بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / گواہوں کی طلبی کیلئے عدالتی سمن پاکستان کے حوالے

گواہوں کی طلبی کیلئے عدالتی سمن پاکستان کے حوالے


نئی دہلی ۔بھارت نے سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں 13 پاکستانی گواہوں کی طلبی کیلئے عدالتی سمن پاکستان کے حوالے کردیئے ۔بدھ کو بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی نے این آئی اے کیخصوصی عدالت کی طرف سے2007کے سمجھوتہ ایکسپریس کیس کے حوالے سے 13 پاکستانی گواہوں کو شہادتیں قلمبند کرانے کے لئے جاری سمن پاکستان کے حوالے کردیئے ہیں۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سمن ہریانہ کے علاقے پنچکولا کی ایک ٹرائل کورٹ کی طرف سے جاری کیے گئے جو سفارتی ذرائع سے پاکستانی حکام کے حوالے کیے گئے ہیں۔

تاہم فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکا کہ 13پاکستانی شہری پنچکولا کی عدالت میں پیش ہوئے کہ نہیں انکی شناخت معلوم نہیں ہوسکی ہیں۔ واضح رہے کہ 18 فروری 2007 کو پاکستان اور بھارت کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کی پاکستانی بوگیوں کو پانی پت ہریانہ سے گزرتے ہوئے انتہاپسند ہندو گروپ کے کارندوں نے بم دھماکے کا نشانہ بنایا۔ دھماکے سے ٹرین کی 3 بوگیاں تباہ اور اس میں سوار 100 کے لگ بھگ پاکستانی مسافر شہید ہوئے جن میں سے اکثر بوگیوں کو لگنے والی آگ میں کوئلہ بنے۔ بھارتی حکام نے پہلے سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا سیمی پر دھماکہ کرانے کا الزام دھرا تاہم بعد میں این آئی اے جو عموما دہشت گردی کے معاملات کی تحقیقات کرنے والی بھارتی ایجنسی نے دھماکے کی تحقیقات کی تو پتہ چلا اس میں ابھیمنیو بھارت نامی غیر معروف دہشت گرد تنظیم کا سرغنہ نابھا کمار سرکار المعروف سوامی اسیم آنند اور اس کے کارندے ملوث ہیں۔

جنہوں نے مندروں میں دھماکوں کا بدلہ لینے کیلئے مسلمانوں کے مذہبی مقامات، مزارات اور پاکستانیوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی۔ این آئی اے نے 20 جون 2011 کو سوامی اسیم آنند اس کے 4ساتھیوں سنیل جوشی (یہ مر چکا ہے) لوکیش شرما سندیپ دانگے، رام چندر کلاسنگرا کیخلاف عدالت میں فرد جرم داخل کی تھی۔ اس کے 6سال گزرنے پر بھی مجرموں کو سزا نہیں ملی۔ سوامی اسیم آنند کو پچھلے ہفتے درگاہ اجمیر شریف دھماکہ کیس میں بھی مودی سرکار کے دبا پر بری کر دیا گیا تھا۔ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ کیس کے تقریبا تمام بھارتی گواہ ہندو تنظیموں کی دھمکیوں مودی سرکار کے غیرمرئی دبا پر منحرف ہو چکے۔