اور خدشات ہیں جن کا جواب ملنا ضروری ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ ’’اسلامی فوجی اتحاد کے دائرہ کار کا ابھی تک کوئی تعین نہیں ہوا‘ جیسے ہی طریقہ کار کے بارے میں کوئی فیصلہ ہوگا‘اسے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کردیا جائے گا‘‘ یاد رہے کہ اسلامی فوجی اتحاد کے چونتیس ارکان کی تعداد اب بڑھ کر چالیس ہوگئی ہے لیکن پاکستان کسی ایسے اتحاد کا رکن کیسے بن سکتا ہے جس کی تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں؟بطور مسلمان‘ حرمین الشریفین کے مقدس مقامات کے تحفظ اور ان پر آنچ تک نہ آنے دینے کی بلاشبہ ہر مسلم ملک کی مذہبی ذمہ داری ہے اور اس کے لئے ہر مسلمان اپنی جان تک نچھاور کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتا ہے اس حوالے سے پاکستان کی افواج پہلے بھی حرمین الشریفین کے مقدس مقامات کے تحفظ کا فریضہ سرانجام دے چکی ہیں اور ان مقدس مقامات پر کسی بیرونی جارحیت کی صورت میں آئندہ بھی افواج پاکستان ہی نہیں‘ پاکستان کا ہر مسلمان شہری اپنی جانیں نچھاور کرنے میں کوئی پس و پیش نہیں کرے گا تاہم ایک آزاد اور خودمختار مملکت کی حیثیت سے بیرونی دنیا سے تعلقات کے معاملہ میں پاکستان کی اپنی الگ قومی خارجہ پالیسی ہے۔ اس تناظر میں برادر سعودی عرب کے خطے یا اقوام عالم میں کسی ملک کیساتھ کشیدہ تعلقات ہوں اور اس ملک میں مداخلت سعودی عرب کی پالیسی کا حصہ بن گیا ہو تو پاکستان اس میں کسی صورت فریق نہیں بن سکتا البتہ ایک دوسرے کے خلاف صف آراء برادر مسلم ممالک کے مابین مصالحت و مفاہمت کے لئے اپنا کردار ضرور بروئے کار لا سکتا ہے۔

برادر سعودی عرب کے دوسرے مسلم ملک یمن پر حملے کے موقع پر پاکستان نے ایسی ہی غیرجانبدارانہ اور آبرومندانہ پالیسی اختیار کی جس کے تحت سعودی عرب کی جانب سے عسکری معاونت طلب کرنے کے باوجود پاکستان نے اپنی افواج یمن بھجوانے سے معذرت کرلی اور سعودی‘ یمن تنازعہ طے کرانے کیلئے مصالحت کنندہ کا کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا۔ سعودی‘ یمن تنازعہ کے تناظر میں ہی پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے مابین بھی مفاہمت کیلئے کردار ادا کرنے کی پیشکش کی جس کا برادر سعودی عرب کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہ دیا گیا تاہم پاکستان نے دونوں برادر مسلم ممالک میں مفاہمت کیلئے اپنے طور پر کوششیں جاری رکھیں کیونکہ دو مسلم ممالک میں باہمی چپقلش کا وہ مسلم دشمن قوتیں ہی فائدہ اٹھاتی ہیں جو مسلم امہ کا اتحاد و یکجہتی پارہ پارہ کرنیکی سازشوں میں مصروف رہتی ہیں۔ اسی حوالے سے پاکستان اتحاد امت کا متقاضی رہتا ہے اور اس کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کی خواہش بھی رکھتا ہے۔ اسی بنیاد پر جب گزشتہ سال برادر سعودی عرب کی جانب سے چونتیس رکنی اسلامی فوجی اتحاد کی تشکیل کا اعلان کیا گیا اور اس اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کا بھی یکطرفہ طور پر اعلان کردیا گیا تو پاکستان نے باضابطہ طور پر اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور اتحاد میں اپنی شمولیت اتحاد کے ٹی او آرز کے ساتھ مشروط کی جس کے تحت باور کرایا گیا کہ اس اتحاد کا حصہ بنتے ہوئے پاکستان اپنی افواج کسی برادر مسلم ملک کی سلامتی کیخلاف استعمال نہیں کرے گا اس صورتحال میں پاکستان کو یقیناًواضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنا ہوگا کیونکہ پاکستان کے اس اتحاد میں کردار کے حوالے سے برادر ایران بھی تحفظات کا اظہار کرتا نظرآرہا ہے۔

جس کے پاکستان میں تعینات سفیر مہدی ہنر دوست نے بھی پاکستان سے اس امر کا تقاضا کیا ہے کہ وہ اسلامی فوجی اتحاد میں شمولیت کے معاملہ میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے کیونکہ ان کے بقول داعش کے سہولت کار اس اتحاد کے ممبر ہیں اسی تناظر میں ایران کے وزیر دفاع حسین دہقان کے گزشتہ روز جاری کئے گئے اس بیان کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ایران کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو اس کے نتائج پڑوسی ممالک اور امریکہ کو بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم اسلامی فوجی اتحاد کی طرف سے خطرے کی صورت میں ہم مخالفین کو جواب دینے کے لئے تیار ہیں اس کے لئے انہوں نے ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ پاکستان کے لئے یقیناًیہ نازک صورتحال ہے کیونکہ برادر ایران کیساتھ پہلے ہی سرحدی خلاف ورزیوں کے معاملہ میں ہماری کچھ غلط فہمیاں موجود ہیں۔ اگر اسلامی فوجی اتحاد کے حوالے سے کشیدگی بڑھی تو اس کے نتائج کسی فریق کے لئے بھی اچھے نہیں ہوں گے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر عرفان الٰہی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)