بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پشاور میں غیر قانونی کارپارکنگ کا دھندہ عرج پر

پشاور میں غیر قانونی کارپارکنگ کا دھندہ عرج پر

پشاور۔ ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس پشاور میں غیر قانونی کارپارکنگ کو روکنے میں ناکام ہو گئی ہے ٗپشاور ہائی کورٹ کے سامنے روڈ پر فلائی اوور کے ساتھ غیر قانونی کارپارکنگ قائم کی گئی ہے جس کی آمدن پشاور ہائی کورٹ بار اور احاطہ کچری میں قائم پارکنگ کی آمدن ڈسٹر کٹ بار کونسل وصول کرتی ہے ان دونو ں کارپارکنگ کی آمدن لاکھوں روپے ماہانہ ہے ٗ اسی طرح لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے باہر اور ڈبگری گارڈن میں غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے آئے روز نہ صرف ٹریفک جام رہتا ہے بلکہ کارپارکنگ مافیا ماہانہ کروڑو ں روپے کما رہا ہے۔

ٗڈبگری گارڈن میں پلازہ مالکان نے کارپارکنگ میں دکانیں تعمیر کر کے بھاری کرائے پر دے رکھی ہیں ٗ یوں تو تمام پلازو ں میں تعمیر کے وقت قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے نقشے میں کارپارکنگ دکھائی گئی ہے ٗ لیکن بعد میں ان میں دکانیں اور لیبارٹریاں تعمیر کر کے بھاری کرائے پر دے دی گئی ہیں ٗان پلازوں کے مالکان اتنے با اثر ہیں کہ پولیس اور کنٹومنٹ حکام بھی ان پر ہاتھ ڈالنے سے کتراتے ہیں ٗموجودہ صو بائی حکو مت نے اپنے ابتدائی ایام میں ان پلازوں میں پارکنگ بحال کر نے اور خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کیا گیا ان میں دو پلازوں کو سیل کیا گیا لیکن خفیہ ہاتھوں نے نہ صرف پلازے کھلوا لئے بلکہ باقی پلازو ں کے خلاف تحقیقات بھی سرد خانے کی نذد ہو گئیں ٗجس میں بعض سیاست دانو ں اور اعلیٰ افسرو ں نے اہم کردار ادا کیا ہے اس مک مکا کا خمیازہ آج پشاور کے عوام ٹریفک جام کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔

پشاور کے سماجی حلقو ں نے صو بائی حکو مت نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی چھان بین کر کے اصل حقائق عوام کے سامنے لائیں اور فور ی طور پر کارپارکنگ نہ رکھنے والے پلازوں کو سیل کیا جائے تا کہ ڈبگری گارڈن میں آئے روز کی ٹریفک جام کے سنگین مسئلے سے چھٹکارہ حاصل کیا جاسکے ۔ان کا کہنا ہے کہ ڈبگری گارڈن میں قبضہ گروپو ں کو کارپارکنگ کے ٹھیکے دےئے گئے ہیں جو متعلقہ سرکاری افسروں کو بھاری بھتہ دیتے ہیں اور گاڑیاں پارک کر نے والو ں سے زیادہ رقم وصول کر تے ہیں ۔