بریکنگ نیوز
Home / کالم / بجلی بحران: تسلسل!

بجلی بحران: تسلسل!


توانائی کا کوئی ایسا غیرپائیدار حل پاکستان کے حق میں مفید قرار نہیں دیا جاسکتا جو قومی خزانے اور عوام کی جیبوں پر بھاری ہو۔ حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں توسیع کے جن بڑے منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے‘ ان میں بہت زیادہ پیداواری صلاحیت لانے کی ذمہ داری کا رسک شامل ہے‘ جس سے ہمیں ان بجلی گھروں کے مہنگے بل ادا کرنیکا بوجھ اٹھانا پڑیگا جو سال کا زیادہ تر حصہ بجلی پیدا نہیں کریں گے۔کچھ عرصہ قبل تک یہ بات‘ مسلسل سننے کو مل رہی تھی اور اسکی صداقت کے آثار بھی دیکھنے کو مل رہے تھے لیکن حال ہی میں اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے۔ وزیر اعظم نے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے توانائی کے مزید دو منصوبوں کی منظوری دی‘ جنہیں گزشتہ برس درآمد شدہ ایندھن پر چلنے والے منصوبوں کو محدود کرنے کے سلسلے میں ترک کر دیا گیا تھا دو منصوبوں میں رحیم یار خان اور مظفر گڑھ میں قائم کوئلے سے بجلی پیدا کرنیوالے پلانٹس شامل ہیں جن سے اب درآمد شدہ ایل این جی سے بجلی پیدا کی جائیگی۔ دونوں منصوبے حکومت پنجاب نے شروع کئے تھے اگر ان پلانٹس پر کام شروع کرنا بھی ہے تو حکومت کو سب سے پہلے درآمد شدہ ایندھن سے بجلی پیدا کرنے پر عائد پابندی ختم کرنی ہوگی اور اس پابندی کے خاتمے کو درست ثابت کرنے کیلئے اسے مستقبل میں توانائی کی طلب کے اندازوں پر نظر ثانی بھی کرنا پڑے گی

کیونکہ موجودہ اندازوں‘ جن کی بنیاد پر ہی توانائی کے شعبے میں توسیع کا پورا منصوبہ مرتب کیا گیا ہے‘ کا جائزہ لیں تو پاکستان کے پاس چند سالوں کے اندر ہی ضرورت سے زیادہ توانائی کی پیداواری صلاحیت ہوگی۔ لوگ طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے تکلیف سہہ رہے ہیں‘ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے اپنے وعدے پورے نہ کر پانے کی وجہ سے میڈیا میں حکومت کا تماشا لگا ہوا ہے‘ پانی و بجلی کی وزارت دفاعی انداز میں اپنی خراب صورتحال کو سمجھانے میں کوشاں ہے اور بس یہی موقع ہے کارگر وار کرنے کا! لہٰذا نجی شعبے نے اپنی اس بات کے ساتھ وار کیا کہ وزارت نے تو جہاں پناہ وزیر اعظم کو ’’گلابی‘‘ اندازوں کے ساتھ گمراہ کیا ہے! درحقیقت بجلی کی کھپت ان تمام اندازوں کے مقابلے تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ جہاں پناہ کی پالیسیوں نے ترقی کی راہیں ہموار کر دی ہیں اور لوگ برقی آلات خریدنے کی استطاعت رکھنے لگے ہیں چنانچہ ہمیں متوقع ترقی میں زبردست اضافے اور بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب کو مد نظر رکھتے ہوئے توانائی کی طلب کے اندازوں پر دوبارہ نظر ثانی کرنیکی ضرورت ہے اور اسی لئے مستقبل میں توانائی کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے منصوبوں کے فوری طور پر معاہدے کئے جائیں تا کہ ایک بار ان منصوبوں کے فعال ہو جانے پر مستقبل کی توانائی کی طلب پوری کی جاسکے یہ بات کچھ عرصے سے ذرائع ابلاغ میں زیرگردش رہی۔ آخری بار یہ گزشتہ ہفتے انتیس اور تیس مئی کو ہونے والے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاسوں میں بھی سننے کو ملی۔ دونوں اجلاسوں میں ایک پریشان وزیر اعظم‘ ملک میں بڑھتے بجلی بحران کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے اس بے چینی کا شکار تھے کہ وہ مسئلے کو پوری طرح سمجھنے کی حالت میں بھی نظر نہیں آئے جب انہوں نے گردشی قرضے کا پوچھا تو پانی و بجلی کی وزارت نے وزارت خزانہ سے مختلف شرح بتائی جب انہوں نے طلب اور کھپت کے درمیان فرق دریافت کیا تو انکی وزارت اور ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے بتائی گئی شرح میں تضاد تھاجب انہوں نے بے کار پڑے بجلی گھروں کا پوچھا تو جواب میں انہیں انکے نزدیک پرانی ٹیکنالوجی اور زیر سماعت مقدمات کے تکنیکی اور پیچیدہ جوابات دیئے گئے۔ وزارت پانی و بجلی اپنے انجن پوری رفتار کے ساتھ چلاتی ہے اور چند دنوں میں توانائی کی پیداوار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ پھر وزیر پانی و بجلی اور مریم نواز توانائی کی بڑھتی پیداوار کے بلند و بالا ہندسوں کی سکرین شاٹس ٹوئیٹ کرتے ہیں‘ جس میں ریکارڈ اُنیس ہزار میگا واٹ سے بھی زائد پیداوار دیکھنے کو ملتی ہے۔ پھر ساتھ ہی مریم کی جانب سے یہ سوال بھی درج تھا کہ ’’کیا آپ کے پاس لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے؟‘‘ مگر اتنے اقدامات کے باوجود بھی کچھ خاص فائدہ حاصل نہ ہوا۔ کابینہ کمیٹی برائے توانائی اجلاس میں وزیر اعظم حکومت پنجاب کی گمراہ کن دلیل کے چکر میں آ جاتے ہیں

اور رحیم یار خان میں واقع درآمد شدہ ایندھن پر چلنے والے ایک نئے اور بڑے توانائی منصوبے کی منظوری دے بیٹھتے ہیں۔ یہ دیکھ کر اُنیس سو نوے کی دہائی کا وہ زمانہ یاد آتا ہے جب انیس سو چورانوے کی ’آئی پی پی‘ پالیسی کے تحت حکومت کو دو ہزار میگاواٹ سے زائد توانائی منصوبے کا معاہدہ نہ کرنے کی تجویز دی گئی تھی جبکہ بقیہ توانائی ضرورت کو آئی پی پیز کے تحت توانائی شعبے میں ہونیوالی اصلاحات سے برآمد ہونے والے نتائج سے پورا کرنے کی تجویز دی گئی۔ اس کے بجائے حکومت نے ساڑھے چار ہزار میگا واٹ والے منصوبوں کے معاہدے کئے اور اصلاحات پر دھیان ہی نہیں دیا۔ دنیا جانتی ہے کہ ایسی حکمت عملیوں کا ماضی میں انجام کیا ہوا‘ اور جس بجلی کے بحران کو حل کرنے کے لئے کوششیں کی گئیں وہ نہ صرف موجود رہا بلکہ اس کی شدت میں ہر گزرتے دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: خرم حسین۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)