بریکنگ نیوز
Home / کالم / نیب کی کارکردگی

نیب کی کارکردگی


قومی احتساب بیورو ایک سرکاری اور خود مختار ادارہ ہے جس کے فرائض میں ملک میں بدعنوانی کے خاتمے کیلئے ذمہ داروں کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرنا شامل ہے اس حوالے سے اس ادارہ نے نادہندگان سے اربوں روپے وصول کئے ہیں اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض بڑے میگا سیکنڈلز پر بھی ریفرنس مرتب کئے جارہے ہیں ملک کے موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کے خلاف بھی بعض مالی بے ضابطگیوں اور بعض بڑے لوگوں پر ٹیکس چوری کے الزامات کے کیسز بھی نیب ہی میں زیر سماعت ہیں۔ چند ایک کا فیصلہ بھی ہوگیا ہے‘ تاہم عمومی طور پر اسکی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہارکیا جاتاہے جبکہ نیب کے سربراہ اپنے ادارے کی کارکردگی کو اطمینان بخش قرار دیتے ہیں۔

یادش بخیر‘ ایک سال تین ماہ قبل نیب نے سپریم کورٹ میں ایک سو پچاس میگا کرپشن کیسز کی رپورٹ جمع کرائی جس میں ملک کے بااثر اور طاقتور لوگوں کے نام شامل تھے۔ اس رپورٹ پر حکومتی اعلیٰ عہدیداروں سمیت کئی پارٹیوں کے رہنماؤں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور نیب کے چیئرمین کو دھمکیاں دیں۔ نیب کو بند کرنے کیلئے قانون سازی کی بھی تجاویز منظر عام پر آنے لگیں اس کے بعد نیب کی طرف سے ایک سو پچاس میگا کریشن کیسز پر خاص پیشرفت سامنے نہیں آئی رواں سال اپریل میں نیب نے اپنی کارکردگی کے حوالے سے کرپشن کے خلاف اپنے اقدامات اور تحقیقات کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جسکے مطابق ملک میں کرپشن کی 638انکوائریاں اور 336کیسوں کی تحقیقات تفتیش کے مختلف مراحل میں ہیں۔ نیب نے کرپشن کیسوں میں ملوث افراد کے بیرون ملک فرار کو روکنے کیلئے چارسو ایک افراد کے نام بھی ’ای سی ایل‘ میں ڈلوائے ہیں۔ نیب کی تحقیقات اور انکوائریوں کے حوالے سے یہ شکایات عام ہیں کہ نیب کی تحقیقات آزادانہ نہیں ہوتیں۔ نیب کو حکومتی دباؤ میں رہ کر کام کرنا پڑتا ہے جس کا نتیجہ ہے کہ انکوائریوں کے اعداد و شمار تو قوم کے سامنے لائے جاتے ہیں لیکن اس امر سے آگاہی خال خال ہی سامنے آتی ہے کہ ان انکوائریوں کا نتیجہ کیا نکلا۔ زیادہ تر کرپشن کیسز میں ملوث بڑے مگر مچھوں سے پلی بارگینگ کرکے انہیں کلین چٹ دیدی جاتی ہے۔آج کرپشن پاکستان کے مسائل میں سرفہرست ہے۔ کرپشن کے خاتمے اور کرپشن کی ریکوری کیلئے نیب سب سے بڑا اور خودمختار ادارہ ہے۔ اس کے چیئرمین کی تقرری حکومت اور اپوزیشن مشاورت سے کرتی ہیں۔

ہمارے ہاں ہر پارٹی کی قیادت پر کرپشن اور بے ضابطگیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں یہی سیاسی جماعتیں چیئرمین نیب کی تقرری کریں گی تو انکی غیرجانبداری پر سوال اٹھ سکتا ہے۔ قمرزمان چودھری کے پیشرو فصیح بخاری نے کہا تھا کہ پاکستان میں روزانہ بارہ ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے پانامہ لیکس اور بہاماس لیکس کے انکشافات سے قبل وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قوم کو امید دلائی تھی کہ بیرونی بینکوں میں پاکستانیوں کے پڑے دوسو ارب ڈالر واپس لائیں گے ان اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ وطن عزیز میں کرپشن کتنی اور کس سطح پر ہوتی ہے۔نیب کی مایوس کن کارکردگی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے سولہ سال میں 264ارب روپے کی ریکوری کی جس میں 181ارب روپے بینک نادہندگان سے وصول کئے گئے۔

بدعنوان لوگوں سے تراسی ارب روپے پلی بارگین کے ذریعے حاصل کئے گئے جن کی وصولی کی حیثیت اس تناظر میں کیا رہ جاتی ہے کہ توقیر صادق جیسے ایک فرد پر اس سے زیادہ کرپشن کے الزامات ہیں اور ایسے کئی ملزم ملک میں پائے جاتے ہیں۔ پانامہ اور بہاماس لیکس میں کھربوں ڈالرز کی بدعنوانیوں اور ٹیکس چوری کے انکشافات ہوئے ہیں یہ معاملہ آٹھ ماہ قبل منظر عام پر آیا مگر نیب اور دیگر ادارے انکوائری کے حوالے سے ایک قدم پیشرفت نہیں کرسکے۔ نیب دیگر تحقیقاتی اداروں کی نسبت زیادہ خودمختار ہے۔ اسکی طرف سے قطعی اور اٹل غیرجانبداری ہونی چاہئے مصلحت اور دباؤ آڑے نہیں آنا چاہئے۔ کرپشن کا خاتمہ ملک اور نئی نسل کی بقاء کا معاملہ ہے۔ پاکستان کی ترقی‘ خوشحالی اور نیک نامی کرپشن کو جڑ سے ختم کردینے میں مضمر ہے‘ جس کے لئے بیانات بہت ہوچکے اب وقت ہے کہ عملی اقدامات سے کام کا آغاز کیا جائے۔