بریکنگ نیوز
Home / کالم / عوام بیدارہوں

عوام بیدارہوں


ملک کے اندر جمہوریت وہی سیاسی پارٹیاں لاسکتی ہیں کہ جو سب سے پہلے اپنی پارٹی کے اندر جمہوریت لائیں، ملک کے اندر موروثی سیاست و حکمرانی کو وہی سیاسی پارٹی ختم کر سکتی ہے کہ جو اس سے پیشتر اپنی پارٹی کے اندر موروثیت اور شخصیت پرستی کا خاتمہ کرے ایک آدھ سیاسی پارٹی کو چھوڑ کر دیگر تمام سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے اندر جمہوریت نہیں بلکہ موروثیت ہے ہم ان کے نام لینا نہیں چاہتے ہمارے قارئین اس ضمن میں ہم سے زیادہ جاننے والے ہیں الیکشن کمیشن کو بہکانے اور عوام کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کیلئے اس ملک کی اکثر سیاسی پارٹیاں، پارٹی کے اندر انٹرا پارٹی الیکشن تو کراتی ہیں پر ان کی جمہوری حیثیت اس لئے نہیں ہوتی کہ پارٹی کے صوبائی کیڈر سے لیکر تحصیل کیڈر تک تمام عہدوں پر اوپر سے نامزدگیاں ہوتی ہیں پارٹی کے قائد کی جس پر بھی نظر کرم ہو اسے باآسانی منتخب کرلیاجاتا ہے ورکرز یا تو چپ کر جاتے ہیں اور یا پھر رودھوکر صبر کا دامن پکڑ لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم نے تقریباً تمام سیاسی جماعتوں میں اقتدار اس طرح ٹرانسفر ہوتے دیکھا ہے کہ جس طرح وراثت باپ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اولاد میں تقسیم ہوجایا کرتی ہے۔ یہ بات اپنی جگہ کچھ حد تک درست ہے کہ انسان وقت کے ساتھ ساتھ سیکھتا ہے وہ تجربات کی روشنی میں ان غلطیوں سے اجتناب کرتا ہے کہ جو ماضی میں اس سے سرزد ہوتی ہیں ہم کسی بھی سیاسی پارٹی کے انٹرا الیکشن کو سو فیصد تسلی بخش قرار نہیں دے سکتے پر اس ملک میں جو سیاسی پارٹی بھی اس جانب اخلاص اور سنجیدگی سے قدم اٹھائے گی یا اٹھاتی ہے ہم تو اس سیاسی پارٹی کو صحیح معنوں میں جمہوریت پر یقین کرنے والی کہیں گے کہ جو اوپر سے نامزدگیوں کی لعنت ختم کرے اور پارٹی کے اندر آزادانہ اور بغیر کسی تعصب کے الیکشن کروائے اس کا ایک آسان اور قابل عمل طریقہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اولاً سب سے پہلے توہر سیاسی پارٹی کے اندرجو پارٹی سیکرٹریٹ ہے۔

اس کے پاس پارٹی اراکین کی مکمل فہرست موجود ہو ہر ورکر یا رکن کا شناختی کارڈ نمبر بھی اس کے پاس درج ہو ثانیاً دوسرے مرحلے میں سب سے پیشتر ہرتحصیل کی سطح پر الیکشن کرائے جائیں پھر ضلع کی سطح پر، اس کے بعد صوبے کی سطح پر اور آخر میں مرکزی سطح پر۔ اوپر سے پارٹی اراکین کو بالکل کوئی اشارہ نہ دیاجائے کہ فلاں کو فلاں پوسٹ کیلئے منتخب کرنا ہے پارٹی کے ہر رکن کو کھلی اجازت ہو کہ وہ اگر پارٹی کے کسی تحصیل‘ ضلعی‘ صوبائی یا مرکزی عہدے کیلئے الیکشن لڑنا چاہے تو وہ بلاخوف اپنے لئے الیکشن کی تاریخ سے پہلے کنویسنگ کرے، ووٹنگ موبائل فون کے ذریعے بھی ہوسکتی ہے یا اس کیلئے روایتی طریقہ کار بھی اپنایاجاسکتاہے اس فرد کو وہ عہدہ سونپا جائے کہ جس کیلئے اس نے الیکشن لڑا ہو اور سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے ہوں کوئی بتائے کہ اگریہ شفاف طریقہ کار اپنایاجائے تو اس میں کیا قباحت ہے دوسری اہم بات پارٹی فنڈنگ کی ہے کیش کی صورت میں کسی شخص کو اجازت نہ ہو کہ وہ کسی پارٹی کو چندہ دے اس کیلئے بنک چیک یا ڈرافٹ سسٹم اپنایاجائے ویسے سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ تمام پارٹی اراکین پر لازم کیاجائے کہ وہ ایک واجبی فیس بذریعہ بنک ہر سال پارٹی فنڈ میں جمع کریں۔