بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / ٹرمپ کا سعودی فرمانروا سے رابطہ

ٹرمپ کا سعودی فرمانروا سے رابطہ


واشنگٹن/ریاض۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان کو فون کر کے قطر سے حال ہی میں شروع ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کہہ دیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤ س کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے شاہ سلمان سے بات چیت کے دوران کہا کہ متحد خلیجی تعاون کی تنظیم کے لیے دہشت گردی کے خاتمے اور خطے کا استحکام مشکل ہے۔وائٹ ہاؤ س سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کے سربراہان نے دہشت گردوں کی مالی امداد کو روکنے اور خطے کے کسی بھی ملک کی جانب سے شدت پسندی کو فروغ دینے کو ختم کرنے کے لیے اقدامات پر بات چیت کی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ قطر اور عرب ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے امریکا ثالثی کا کردار ادا کرسکتا ہے۔

امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے حکام کا کہنا تھا کہ امریکا اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ خطے کے ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کے تنازع کے حل کے لیے وہ مثر کردار ادا کرسکتا امریکی حکام کا کہنا تھا کہ امریکا کشیدگی کو حل کرنے کے لیے کام کررہا ہے اور یقین دلاتا ہے کہ امریکا اور اس کے عرب اتحادی دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف متحد ہیں۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ان کا مزید کہنا تھا کہ قطر نے حال ہی میں دہشت گرد گروپوں کو مالی امداد نہ دینے کے حوالے سے پیش رفت کی ہے لیکن اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

ادھر پینٹاگون کا کہنا ہے کہ قطر سے جاری سفارتی کشیدگی وہاں قائم امریکی ایئر بیس پر اثر انداز نہیں ہوگی، جو عراق، شام اور افغانستان میں آپریشن کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی ممالک کے درمیان شروع ہونے والی کشیدگی کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے سعودی عرب کے ‘دورے کے اثرات سامنے آنے لگے ہیں’ اور وہاں کی حکومتوں نے قطر کو دہشت گردوں کی معاونت پر تنہا کردیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ‘سعودی عرب کا دورہ، بادشاہ اور 50 ممالک سے ملاقات کے اثرات سامنے آرہے ہیں’۔ان کا کہنا تھا ‘میں نے کہا تھا کہ انتہا پسندی کے لیے فنڈنگ کرنے والوں کے خلاف سخت رویہ اپنایا جائے گا اور تمام حوالے قطر کی جانب جارہے تھے تاہم یہ خوفناک دہشت گردی کے خاتمے کی جانب پہلا قدم ہوگا۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اپنے دورے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماں کو خبردار کیا تھا کہ قطر ‘کٹر انتہا پسندی’ کے لیے فنڈنگ کر رہا ہے اور ان کے مطالبے پر ہی انھوں نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے قدم اٹھایا ہے۔دوسری جانب قطر کی وزارت خارجہ نے امریکی صدر ٹرمپ کے قطر پر انتہا پسندی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قطر انتہا پسندی کی حمایت نہیں کرتا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا قطر کے حوالے یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کویت کے امیر معاملے کو سلجھانے کے لیے سعودی عرب اور قطر کے درمیان مصالحت کی کوششوں کے سلسلے میں سعودیہ پہنچ چکے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے پیرس میں میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ ایران کو خطے میں مداخلت کی سزا ضرور ملنی چاہیے، ایران کو بطور ریاست بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا ہوگا۔انھوں نے زور دیا کہ سعودی عرب نے قطرکی پالیسیوں کے باعث سفارتی تعلقات ختم کیے، قطر کو حماس اور اخوان المسلمین کی حمایت ختم کرنا ہوگی۔امریکا کے 8 ہزار کے قریب فوجی قطر کے العدید ایئربیس میں موجود ہیں جو مشرق وسطی میں امریکا کا سب سے بڑا ایئربیس ہے اور اسی کی بدولت امریکا کی سربراہی میں دولت اسلامیہ (داعش)کے خلاف فضائی کارروائیاں کی جارہی ہیں جس نے شام اور عراق کے کئی علاقوں میں قبضہ جما رکھا ہے۔

امریکا کے ائیرفورس کے سیکرٹری ہیتھر ولسن نے سینیٹ کو بتایا کہ امریکی ائیربیس کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور امریکی کارروائی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔یاد رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں سعودی عرب، مصر، بحرین، یمن، متحدہ عرب امارات اور مالدیپ نے قطر پر دہشت گردی کی حمایت کے الزامات عائد کرتے ہوئے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔اس کے علاوہ لیبیا کی مشرقی حکومت کے وزیر خارجہ محمد دیری نے اپنے ایک بیان میں قطر سے تعلقات کے خاتمے کا اعلان کیا، تاہم انھوں نے فوری طور پر اس اقدام کی کوئی وضاحت نہیں کی تھی۔سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک کی جانب سے قطر سے سفارتی تعلقات ختم کیے جانے کے بعد پاکستان نے دوحہ سے تعلقات بحال رکھنے کا عندیہ دیا تھا۔

اس سے قبل 1991 میں امریکی اتحاد کی عراق کے خلاف جنگ کے دوران بھی ایسی ہی سیاسی کشیدگی پیدا ہوئی تھی اس موقع پر قطر نے 10 ہزار امریکی فوجیوں کو اپنے ملک میں قیام کی اجازت دی اور امریکی بیس بنائے گئے، جس پر متعدد عرب ریاستیں قطر کے خلاف ہوگئی تھیں، اس دوران متعدد عرب ممالک نے اپنی ایئر لائنز کو قطر کے لیے معطل کردیا تھا اور قطر سے ہر قسم کے سفارتی اور سرحدی تعلقات منقطع کردیے گئے تھے۔