بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / َخیبرپختونخوا میں بار برداری سروس التواء کا شکار

َخیبرپختونخوا میں بار برداری سروس التواء کا شکار


پشاور۔خیبرپختونخوامیں سستی ترین باربرداری کے لئے صوبہ کے دریاؤں میں دریائی کارگوسروس شروع کرنے کے حوالہ سے سال گذرنے کے بعدبھی کسی قسم کی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے ابتدائی مرحلے میں اٹک سے نوشہرہ تک مذکورہ سروس شروع کی جانی تھی اور سال بھر پہلے جونجی کمپنیوں سے صوبائی حکومت کے ساتھ رابطے بھی کیے تھے تاہم اس حوالہ سے معاملات آگے نہیں بڑھ سکے ہیں جسکے بعد صوبہ میں دریائی کارگو سروس شروع کرنے کاامکانات بھی معدوم ہوگئے ہیں۔

دوسری طرف صوبہ پنجاب میں میانوالی داؤدخیل سے اٹک تک دریائے سندھ میں آزمائشی کارگو سروس شروع کی جا چکی ہے جس کے لئے 120 ٹن وزنی بحری ٹرالہ تیارکیاگیاہے جس پر چھ کروڑ روپے لاگت آئی ہے یہ ٹرالہ 300ٹن تک ساما ن لے جانے کی صلاحیت رکھتاہے اس منصوبہ کے ذریعے دریائے سندھ میں چھوٹے بحری جہازوں کے ذریعے داؤد خیل سے اٹک تک سیمنٹ اورکھاد کی ترسیل روڈ ٹرانسپورٹ کے مقابلے میں سستی ہوجائیگی دوسرے مرحلے میں اسے تونسہ بیراج ملتان سے نوشہرہ تک اور بعدازاں پورٹ قاسم تک توسیع دی جائیگی ۔

خیبرپختونخوامیں یہ سروس ابتدائی طورپراٹک سے نوشہرہ تک لگ بھگ 50کلومیٹر تک شروع ہونی تھی اوربعد ازاں اسے دوسرے علاقوں تک وسعت دی جانی تھی ،واضح رہے کہ سڑک کے ذریعے ایک ٹن وزن ایک لیٹر پیٹرول میں 25کلومیٹر تک ،ریل میں 70کلومیٹرتک اور دریائی کارگو کے ذریعے 150کلومیٹر تک لے جایا جاسکتاہے