بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ملک بھرمیں کام کرنیوالی غیرملکی این جی اوز کاریکارڈ طلب

ملک بھرمیں کام کرنیوالی غیرملکی این جی اوز کاریکارڈ طلب

پشاور۔پشاورہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سے ملک بھرمیں کام کرنے والی بین الاقوامی این جی اوز کاریکارڈ مانگ لیاہے اوراس بات کی وضاحت طلب کی ہے کہ یہ این جی او ز کن قوانین کے تحت ملک کے اندرکام کررہی ہیں عدالت عالیہ کے جسٹس روح الامین اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دورکنی بنچ نے یہ احکامات پیمان الومینائے ٹرسٹ کی جانب سے دائررٹ پر جاری کئے اس موقع پران کے وکیل عبداللطیف آفریدی نے عدالت کو بتایا کہ ایم آئی کی جانب سے سکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے پر ایف ڈی ایم اے نے درخواست گذار کو فاٹا میں کام کرنے سے روک دیاہے اورایم آئی کے لیٹرمیں صرف سکیورٹی وجوہات بیان کی گئی ہیں تاہم اس لیٹرمیں دیگرکوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے جبکہ قبل ازیں درخواست گذار کو فاٹامیں کام کرنے کیلئے42مرتبہ این او سی جاری کی گئی ہے جبکہ درخواست گذار کی این جی او میں تین سو سے زائد پاکستانی کام کررہے ہیں جو تمام مقامی افراد ہیں اوراس طرح درخواست گذارپرپابندی کاکوئی جوازنہیں بنتالہٰذاپابندی کالعدم قرار دیاجائے۔

اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل اصغرکنڈی نے عدالت کو بتایا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے درخواست گذار پرکسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی گئی تاہم اس حوالے سے وزارت دفاع سے جواب طلب کیاجائے تو صورتحال واضح ہوسکے گی جس پرعدالت نے کہاکہ ملک میں کام کرنے والی ملکی اورغیرملکی این جی اوز وزارت داخلہ کے تحت آتی ہیں کہ وہ کونسے ممالک کے لئے کام کررہی ہیں اورانہیں فنڈزکہاں سے آتے ہیں یہ تمام اموروزارت داخلہ کے تحت آتے ہیں ہیں اس موقع پر ایف ڈی ایم اے کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ چونکہ سکیورٹی کلیئرنس نہیں دی گئی تھی اس بناء درخواست گذار کو این او سی جاری نہیں کی گئی بعدازاں فاضل بنچ نے رٹ کی سماعت26جون تک ملتوی کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے ملک بھرمیں کام کرنے والی بین الاقوامی این جی اوز کاریکارڈ مانگ لیاہے اوراس بات کی وضاحت طلب کی ہے کہ یہ این جی او ز کن قوانین کے تحت ملک کے اندرکام کررہی ہیں۔