بریکنگ نیوز
Home / کالم / اداروں کو کام کرنے دیں

اداروں کو کام کرنے دیں

جس طرح کمان سے نکلا ہوا تیر واپس نہیں آسکتا اس طرح منہ سے نکلے ہوئے الفاظ بھی مڑ نہیں سکتے۔ اب بھلا نہال ہاشمی لاکھ کہتے پھریں کہ ان کا منشا عدلیہ کی تضحیک کرنا نہ تھا کوئی ذی شعور ان کا یہ عذر ماننے کو تیار نہ ہوگا۔ ظاہر ہے کہ وہ اس وقت نشے میں تھوڑی تھے جب ان کے منہ سے یہ الفاظ نکل رہے تھے نہال ہاسمی کے ساتھ وہی سلوک کیاگیا جو ہونا تھا ہمیں اچھی طرح یاد ہے جب ذوالفقار علی بھٹونے ایوب خان کو یہ مضحکہ خیز تجویز پیش کی تھی کہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو کنونشن مسلم لیگ کا ضلعی جنرل سیکرٹری بھی ہونا چاہئے ورنہ بانی پاکستان کا فرمان تو اس بارے میں کافی واضح تھا ریکارڈ میں ان کی وہ تقریر موجود ہے کہ جس میں انہوں نے سرکاری اہلکاروں کو غیر مبہم الفاظ میں کہا تھا کہ وہ صرف اور صرف ملک کے قوانین کے تابع ہوں گے اور آئین کے سامنے جواب دہ ہوں گے نہ کہ کسی حکومت وقت کے کہ جو آئی جانی شے ہوتی ہے۔ یہ تو ہم عرصہ دراز سے سنتے بھی آئے ہیں اور دیکھتے بھی کہ ہر علاقے کا رکن اسمبلی یہ کوشش کرتا کہ اس کے انتخابی حلقے میں پٹواری سے لیکر تحصیلدار تک اور تھانیدار سے لیکر ایس پی پولیس تک اس کی مرضی کا افسر تعینات ہو اب وہ یہ چاہتے ہیں کہ عدالتیں بھی ان کی مرضی کے فیصلے کریں اگر کسی جج کے بار ے میں ان کو پتہ چل جائے کہ وہ کھرا آدمی ہے کسی کی سفارش نہیں سنتا اور نہ مانتا ہے تو اسے وہ بیک وقت خریدنے اور دھمکانے کی کوشش کرتے ہیں۔

وہ اس مقولے پر یقین رکھتے ہیں کہ ’’باپ کرے نہ بھیا جو کرے روپیہ‘‘ پر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ آدمی آدمی میں فرق ہوتا ہے سب لوگ بکاؤ مال نہیں ہوتے اس معاملے میں ہمارے حکمرانوں کا ٹریک ریکارڈ کوئی تسلی بخش نہیں۔ کیا ایوب خان نے اپنے ایک دیرینہ دوست کرنل یوسف کو ایک مقدمے میں سزا ہونے سے بچانے کیلئے اس وقت کی مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس بشیر حسین شاہ پر سیاسی دباؤ نہیں ڈالا تھا؟ کیا اس ملک کے ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کی ٹیلی فون پر ایک جج صاحب سے بات چیت کا ریکارڈ موجود نہیں کہ جس میں وہ ان سے ایک کیس میں اپنی مرضی کا فیصلہ دینے کی گزارش کر رہے ہیں اس ملک میں گڈ گورننس کا بیڑا اس لئے غرق ہوا ہے کہ بیورو کریسی اور پولیس کو حد درجہ سیاسی کر دیاگیا ہے اور اب عام آدمی کا ان پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے وہ اس سے کسی بھی معاملے میں تعاون نہیں کر رہا اور ان کے ہر حکم اور ہر قدم کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

اسی طرح آج اگر انصاف عنقا ہوتا دکھائی دے رہا ہے تو اس کی بھی اپنی واضح وجوہات ہیں۔ کوتاہ نظر حکمران نہ جانے کیوں یہ بات بھول جاتے ہیں کہ یہ ان کے مفاد میں ہے کہ اگر انتظامیہ، عدلیہ اور پارلیمنٹ بالکل آزاد ہوں گے تو وہ حکومت وقت اور عوام کے درمیان ایک قسم کے شاک ایبزاربرجیسا کام کریں گے اور حکمرانوں کا کام سہل ہوجائے گا اس صورت میں امن عامہ کے تمام جھمیلے انتظامیہ اپنے سر پر لے کر ان کو حل کیا کرے گی کیونکہ عام آدمی کا اس پر اعتماد ہوگا کہ وہ غیر سیاسی ہے پر اگرعام آدمی کا یہ تاثر قائم ہو کہ انتظامیہ سیاست کے رنگ میں رنگی ہوئی ہے تو پھر وہ غیر موثر ہوکر رہ جاتی ہے نہ جانے یہ چھوٹی سی بات حکمرانوں کے ذہن میں کیوں نہیں پیدا ہوتی۔ مختصر یہ کہ اب لوگ شاید ریاستی اداروں میں حکومت کی مداخلت کو بالکل نہ مانیں (ن) لیگ کو شاید اس معاملے میں اگلے الیکشن میں کافی نقصان اٹھانا پڑے۔ وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کو چاہئے کہ وہ اپنے پارٹی رہنماؤں کو سمجھائیں کہ وہ اداروں کی تضحیک نہ کریں۔