بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / حکومت مشال قتل کیس دوسرے ضلع منتقل کرنے پر آمادہ

حکومت مشال قتل کیس دوسرے ضلع منتقل کرنے پر آمادہ


پشاور۔خیبرپختونخواحکومت نے عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالبعلم مشال قتل کیس کی دوسرے ضلع منتقلی پرآمادگی کااظہارکیاہے اورکہاہے کہ سکیورٹی خدشات کی بناء پرمقدمے کی سماعت جیل کے اندرہی کی جاسکتی ہے یہ بات ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخواعبداللطیف یوسفزئی نے جمعرات کے روز پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس عبدالشکورپرمشتمل دورکنی بنچ کے روبرو مشال کے والد ا قبال خان کی جانب سے دائررٹ کی سماعت کے دوران عدالت کو بتائی فاضل بنچ نے عبداللطیف آفریدی ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائررٹ کی سماعت شروع کی تو اس موقع پرایڈوکیٹ جنرل عبداللطیف یوسفزئی نے عدالت کو بتایا کہ خیبرپختونخواحکومت کو مشال قتل کیس کی سماعت دوسرے ضلع کی انسداددہشت گردی کی عدالت میں منتقلی پرکوئی اعتراض نہیں ہے۔

علاوہ ازیں مقتول کے والد نے سکیورٹی خدشات بھی اظہارکیاہے اس بناء مقدمے کی سماعت جیل کے اندربھی کی جاسکتی ہے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ درخواست گذار نے ہری پورمیں کیس کاٹرائل منتقل کرنے کی استدعا کی ہے تاہم وہاں انسداد دہشت گردی کی عدالت نہیں ہے اورفریقین کاجواب سننے کے بعد دوسرے ضلع مقدمہ منتقل کردیاجائے گا۔

عدالت نے بعدازاں رٹ کی سماعت اگلی پیشی تک ملتوی کردی واضح رہے کہ عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالبعلم مشال خان کے والداقبال خان نے پشاورہائی کورٹ میں رٹ دائرکررکھی ہے جس میں موقف اختیار کیاگیاہے کہ درخواست گذار کے بیٹے مشال خان کو عبدالولی خان یونیورسٹی میں 13ٗ اپریل2017ء کو ایک سازش کے تحت توہین رسالت کے الزام میں بے دردی سے قتل کردیاگیاہے اورجائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ سے بھی یہ ثابت ہوا ہے کہ اس پرتوہین رسالت کاالزام ثابت نہیں ہوا ہے جبکہ مقدمے کی سماعت اب مردان کی انسداددہشت گردی کی۔

عدالت میں ہوناہے جبکہ مقدمے کے فریقین کی جانب سے وہ خطرہ محسوس کرتے ہیں اوراس حوالے سے انہیں دھمکیاں بھی موصول ہورہی ہیں جبکہ راضی نامے کے لئے دباؤبھی ڈالاجارہا ہے اس بناء مقدمے کی سماعت مردان سے منتقل کرکے ہری پوریاکسی دوسرے ضلع کی خصوصی عدالت میں کی جائے ۔