بریکنگ نیوز
Home / کالم / ملت اسلامیہ میں ایک اور دراڑ

ملت اسلامیہ میں ایک اور دراڑ

سعودی عرب اور عرب امارات کے حکمران سیاسی اکھاڑے کے ایک طرف کھڑے نظر آ رہے ہیں اور قطراور ایران دوسری جانب‘ یہ صورتحال اتحاد مسلمہ کیلئے کوئی اچھی علامت نہیں چونکہ قطر کے حکمران سعودی عرب اور عرب امارات کی ہر جائز اور ناجائز بات کو آنکھیں بند کرکے نہیں مانتے اس لئے ان ممالک کے درمیان جھگڑا تو ایک دن ہونا تھا سو اس کی ابتدا نظر آنے لگی ہے سعودی عرب اور اس کے حلیف عرب امارات کے شیوخ نے قطر کا قافیہ تنگ کرنے کیلئے اس کا ہر قسم کا زمینی اور فضائی راستہ بند کر دیا ہے اس کے جواب میں ایران نے اعلان کردیا ہے کہ وہ قطر کوخوراک کی سپلائی پہنچانے کیلئے اپنی تین بندر گاہوں کے استعمال کی اجازت دے رہا ہے اس اعلان سے سعودی عر ب اور عرب امارات کا سیخ پا ہونا ایک فطری عمل تھا لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ سب کچھ یکدم چشم زدن میں کیسے ہو گیا۔

قطرکی حکومت کا کہنا یہ ہے کہ اس کی سرکاری نیوز ایجنسی کو 24 مئی کو ہیک کیا گیااور اس کے ذریعے قطر کے حکمران امیر تمیم بن حماد الثانی کا ایک بیان جاری کیا گیا کہ جس میں ان سے یہ بات منسوب کی گئی کہ عربوں کی ایران دشمنی کا کوئی جواز نہیں ہے اس نے قطر کے امیر کے لتے لینے شروع کر دیئے قطر میں عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ باوجود اس حقیقت کے قطر گلف کو آپریشن کونسل کا رکن ہے سعودی عرب اور عرب امارات کے حکمران اس کے خلاف ایک معاندانہ رویہ رکھتے ہیں عرب امارات کے شیوخ قطر سے اس بات پر نالاں بھی ہیں کہ وہ مذہبی تنظیم مسلم بردرھڈ کی معاونت کرتا ہے جس پر عرب امارات میں پابندی لگی ہوئی ہے یہ اختلاف جو آج کل قطر اور عرب امارات کے درمیان ابھر کر سامنے آیا ہے اسکی تہہ تک پہنچنے کیلئے ہمیں 1995ء میں جانا پڑے گا۔

جب قطر کے موجودہ حکمران امیر تمیم کے والد نے اپنے غیر ذمہ دار باپ کو حکمرانی سے معزول کیا تھا اس دن سے سعودی بادشاہ اور عرب امارات قطر کے حکمران کی اپنے والدکیخلاف بغاوت کی وجہ سے ان سے ناراض ہو گئے تھے کیونکہ ان کو خدشہ پیدا ہو چلا تھا کہ اس قسم کی بغاوت کا چلن ان کے ہاں بھی کہیں جڑ نہ پکڑ لے چنانچہ سعودی عرب اور عرب امارات نے ایک سازش بھی تیار کی تھی کہ کسی طریقے سے حماد کو قتل کروا کر اس کے معزول والد کو دوبارہ تخت پر بٹھا دیا جائے لیکن وہ اس لئے ناکام ہو گئی کہ اس کا راز افشا ہو گیا اگر اس پس منظر کے تناظر میں موجودہ حالات کو پر کھا جائے تو بات سمجھ میں آجاتی ہے اس دوران قطر کے بعض سرکردہ شیوخ اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔

کہ اس بحران کو کسی نہ کسی طریقے سے ختم کیا جائے بات چیت شروع ہے تادم تحریر کوئی حتمی فیصلہ تو نہیں ہوا لیکن عین ممکن ہے کہ اس کالم کے چھپنے تک مشرق وسطیٰ میں اس تنازعے سے پیدا ہونیوالی صورتحال درست ہو جائے جہاں تک قطر کا تعلق ہے تقریباً20لاکھ افراد پر مشتمل یہ ملک دنیا کا مالدار ترین ملک ہے اس میں دنیا کے سب سے زیادہ قدرتی گیس کے ذخائر پائے جاتے ہیں اور وہ برطانیہ سے لیکر جاپان تک ہر ملک سے تجارت کر رہا ہے قطر میں امریکہ کا ایک بڑا فوجی اڈہ بھی ہے جہاں سے امریکی جنگی طیارے اڑان بھر کر افغانستان اور عراق پر بمباری کرتے آئے ہیں امیر تمیم جو کہ قطر کاحکمران ہے اس کی ترجیحات میں پہلی ترجیح یہ ہے کہ وہ امریکہ کا ایک اچھا اتحادی رہے لیکن وہ کوئی ایسا قدم بھی نہیں اٹھانا چاہتا کہ جس سے ایران خواہ مخواہ ناراض ہو جائے ۔