بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / حسین نواز کی جے آئی ٹی کے سامنے 5ویں پیشی

حسین نواز کی جے آئی ٹی کے سامنے 5ویں پیشی

اسلام آباد۔ وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نوازپاناکیس کی تحقیقات کے لئے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پانچویں بار پیش ہو ئے اور پونے پانچ گھنٹے تک ان سے پوچھ گچھ کی گئی،دوسری طرف حسین نواز نے کہا ہے کہ ہم نے کوئی جرم کیا نہ ہی جے آئی ٹی کو کوئی ثبوت ملے گا ، اگرکسی کا جرم ثابت ہو تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، دنیا کی کوئی عدالت شکوک و شبہات کی بنیاد پر کسی کے خلاف کارروائی نہیں کرتی ،ستم ظریفوں نے تونبی کریم ﷺکی ازواج مطہرات پر بھی شکوک و شبہات اٹھا دیئے تھے جس پر اللہ تعالی ٰ نے اپنی کتاب میں ان کی حرمت کو برقرار رکھا،جو سوالات پوچھے جا رہے ہیں ۔

ان کی نوعیت سے لگتا نہیں کہ مستقبل قریب میں جے آئی ٹی مجھے پھر بلائے تاہم مجھے چھٹی بار بلانے یا نہ بلانے کی کمٹمنٹ بھی نہیں دی گئی، اگر بلایا گیا تو قانون کی پاسداری کرتے ہوئے پیش ہو ں گا ،فی الحال الیکشن لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ، ایک خاص سیاسی جماعت کی وجہ سے پاناما کیس اٹھایا گیا ہے ،جس کمرے میں تفتیش ہوتی ہے وہاں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں، کارکنوں کی حمایت اور محبت پر ان کا شکر گزار ہوں،جمعہ کو پاناما کیس کی تحقیقات کے لئے قائم جے آئی ٹی کا اجلاس ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیاء کی زیر صدارت وفاقی جوڈیشل اکیڈمی میں ہوا ، وزیر اعظم کے بڑے صاحبزادے حسین نوازجے آئی ٹی کے سامنے پانچویں بار پیش ہونے کے لئے سخت سیکیورٹی میں دن گیارہ بجے جوڈیشل اکیڈمی پہنچے ،اس موقع پر مسلم لیگ نون کے رہنما وزیر مملکت طارق فضل چوہدری، ڈاکٹر آصف کرمانی ، دانیال عزیز اور دیگر رہنما اور کارکنان موجود تھے جنھوں نے حسین نواز کی آمد پر شیر آیا ،شیر آیا کے نعرے لگائے ، حسین نواز نے پونے پانچ گھنٹے جوڈیشل اکیڈمی میں گزارے جہاں جے آئی ٹی کے ارکان ان سے انکی کمپنیوں اور لندن فلیسٹس کی خریداری سمیت بیرون ملک سرمائے کی منتقلی سے متعلق باری باری سوالات کرتے رہے ، جے آئی ٹی کی کارروائی کے دوران نماز کا وقفہ بھی ہوا، جے آئی ٹی ارکان اور حسین نواز نے جوڈیشل اکیڈمی کی مسجد میں نماز ادا کی ،نماز کی ادائیگی کے بعد دوبجے دوبارہ جے آئی ٹی کی کارروائی شروع ہوئی جو سہہ پہر پونے چار بجے تک جاری رہی ، حسین نواز جوڈیشل اکیڈمی سے باہر آئے تولیگی کارکنان نے پر جوش نعروں سے ا ن کا استقبال کیا ، اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حسین نواز نے کہا کہ گرمی اور روزے کے باوجود کارکنوں اور میڈیا کے نمائندوں کی موجودگی اور ان کی محبت اور حمایت کا شکر گزار ہواور سب کے لئے دعا گو ہوں۔

اپنے گھروں میں بیٹھ کر جو بہن بھائی میرے لئے دعا کرتے ہیں اور نیک خدشات رکھتے ہیں ان کا بھی شکر گزار ہوں،آج میری پانچویں پیشی تھی۔مجھے پانچ بار بلایا گیا اور میں آیا اور ائندہ بھی بلایا گیا تو آوں گا، انہوں نے کہا کہ جو سوالات پوچھے جا رہے ہیں ان سے لگتا نہیں کہ جے آئی ٹی مستقبل قریب میں مجھے پھر بلائے گی اور نہ ہی مجھے دوبارہ سمن دیا گیا ہے۔مجھے دوبارہ بلانے یا نہ بلانے کی کمٹمنٹ نہیں دی گئی ،جس کمرے میں تفتیش ہوتی ہے وہاں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں، انھوں نے کہا کہ نہ کوئی جرم کیا ہے اورنہ ہی کوئی ثبوت ہے ،اگر کسی نے جرم کیا ہو اور وہ ثابت ہوجائے تو اس کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔شکوک وشبہات پر کسی کے خلاف کاروائی نہیں کی جاسکتی۔شک سے بچنا چاہیے یہ ایک شیطانی عمل ہے ۔دنیا کی کوئی عدالت شکوک وشبہات پر کارروائی نہیں کرتی ، شکوک و شبہات تو انسان کو اپنی ذات پر بھی ہو جاتے ہیں، ستم ظریفوں نے تونبی کریم ﷺکی ازواج مطہرات پر بھی شکوک و شبہات اٹھا دیے تھے۔

جس پر اللہ تعالی ٰ نے اپنی کتاب میں ان کی حرمت کو برقرار رکھا،ایک سوال کے جواب میں حسین نواز نے کہا کہ تحقیقات سے مجھے نہیں جے آئی ٹی والوں کو مطمن ہونا ہے اور جوسوالات پوچھ جاتے ہیں وہ نارمل سوالات ہوتے ہیں،ایک خاص سیاسی جماعت کی تحریک کی وجہ سے یہ معاملہ آٹھایا گیا۔سیاست میں آنے کے سوال کے جواب میں حسین نواز نے کہا کہ ان کا الیکشن لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں۔حسن نوازکا میڈیا سے بات نہ کرنے کا ذاتی فیصلہ تھا ۔میں برطانیہ نہیں جا رہا ہوں ۔