بریکنگ نیوز
Home / کالم / یہ کھیل نہیں آساں

یہ کھیل نہیں آساں


بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ اگر ان کے چار مطالبات نہ مانے گئے تو وہ ’گو نواز گو‘ کا نعرہ بلند کردیں گے اور جب وہ اس نعرے کے ساتھ میدان میں نکلیں گے تو حکمرانوں کو لگ پتہ جائے گاکہ حکومت مخالف تحریک اصل میں ہوتی کیا ہے۔ بلاول بھٹوکو کوئی سمجھائے کہ وہ وقت گزر گیا جب سیاسی رہنما محض جوش خطابت کے ذریعے عوام کو شیشے میں اتار لیا کرتے تھے ۔ ملک میں میڈیا کے جاندارکردار اور عوامی شعور میں اضافے نے قوم کی اکثریت کو اس قابل بنا دیا ہے کہ اب وہ جذباتی تقاریر کو دل میں اتارنے سے پہلے انہیں عقل کی کسوٹی پر ضرورپرکھتی ہے ۔سانحہ کارساز کے شہداء کی برسی منانے کے بعد پی پی پی کے چیئرمین کا ایک پریس کانفرنس کے دوران مسلم لیگ (ن) کی قیادت و موجودہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لینا بھی عقل کی کسوٹی پر پرکھا جا رہا ہے ۔ سانحہ کارساز کو نو سال گزرنے کے بعد اس سانحے کے متعددذمہ داروں کا قانون کی گرفت سے دورر ہونا اور سانحے کے متاثرین کو امداد وبحالی جیسے معاملات کے حوالے سے تنہا چھوڑ دیا جانا بہت سے سوالات کو جنم دینے کا باعث بنا ہے ۔ کیا بلاول بھٹو کو اپنی پارٹی کے قائدین سے جو سانحہ کار ساز کے بعد پانچ سال تک وفاقی سطح پر بر سر اقتدار رہے اور پچھلے آٹھ سال سے سندھ کی حکومت چلا رہے ہیں یہ حساب نہیں لینا چاہئے کہ ’’وہ سانحہ کارساز کے تمام ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے اور متاثرین کی دیکھ بھال اور بحالی میں کیوں ناکام رہے‘۔سوال تو بلاول کو پارٹی قائدین سے یہ بھی پوچھنا چاہئے کہ’ان کی والدہ کو دن دیہاڑے شہید کرنے والوں کو انجام تک پہنچانے کیلئے پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور اقتدار میں کیا ہوا؟ خصوصاََانکی والدہ کے ایک مبینہ قاتل و آئین شکن شخص کواس کے مبینہ جرائم کی سزا دلوانے کیلئے پی پی پی کی حکومت نے کیاکیا ؟ اور اس کو قصرصدارت سے گارڈ آف آنر کے ساتھ رخصت کرتے وقت پی پی پی کی قیادت نے بہت کچھ فراموش کیوں کر ڈالا؟

بلاول بھٹو اکثر و بیشتراپنی تقاریر میں اپنے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو کی ملک کیلئے خدمات کا ذکر کرتے ہیں لیکن وہ اس معاملے کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انکے سیاسی و خاندانی وارثوں نے حکمرانوں کی حیثیت سے کیا کارہائے نمایاں سر انجام دےئے ؟ملک کو کن کن بحرانوں سے نجات دلائی گئی؟ عوام کے معیار زندگی کو کن کن مثبت تبدیلیوں سے ہمکنار کیا گیا؟ پارٹی کے اندر موجود آمریت کے خاتمے اور پارٹی کو حقیقی جمہوری قوت بنانے کیلئے کن کن اصلاحات کا ہاتھ تھاما گیا ؟ مذکورہ عرصے کے دوران ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی سکینڈل،رینٹل پاور پراجیکٹ سکینڈل،ایفی ڈرین کوٹہ سکینڈل سمیت سامنے آنے والے بدعنوانی کے واقعات پر پارٹی کی سطح پر کیا ایکشن لیا گیا ؟پی پی پی حکومت کی بدنامی کا باعث بننے والے ان واقعات کی پارٹی کی سطح پر چھان بین کیوں نہیں ہوئی اور ان واقعات میں مبینہ طور پر ملوث پارٹی رہنماؤں سے پوچھ گچھ کیوں نہیں کی گئی ؟

ملک گیر سیاسی جماعت کی حیثیت رکھنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کو مئی 2013ء کے عام انتخابات میں صرف صوبہ سندھ تک محدود کر کے پاکستان کے عوام نے جو پیغام دیا تھا اگر اسے سمجھ لیا گیا ہے تو پھر ان انتخابات کوتین سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی پی پی پی اس پیغام کے تقاضوں کی تکمیل کرتے ہوئے کیوں نظر نہیں آتی؟ اگر پیپلز پارٹی کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ وہ پانامہ لیکس موجودہ حکومت کی انتظامی و سیاسی کمزوریوں اور عوام کو درپیش مسائل ومشکلات جیسے ایشوزکے تناظر میں حکو مت کے خلاف علم احتجاج بلند کر کے مملکت کے عوام کی اکثریت کو اپنے پیچھے چلا لے گی تو یہ خام خیالی ہے ملک کے دیگر شعبوں کی طرح میدان سیاست میں بھی سخت مقابلے کا رجحان ہے اور مقابلے کی اس دوڑ میں آگے بڑھنے کی غرض سے پی پی پی کیلئے قومی ایشوز پر اپنا موقف سامنے لانے کیساتھ ساتھ سابقہ کوتاہیوں کے ازالے پر بھی توجہ دینی ہوگی اور اندرونی معاملات کی اصلاح کا عمل بھی جلد از جلد مکمل کر ناہو گا۔ دوسری صورت میں 2018ء کے عام انتخابات کا نتیجہ بھی پیپلز پارٹی کیلئے 2013ء سے مختلف نہیں ہو گا۔