بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / کابل میں بم دھماکے

کابل میں بم دھماکے

کابل میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کا آغاز گزشتہ بدھ کے روز محفوظ ترین سمجھے جانیوالے سفارتی علاقے وزیر اکبر خان میں جرمن اور فرانسیسی سفارت خانوں کے قریب ہونیوالے بھاری ٹرک دھماکے میں نوے افراد کی ہلاکت اور چار سو کے زخمی ہونے سے ہوا تھا جسے کابل میں اب تک ہونے والے تخریب کاری کے واقعات میں سب سے بڑ اواقعہ قرار دیا جا رہا ہے جس نے افغان حکومت کوہلاکر رکھ دیا ہے۔اس لہر کا دوسرا واقعہ جمعتہ المبارک کے روز اس وقت پیش آیا جب بدھ کے دھماکے کے خلاف بطور احتجاج کابل کے سینکڑوں شہری سڑکوں پرنکل آئے تھے اور وہ افغان حکومت سے دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام میں ناکامی پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے ، جب اس موقع پر مشتعل مظاہرین نے صدارتی محل کی جانب بڑھنے کی کوشش کی تو سیکیورٹی فورسزکی فائرنگ سے سات افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے ۔واضح رہے کہ ان جاں بحق افراد میں افغان ایوان بالاجسے د مشرانو جرگہ کہاجاتا ہے کے ڈپٹی چیئرمین محمد عالم ایزدیار جن کاتعلق افغان چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر عبد اللہ عبداللہ اور وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی کی جماعت جمعیت اسلامی سے ہے کے جوان سال بیٹے سلیم ایزدیاربھی شامل تھے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جب ہفتے کے روزسلیم ایزدیار کی نما زجنازہ کابل کے خیرخانہ قبرستان میں ادا کی جا رہی تھی جس میں ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ اورافغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی کے علاوہ کئی دیگر اعلیٰ حکومتی حکام اور ممبران پارلیمنٹ بھی موجود تھے اس دوران اچانک ہونے والے تین پے درپے بم دھماکوں جنہیں سرکاری ذرائع خود کش دھماکے قرار دے رہے ہیں کے نتیجے میں بارہ مزید افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔یاد رہے کہ طالبان نے پہلے دھماکے کی طرح ہفتے کے روزسلیم ایزدیارکے جنازے میں ہونے دھماکوں سے بھی نہ صرف لا تعلقی کا اعلان کیا ہے بلکہ یہاں تک کہاہے کہ یہ دھماکے در اصل حکومت کے اندرونی اختلافات کا نتیجہ ہیں جن کا ملبہ غیر حقیقت پسندانہ طور پر طالبان پر گرانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘طالبان کے اس موقف کی حقیقت کیا ہے اور ا صل معاملہ کیا ہے اس کا پتا تو شاید کبھی نہیں چل سکے گا البتہ یہاں یہ سوال ضرور اہمیت کا حامل ہے کہ اگر یہ دھماکے طالبان نے نہیں کئے ہیں تو پھر آخر ان کا ذمہ دار کون ہے۔اسی طرح جو لوگ بدھ کے دھماکے کی آڑ میں افغان صدرڈاکٹر اشرف غنی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔

ان کی اکثریت چونکہ شمالی اتحاداور تاجکوں سے تعلق رکھتی ہے جس کا واضح ثبوت سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین محمد عالم ایزدیارجن کاتعلق وادی پنجشیر سے ہے اور جوڈاکٹر عبد اللہ عبداللہ کے انتہائی قریب سمجھے جاتے ہیں کے بیٹے سلیم ایزدیار کی حکومت مخالف احتجاج میں شرکت اور ہلاکت ہے۔افغانستان کے مخصوص حالات کے تناظر میں جہاں افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبد اللہ عبداللہ کے درمیان پائی جانے والی خلیج کی حقیقت سے ہر کوئی بخوبی واقف ہے وہاں اس ضمن میں اس تلخ حقیقت سے بھی کوئی آنکھیں چرانے کی ہمت نہیں کر سکتا ہے کہ افغانستان کے موجودہ سیٹ اپ میں غلبے کیلئے افغان صدر اور چیف ایگزیکٹوکے درمیان جو کھینچا تانی نظر آرہی ہے وہ دراصل تاجکوں اور پشتونوں کے درمیان کافی عرصے سے اقتدار پر قبضے کیلئے جاری کشمکش کا نتیجہ ہے ۔

دوسری جانب بعض حلقے افغانستان کے مخصوص حالات کو ایشیا بالخصوص مشرق وسطیٰ اور مشرق بعید میں کچھ عرصے سے امریکہ اور روسی وچینی اتحاد کے درمیان بڑھتی ہوئے کشیدگی کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔اس لئے ا س تمام تر صورتحال کے تناظرمیں افغان حکومت کی جانب سے کابل کے حالیہ دھماکوں سمیت بد امنی کے کسی بھی واقعے کی زمہ داری بلا سوچے سمجھے پاکستان پر ڈالنا اپنی کوتاہی سے چشم پوشی اور ان سازشوں کے سرخیلوں کوپاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کے ذریعے مزید کھیل کھیلنے کے مواقع فراہم کرنے کے مصداق ہے لہٰذا افغان حکومت کو نہ صرف ان سازشوں کو سمجھنے کی استعدادپیدا کرنی چاہئے بلکہ اپنے اصل دشمنوں کوپہچان کر پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے خطے میں بد امنی کی اصل ذمہ دار قوتوں کے منفی عزائم خاک میں ملانے کیلئے پاکستان کیساتھ مل کر بعض جراتمندانہ اقدامات اٹھانے پر بھی توجہ دینی چاہئے۔