بریکنگ نیوز
Home / بزنس / خیبر پختونخوا کے نئے مالی سال کا بجٹ بدھ کو پیش کیا جائیگا

خیبر پختونخوا کے نئے مالی سال کا بجٹ بدھ کو پیش کیا جائیگا

پشاور۔صو بائی حکو مت نے نئے مالی سال 2017-18 ء کے بجٹ میں سروسز ٗ منی ٹرانسفر ٗ پلو ں کے کنٹریکٹر ٗ گیس سپلائی ٗ سینی ٹیشن سروسز اوردوسرے صو بو ں کی گاڑیوں کی خیبر پختونخوا میں دوبارہ رجسٹریشن پر جی ایس ٹی نہ لگانے کی تجاویز تیار کی ہیں ٗتا ہم شہری غیر منقولہ جائیداد پر پچاس فیصدٹیکس ٗجنرل سٹور کے حامل سی این جی اور پٹرول پمپ اور سروس سٹیشن پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کے علاوہ نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں ۔

صو بائی وزیر خزانہ مظفر سید کل بدھ کے روز صو بائی اسمبلی میں تجاویز پیش کر یں گے ۔ محکمہ خزانہ کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق رواں مالی سال 2016-17 ء کے دوران صو بائی محکموں کو دےئے گئے صو بائی محاصل کے اہداف پورے نہیں ہو سکے ٗ بلکہ گزشتہ سال کی نسبت ان میں کمی آئی ہے ٗ سر کاری اعداد و شمارکے مطابق گزشتہ مالی سال کے پہلے دس ماہ کے دوران کل محاصل کا 70.4 فیصد وصول ہوا تھا جبکہ موجودہ مالی سال کے دوران اسی عرصے میں یہ تناسب کم ہو کر 64.4 فیصد ہو گیا ہے ذرائع کے مطابق صو بائی محاصل کو بڑھانے کے لئے محکمہ خزانہ نے صو بائی محکموں کے ساتھ الگ الگ اجلاس منعقد کئے ہیں ٗجن میں پہلے سے موجود ٹیکسو ں میں ردو بدل کرنے ان میں اضافے اور بعض نئے ٹیکس عائد کر نے کی تجاویز تیار کر کے صو بائی حکو مت کو پیش کر دی گئی ہیں ٗ جنہیں بجٹ میں شامل کر نے کے لئے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں زیر بحث لایا جائے گا ۔

ان تجاویز کے مطابق شہری غیر منقولہ جائیداد پر ٹیکس کی شرح میں پچاس فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے ٗصو بائی دارلحکومت پشاور میں ذاتی رہائش گاہ کے علاوہ پانچ مرلہ کے مکان پر ٹیکس کی شرح کیٹگری اے کے لئے ایک ہزار سے بڑھا کر 1500 روپے ٗکیٹگری بی 900 سے بڑھا کر 1300 ٗ کیٹگری سی750 سے بڑھا کر 1100 روپے ۔ پانچ سے دس مرلے تک کیٹگری اے 1700 سے بڑھا کر 2500 روپے ٗکیٹگری بی 1600 سے بڑھا کر 2400 روپے ٗکیٹگری سی 1500 سے بڑھا کر 2300 روپے ٗدس مرلے سے زائد اور پندرہ مرلے تک اے کیٹگری کے لئے 2200 سے بڑھا کر 3300 روپے ٗکیٹگری بی 2100 سے بڑھا کر 3100 روپے ٗ کیٹگری سی 2000 سے بڑھا کر 3000 روپے ٗپندرہ مرلے سے زائد اور اٹھارہ مرلے تک کیٹگری اے میں3300سے بڑھا کر 4800 روپے ٗکیٹگری بی میں 3200 سے بڑھا کر 4700 اور سی کے لئے 3000 سے بڑھا کر 4500 روپے کر نے کی تجویز ہے ٗاٹھارہ مرلے سے زائد اور بیس مرلے تک کیٹگری اے کے لئے دس ہزار سے بڑھا کرپندرہ ہزار ٗکیٹگری بی 9000 سے بڑھا کر 13500 روپے ۔کیٹگری سی کے لئے 8000 سے بڑھا کر 12000 روپے کر نے کی تجویز ہے ٗاسی طرح 30 سے زائد اور 40 مرلے تک کیٹگری اے میں20 ہزا ر سے بڑھا کر30 ہزار ٗکیٹگری بی میں18 ہزار سے بڑھا کر 27 ہزار ٗاور سی میں16 ہزار سے بڑھا 24 ہزار روپے کئے جارہے ہیں ۔ بجٹ تجاویز کے مطابق 40 مرلے سے زائد کے مکان پر کیٹگری اے 30 سے 45 ہزار ٗکیٹگری بی میں25 سے بڑھا کر37 ہزار 500 ٗکیٹگری سی میں20 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار کر دیا گیا ہے ٗ سی این جی اور پٹرول پمپ جہاں جنرل سٹور بھی ہو ں ان پر پراپرٹی ٹیکس 15 ہزار سے بڑھا کر 22500 روپے کیاجا رہا ہے ٗجن پمپس پر سٹور نہیں ہوں گے ان پر ٹیکس کی رقم 7500 سے بڑھا کر 11300 روپے کی جا رہی ہے ۔

بجٹ میں سروس سٹیشنز پر سالانہ بیس ہزارروپے پراپرٹی ٹیکس عائد کر نے کی تجویز ہے ٗتمام مضاربہ کمپنیوں ٗمیوچل فنڈ ٗکارپوریٹ باڈیز پر پروفیشنل ٹیکس کی شرح اس طرح ہوگی جن کی آمدن ایک کروڑ تک ہو تو ٹیکس کی شرح 18 ہزار سے بڑھا کر27 ہزار ٗایک کروڑ سے زائد اور پانچ کروڑ روپے تک آمدن پر36000 سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کر نے کی تجویز ہے ٗنان سپیشلسٹ ڈاکٹرز پر پروفیشنل ٹیکس کی شرح 2ہزار سے بڑھا 10 ہزار روپے کر دی گئی ہے ٗتشخیصی لیبارٹری پرپشاور میں 15 سے بڑھا کر20 ہزار روپے ٗپٹرول و سی این جی سٹیشنز پر 8000 سے بڑھا کر 12000 روپے ٗسروس سٹیشنز پر پروفیشنل ٹیکسو ں کی شرح 5000 سے بڑھا کر8000 روپے ٗکیبل آپریٹرز پر ایک ہزار سے بڑھا کر دس ہزار روپے ٗہول سیل ڈیلرز ٗ ایجنسی ہولڈرز اور میڈیکل سٹور پر پہلے پروفیشنل ٹیکس نہیں تھا ان پر دس ہزار روپے پروفیشنل ٹیکس عائد کر نے کی تجویز ہے ۔

ایسے ٹیلر جو صرف شلوار قیمض کی سلائی کر تے ہیں ان پر دو ہزار روپے ٗ جو شلوار قمیض کے ساتھ واسکٹ کی سلائی کرتے ہیں ان پر پانچ ہزار روپے اور جو شلوار قمیض کے ساتھ پینٹ شرٹ کی سلائی کر تے ہیں ان پر دس ہزار روپے سالانہ پروفیشنل ٹیکس عائد کر نے کی تجویز ہے ٗصو بے سے باہر سپرٹ لے جانے پر اب تک کوئی ٹیکس نہیں تھا اب دس روپے فی لیٹر ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے ٗاسی طرح ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ نے بھی فیسو ں میں ردو بدل کی تجاویز تیار کی ہیں ان میں روٹ پرمٹ کو تبدیل کر نے کی فیس 750 روپے سے بڑھا کر 3100 روپے ٗلیٹ فیس 100 سے بڑھا کر 200 رو پے ٗ سامان لے جانے والی گاڑیوں پر پرمٹ کی فیس 5064 سے بڑھا کر 6736 روپے کی جا رہی ہے ٗباڈی بلڈنگ ورکشاپ پر5060 روپے سے بڑھا کر7060 ٗ گڈز فارورڈنگ ایجنسیوں پر سالانہ فیس ایک ہزار 716 روپے سے بڑھا کر 20 ہزار کی جا رہی ہے ۔

نئی گاڑیوں کی ویری فیکیشن کے لئے ہلکی گاڑیوں پر پانچ ہزار اور بھاری گاڑ یوں پردس ہزار روپے فیس کی جا رہی ہے ٗسی این جی کٹس کے معائنے پر ایک ہزارروپے فیس وصول کی جائے گی ٗ اسی طرح ٹرکوں کا وزن کر نے والے سٹیشن پر دس ہزار فیس ٗ ڈرائیو نگ لائسنس کی توسیع کے وقت 100 روپے میڈیکل فیس مقرر ۔ریسٹورینٹ کی رجسٹریشن فیس پشاور ٗ ایبٹ آباد ٗ مانسہرہ اور سوات میں پچاس سیٹو ں اور اے سی والے ریسٹورینٹ کی فیس 10 ہزا ر مقرر تھی ٗجو اب 25 سیٹو ں تک دس ہزار اور 25 سے 50 سیٹو ں تک12 ہزار روپے ہو گی ٗدوسرے اضلاع میں 50 سیٹو ں تک فیس اے سی والے کے لئے 3 ہزاراور بغیر اے سی والے کے لئے ایک ہزار 600 روپے تھی جو اب بڑھا کر 3000 کر دی گئی ہے جبکہ 25 سے زائد اور 50 سیٹو ں تک اے سی والے ریسٹورینٹ پر5 ہزا راوربغیر اے سی پر 4 ہزار روپے فیس مقرر کی جا رہی ہے ۔

ملٹی نیشنل ہوٹلز اور ریسٹورینٹ پر پہلے کوئی رجسٹریشن فیس نہیں تھی اب اے سی والے ریسٹورینٹ پر پچاس ہزار روپے اوربغیر اے سی پر 30 ہزار رجسٹریشن فیس وصول کی جائے گی ۔ ٹر یولنگ ایجنسی کے لائسنس میں ردوبدل کیا گیا ہے ٗجو ایجنسی مسافرو ں کے سامان کی بکنگ کرتی ہیں ان کے ہیڈ آفس کی فیس 10 ہزار سے بڑھا15 ہزار روپے کر دی گئی ہے ۔