بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / جے آئی ٹی کے ایک دو ممبران پر تحفظات و اعتراضات بدستور موجود ہیں ٗ سعد رفیق

جے آئی ٹی کے ایک دو ممبران پر تحفظات و اعتراضات بدستور موجود ہیں ٗ سعد رفیق

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کے ایک دو ممبران پر تحفظات و اعتراضات بدستور موجود ہیں ٗ نظام بچانے کیلئے اپنے لوگوں کی قربانیاں دے رہے ہیں ٗ ہم قربانیاں نہیں دینگے تو پھر کون دیگا ٗ مسلم لیگ (ن)عدلیہ کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے ٗ مسلم لیگ (ن)تنہا نہیں ٗ آئندہ سال الیکشن کی وجہ سے اپنی اپنی سیاست میں لگی ہوئی ہیں ۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دنیا میں انصاف لینے کا ایک بنیادی اصول ہے جو ہم نے تو نہیں بنایا جس کے تحت تحقیق کرنے والے لوگوں کا غیر جانبدار ہونا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ جے آئی ٹی کے ایک رکن مشرف دور میں بھی وزیراعظم محمد نواز شریف کے خلاف تحقیقات کر چکے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے کئی ممبرز کے اختلاف کے باوجود وزیراعظم محمد نواز شریف نے سپریم کورٹ کو خود پاناما پیپرز کی تحقیقات کیلئے خط لکھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کا دامن صاف ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان نے سپریم کورٹ کی تحقیقات کے دوران عدالت عظمیٰ سے بھرپور اور مکمل تعاون کیا اور اب جے آئی ٹی سے بھی مکمل تعاون کیا جا رہا ہے کیونکہ ہماری قیادت اور ہم اس کیس کا منطقی انجام چاہتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے کراچی کے امن کے لیے بلا تفریق کارروائیاں کیں اور کراچی جیسے بڑے شہر میں امن و امان کی بہتر صورت حال کو یقینی بنایا۔ کراچی آپریشن پر کچھ لوگوں کے تحفظات بھی تھے لیکن وزیراعظم محمد نواز شریف نے ملکی امن و امان کو ترجیح دیتے ہوئے کراچی میں شر پسند عناصر کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ساتھیوں اور کارکنوں کو قربان کرتے ہیں‘ حکومت بچانا ہمارے لیے اتنا اہم نہیں بلکہ ہم نظام بچاتے ہیں جو زیادہ ضروری بھی ہے۔

ہم نے حکومتیں بچانے والا چلن تو اسی وقت ترک کر دیا تھا جب پنجاب میں گورنر راج لگا اور صوبے میں ہماری حکومت نہیں تھی اور لانگ مارچ کے بدلے ہم کچھ بھی مانگ سکتے تھے لیکن ہم نے عدلیہ کی بحالی اور آزادی ہی مانگی تھی اپنی حکومت کی بحالی نہیں مانگی تھی جو ریکارڈ کی بات ہے۔ خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ہم نے جو قربانیاں دین وہ نظام بچانے کے لیے دیں اور قربانیاں ہم نے ہی تو دینی ہیں، ہم قربانیان نہیں دیں گے تو پھر کون دے گا۔